Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
81134

حديث " تين مسجدوں كے علاوہ كہيں اعتكاف نہيں " كے بارہ ميں

علامہ البانى رحمہ اللہ نے اپنے پمفلٹ " قيام رمضان " ميں اعتكاف كے متعلق درج ذيل كلام لكھى ہے:
" پھر مجھے ايك صحيح اور صريح حديث ملى ہے جو ان مساجد كو مخصوص كرتى ہے، اور وہ حديث " تين مسجدوں كے علاوہ كہيں اور اعتكاف نہيں " ہے. اور انہوں نے اشارہ كيا ہے كہ طحاوى، اور بيھقى، اور الاسماعيلى ميں يہ روايت حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے، اور السلسلۃ الصحيحۃ ميں بھى درج ہے، تو اس حديث كا حكم كيا ہے ؟
اور اس موضوع ميں اس حديث سے كيا حاصل ہوتا ہے، يعنى يہاں نفى تحريم ہے، يا كہ نفى كمال، اور اگر ہے تو اس كا قرينہ كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

كتاب و سنت اور اجماع اس پر دلالت كرتے ہيں مساجد ميں اعتكاف كرنا مستحب ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ہم نے ابراہيم اور اسماعيل عليہم السلام سے وعدہ ليا كہ تم ميرے گھر كو طواف كرنے والوں، اور اعتكاف كرنے والوں، اور ركوع و سجدہ كرنے والوں كے پاك صاف ركھو }البقرۃ ( 125 ).

اور ايك دوسرے مقام پر فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تم جب مسجدوں ميں اعتكاف كر رہے ہو تو ان ( بيويوں ) سے مباشرت مت كرو }البقرۃ ( 187 ).

اور كئى ايك اہل نے اس پر اجماع نقل كيا ہے"

ديكھيں: الاجماع لابن منذر ( 47 ) اور المغنى ابن قدامہ ( 3 / 122 ).

جہاں اعتكاف كرنا مشروع ہے اس كى صفت ميں چاہے علماء كا اختلاف ہے، ليكن ہر وہ مسجد جہاں باجماعت نماز پنجگانہ اور جمعہ ادا كيا جاتا ہے، اس ميں اعتكاف كرنے كے جواز ميں فقھاء كا اختلاف نہيں، اور اس ميں بعض تابعين كى مخالفت كے علاوہ كسى اور كا اختلاف نہيں ہے.

اس مسئلہ كى تفصيل اسى ويب سائٹ پر سوال نمبر ( 49006 ) اور ( 48985 ) كے جوابات ميں بيان ہو چكى ہے، آپ ا سكا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

رہا مسئلہ سوال ميں مذكور حديث " تين مسجدوں كے علاوہ اعتكاف نہيں " تو يہ حديث جليل القدر صحابى حذيفہ بن يمان رضى اللہ تعالى عنہ سے سفيان بن عيينۃ عن جامع بن ابى راشد عن ابى وائل كے طريق سے مروى ہے، حذيفہ بن يمان رضى اللہ تعالى عنہ نے عبد اللہ يعنى عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے عرض كيا: آپ اپنے اور ابو موسى كے محلے كے درميان معتكف ہيں، اور آپ كو علم ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا تھا:

" مسجد حرام كے علاوہ اعتكاف نہيں "

يا يہ فرمايا: " تين مسجدوں كے علاوہ اعتكاف نہيں "

تو عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہنے لگے: لگتا ہے آپ بھول گئے ہيں، اور لوگوں نے ياد ركھا، اور تو غلطى كر رہا ہے، اور لوگ صحيح ہيں "

ليكن سفيان بن عيينہ كے ساتھى اس سے اختلاف كرتے ہيں، كچھ نے تو ان سے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان روايت كيا ہے، ان ميں محمد بن الفرج نے اسماعيلى كى ہاں معجم الشيوخ ( 2 / 112 ) ميں، اور محمود بن آدم المروزى نے سنن بيھقى ( 4 / 316 ) ميں اور ہشام بن عمار نے مشكل الآثار للطحاوى ( 7 / 40 ) ميں اور سعيد بن منصور شامل ہيں، جيسا كہ التحقيق فى احاديث الخلاف لابن جوزى ( 2 / 127 ) ميں ہے.

اور ان ميں كچھ ايسے ہيں جنہوں نے سفيان سے روايت كيا ہے كہ يہ موقوف ہے اور حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے، ان ميں عبدالرزاق اور سعيد بن عبد الرحمن اور محمد بن ابو عمر ہيں.

ديكھيں: مصنف عبد الرزاق ( 4 / 348 ) اور اخبار مكۃ ( 2 / 149 ).

اور راجح ( واللہ اعلم ) يہى ہے كہ يہ روايت حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ پر موقوف ہے، يعنى حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ نے يہ كلام اپنى رائے اور اجتھاد سے كى ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ نہيں سنا، اس كے اسباب درج ذيل ہيں:

1 - دوسرے طريق سے يہ نص حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كے قول سے وارد ہے، چنانچہ ابن ابو شيبہ اور عبد الرزاق نے سفيان ثورى عن واصل الاحدب عن ابراہيم النخعى سے بيان كيا ہے كہ:

" حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس آئے اور كہنے لگے: كيا تمہيں يہ عجيب نہيں لگا كہ آپ كى قوم آپ كے اور اشعرى كے گھروں كے مابين يعنى مسجد ميں معتكف ہے ؟!

تو عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: شائد وہ صحيح ہيں، اور آپ كو غلطى لگى ہے ؟!

تو حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: كيا آپ كو علم نہيں كہ تين مسجدوں: مسجد حرام، مسجد اقصى، اور مسجد نبوى كے علاوہ كہيں اعتكاف نہيں، مجھے كوئى پرواہ نہيں كہ ميں اس ميں اعتكاف كروں يا تمہارے اس بازار ميں "

اسے مصنف ابن شيبۃ ( 2 / 337 ) اور مصنف عبد الرزاق ( 4 / 347 ) نے روايت كيا ہے.

اور ابراہيم نخعى كى عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ سے روايت اہل علم كے ہاں مقبول ہے.

ديكھيں: جامع التحصيل ( 141 ) اور شرح العلل ( 1 / 294 ).

2 - حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايات ميں اختلاف پايا جاتا ہے دوسرے طرق سے يہ ثابت ہے كہ حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ نے كہا كہ: جس مسجد ميں نماز باجماعت ہوتى ہو اس كے علاوہ كہيں اور اعتكاف نہيں ہو سكتا "

يہاں انہوں نے اسے تين مساجد ميں محصور نہيں كيا.

ابن حزم رحمہ اللہ المحلى ميں اس اختلاف كو ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:

" ہم كہتے ہيں: حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ يا ان سےنيچے والى راويوں كا يہ شك ہے، اور شك كى بنا پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر قطعى چيز نہيں ہو سكتى، اگر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہوتا كہ: " تين مساجد كے علاوہ كہيں اعتكاف نہيں " تو اللہ تعالى اسے محفوظ ركھتا، اور اس ميں كسى قسم كا شك داخل نہ ہوتا، تو يقينا صحيح يہى ہوا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ فرمايا ہى نہيں " انتہى.

ديكھيں: محلى ابن حزم ( 5 / 195 ).

3 - اكابر صحابہ كرام كے خلاف ہيں، على بن ابى طالب، اور عائشہ، اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم نے يہ فتوى ديا كہ جہاں نماز باجماعت ہوتى ہو وہاں اعتكاف ہو سكتا ہے، اور كسى بھى صحابى سے اس كى مخالفت نہيں ملتى، بلكہ ہر علاقے ميں بغير كسى نكارت كے يہ عمل ان ميں مشہور تھا، صرف حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ سے ہى اس كے مخالف منقول ہے.

واللہ تعالى اعلم.

كاتب السطور: الشيخ سليمان العلوان.

خصلاصۃ:

يہ حديث نبى صلى اللہ عليہ وسلم تك مرفوع بيان كرنى صحيح نہيں، بلكہ يہ حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے، جو انہوں نے اپنے اجتھاد اور رائے سے كہا ہے، جس ميں باقى صحابہ كرام ا نكى مخالفت كى ہے، اسى طرح اس ميں ظاہر قرآن كى بھى مخالفت ہے، كيونكہ قرآن مجيد ميں اعتكاف كى جگہ كو مطلقا بيان كيا گيا ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تم مساجد ميں اعتكاف كرنے والے ہو }البقرۃ ( 187 ).

اور كسى موقوف روايت جس ميں اضطراب پايا جاتا ہو كى وجہ سے قرآن مجيد كے ظاہر، اور اكثر صحابہ كے عمل كى مخالفت نہيں كرنى چاہيے جس روايت كو نہ تو اہل صحاح نے اور نہ ہى اہل سنن نے روايت كيا ہے، اور نہ ہى متقدمين فقھاء ميں سے كسى نے ا سكا فتوى ديا ہے، چاہے بعض متاخر علماء اس قول كو كہتے ہيں، توان كا يہ اجتھاد ہے جس ميں انہيں غلطى لگى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " الشرح الممتع " ميں كہتے ہيں:

" دنيا كى ہر مسجد ميں اعتكاف كرنا سنت ہے، اور يہ صرف تين مساجد كے ساتھ خاص نہيں، جيسا كہ حذيفہ بن يمان رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تين مسجدوں كے علاوہ كہيں اور اعتكاف نہيں ہوتا "

تو يہ حديث ضعيف ہے.

اس كے ضعف كى دليل يہ ہے كہ ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما نے انہيں كمزور كرتے ہوئے كہا: " لگتا ہے وہ صحيح راہ پر ہيں، اور تمہيں غلطى لگى ہے، انہوں نے ياد ركھا ہے، اور تم بھول گئے ہو " تو انہوں نے اس روايت حكما اور روايتا دونوں اعتبار سے كمزور قرار ديا ہے.

حكما اس طرح كہ: ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ نے كہا: " وہ صحيح ہيں، اور تم غلطى پر ہو "

اور روايتا اس طرح كہ: " انہوں نے ياد ركھا اور تم بھول گئے "

اور پھر انسان بھولنے والا تو ہے ہى.

اور اگر يہ ديث صحيح بھى ہو تو اس سے مراد يہ ہے كہ: مكمل اور تام اعتكاف نہيں، يعنى دوسرى مساجد ميں اعتكاف كرنا ان تين مساجد ميں اعتكاف كرنے سے كم درجہ ركھتا ہے، جس طرح ان تين مساجد كے علاوہ دوسرى مساجد ميں نماز ادا كرنا كم درجہ ركھتى ہيں.

اور ہر مسجد ميں عام ہونے كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تم مسجدوں ميں اعتكاف كر رہے ہو }.

پھر كتاب اللہ يہ حكم مشرق و مغرب ميں بسنے والوں كے ليے كيسے ہوگا كہ ہم يہ كہيں: ان تين مساجد كے علاوہ كہيں اور اعتكاف نہيں، تو عموم كے اعتبار سے امت مسلميہ كے ليے اس حكم كا ہونا بعيد ہے، پھر ہم يہ كہيں كہ يہ عبادت صرف ان تين مساجد ميں ہى ہو گى كہيں اور صحيح نہيں " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 504 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments