82033: كفارہ سے بچنے كے ليے مرتد ہوا اور پھر نادم ہو كر توبہ كر لى


ميں براہ راست وہى سوال كرونگا جس نے مجھے ايك مدت سے بہت پريشان كر ركھا ہے، جب ميں پندرہ برس كا تھا تو ميں نے ماہ رمضان ميں روزہ كى حالت ميں مشت زنى كر لى، جب ميں نے اس كى تلافى كرنا چاہى تو ارتكاب كردہ گناہ كا حكم تلاش كرنے لگا، ميرے خيال ميں ميرے ذمہ جماع كا كفارہ ہے، اس ليے كہ ميں اس مشقت كو برداشت نہيں كر سكتا تھا تو ميں نے دل ميں سوچا كہ ( نعوذ باللہ ) ميں كافر ہو كر دوبارہ اسلام قبول كرلونگا تو اس طرح ميرا يہ گناہ معاف ہو جائيگا، اور يہ كفارہ ساقط ہو جائيگا.
اور حقيقت ميں نے ايسا ہى كيا ميں نے كہا كہ اب ميں كافر ہوں اور كل اسلام قبول كر لونگا، اس وقت ميرى عمر تيس برس ہے، اب تك ميں اس حادثہ كے متعلق سوچتا ہوں، جب بھى مجھے يہ واقعہ ياد آتا ہے ميں توبہ و استغفار كرتا ہوا كلمہ شھادت پڑھتا ہوں، الحمد للہ سارى عمر ہو گئى ہے نماز بھى ادا كرتا ہوں اور روزے بھى ركھتا ہوں، ليكن كيا مجھ پر مرتد ہونے كى حد قتل واجب ہوتى ہے تا كہ اللہ تعالى ميرى توبہ قبول كر لے ؟

الحمد للہ:

اول:

شيطان ہر وقت انسان كے ليے باطل كو بنا سنوار كر پيش كرتا رہتا ہے اور وہ اسے بتدريج يہاں تك لے آتا ہے اسے علم ہى نہيں ہوتا اور وہ سب سے كبيرہ اور قبيح گناہ ( شرك اكبر ) كا مرتكب ہو جاتا ہے، اور انسان يہ خيال كرتا ہے وہ اس طرح اپنے نفس كے ليے بہترى كر رہا ہے.

يہ بتائيں كہ انسان مسلسل دو ماہ كے روزے ركھنے كى بجائے اللہ كے ساتھ كفر كى طرف كيسے بھاگ سكتا ہے، حالانكہ اللہ تعالى نے كفر كى حالت ميں مرنے والے پر جنت حرام كر دى ہے!!

ايسا كرنے والے كى مثال تو اس مزدور جيسى ہى ہے جو آگ كى لو ميں مزدورى كرے اور ايك چيز سے دور بھاگے تو اس سے بھى زيادہ قبيح اور برى ميں جا پڑے.

يہ تو ايك حيلہ ہے اس كى بنا پر اس كے ذمہ واجب چيز ساقط نہيں ہو گى، كيونكہ يہ حرام حيلہ ہے، بلكہ مطلق طور پر سب سے زيادہ حرام، علماء كے ہاں يہ قاعدہ اور اصول ہے كہ:

( حيلہ سے كوئى بھى واجب ساقط نہيں ہوتا، اور نہ ہى اس سے حرام چيز مباح ہوتى ہے ).

اور پھر انسان كے پاس اس بات كى كيا ضمانت ہے كہ اگر وہ عظيم گناہ كرے تو اللہ تعالى اسے توبہ، اور رجوع كرنے كى مہلت عطا كرےگا ؟

كيا يہ ممكن نہيں كہ كہيں اس كى زندگى وہ آخرى لمحات ہى نہ ہوں جن ميں وہ نعوذ باللہ كفر كا اعلان كر رہا ہے ؟

تو اس طرح اس كے دين و دنيا كے سارے اعمال ہى ضائع ہو جائيں، اور وہ ابدى جہنمى بن كر رہ جائے.

كيا وہ اس سے نہيں ڈرتا كہ اللہ تعالى اسے اس شنيع اور برے عل كى سزا ديتا ہوا توبہ كرنے اور دوبارہ اسلام قبول كرنے كے درميان حائل ہو جائے ؟

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ چنانچہ جب وہ ٹيڑھے ہى رہے تواللہ تعالى نے ان كے دلوں كو اور ٹيڑھا كر ديا، اور اللہ تعالى فاسقوں كو ہدايت نہيں ديتا ﴾الصف ( 5 ).

حاصل يہ ہوا كہ:

آپ نے جو اقدام كيا وہ بہت ہى برا ہے جس سے مومن كے رونگٹے كھڑے ہو جاتے ہيں، اس اللہ كا شكر ہے جس نے آپ كو توبہ كى توفيق سے نوازا، اللہ تعالى سے ہم اميد كرتے ہيں كہ اس نے آپ كى توبہ قبول كر لى ہو گى اور آپ كے گناہ بخش ديے ہونگے.

اور آپ كى توبہ كى تكميل اس طرح ہو سكتى ہے كہ آپ كثرت سے اعمال صالحہ كريں، اور اس كے ساتھ ساتھ اللہ كا ذكر اور قرآن مجيد كى تلاون اور استغفار بھى بكثرت كرتے رہيں، اور دينى علم حاصل كريں، اور آگے اس كى تعليم ديں اور صدقہ و خيرات بھى كريں، اور اس كے ساتھ ساتھ دعوت الى اللہ كا كام بھى كرتے رہيں... الخ.

كيونكہ اطاعت كى كئى ايك اقسام ہيں، اس ليے آپ اس ميں جتنى بھى زيادہ كوشش كرينگے اتنا ہى زيادہ اللہ تعالى آپ كےگناہوں كو بخش دےگا، اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور يقينا ميں اسے بخش دينے والا ہوں جو توبہ كرتا ہے، اور ايمان لے آتا ہے، اور اعمال صالحہ كرتا ہے، پھر وہ ہدايت پر قائم رہتا ہے ﴾طہ ( 82 ).

دوم:

اسلام سے مرتد ہونے والے شخص كى سزا قتل ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص اپنا دين بدل لے اسے قتل كر دو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3017 ).

اور جمہور علماء كرام ( جن ميں احناف، شافعيہ، اور حنابلہ شامل ہيں ) كا قول ہے كہ توبہ كر كے اسلام كى طرف پلٹ آنے والے شخص سے يہ سزا ساقط ہو جاتى ہے، اور آپ كى حالت بالكل اسى طرح موافق آتى ہے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ المغنى ابن قدامہ ( 9 / 18 ) اور شرح مسلم للنووى ( 12 / 208 ) كا مطالعہ ضرور كريں.

سوم:

رمضان المبارك ميں روزے كى حالت ميں مشت زنى كرنے كا حكم يہ ہے كہ ايسا كرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور آپ پر صرف اس دن كى قضاء ميں ايك روزہ ركھنا واجب ہے، اور جماع كا كفارہ نہيں.

سوال نمبر ( 50632 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے كہ جماع كے علاوہ كسى اور چيز كے ساتھ روزہ توڑنے سے كفارہ لازم نہيں آتا، صرف جماع كرنے سے ہى كفارہ لازم آئےگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments