Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
82201

حكمران كى اجازت كے بغير جادوگر قتل كرنے كا حكم

ہمارے ملك ميں جادوگر بہت زيادہ اور عام ہيں، جو لوگوں كو اذيت اور نقصان سے دوچار كرتے ہيں، كيا لوگوں كو ان كے شر اور اذيت سے نجات دلانے كے ليے جادوگر قتل كرنا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ ہمارى حكومت نے انہيں كام كرنے كا لائسنس دے ركھا ہے اور ان سے ٹيكس وصول كرتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

جب ثابت ہو جائے كہ كوئى شخص جادو كا كام كرتا ہے تو اسے قتل كرنا واجب ہے؛ تا كہ لوگوں كو اس كے شر اور نقصان سے محفوظ ركھا جا سكے، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 13941 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے آپ اس كا مطالعہ ضرور كريں.

جسے اللہ تعالى رعايا كى ذمہ دارى سونپ دے تو اس حكمران اور ولى الامر كو چاہيے كہ وہ اپنى رعايا ميں اللہ تعالى كا حكم نافذ كرے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور ان كے مابين اللہ تعالى كے نازل كردہ كے مطابق فيصلہ كرو، اور ان كى خواہشات كى پيروى مت كرو ﴾المآئدۃ ( 49 ).

اور ايك مقام پر كچھ اس طرح فرمايا:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كے نازل كردہ كے مطابق فيصلہ نہيں كرتے وہى لوگ كافر ہيں ﴾المآئدۃ ( 44 ).

اور ايك دوسرى آيت ميں فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كے نازل كردہ كے مطابق فيصلے نہيں كرتا وہى لوگ ظالم ہيں ﴾المآئدۃ ( 45 ).

اور تيسرى آيت ميں اللہ تعالى كا ارشاد ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كے نازل كردہ كے مطابق فيصلے نہيں كرتا تو وہى لوگ فاسق ہيں ﴾المآئدۃ ( 47 ).

كسى بھى طرح شرعى سزا كو ساقط كرنا جائز نہيں، اور اس سے بھى زيادہ قبيح اور شنيع بات جادو كا اقرار اور جادوگروں كو لائسنس دينا ہے كہ وہ جادو گرى كريں، اور اس كے مقابلے اور عوض ميں ٹيكس ديں!!

اس طرح تو يہ اس امانت ميں خيانت ہے، اور اسے ضائع كرنے كے مترادف ہے جس كے متعلق اللہ تعالى روز قيامت باز پرس كريگا، اس روز وہ بطور ندامت اپنے ہاتھوں كو كاٹ كھائيگا، ليكن يہ سب وقت فوت ہونے كے بعد ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جس روز ظالم شخص اپنے ہاتھوں كو كاٹ كھائيگا، اور كہےگا ہائے افسوس كاش ميں رسول كى راہ اور طريقے كو اپنا ليتا، ہائے افسوس كاش ميں فلان شخص كو دوست نہ بناتا، اس نے مجھے ذكر سے گمراہ كر ديا بعد اس كے كہ وہ ميرے پاس آ چكا تھا، اور شيطان انسان كو ذليل كرنے والا ہے ﴾ الفرقان ( 27 - 29 ).

دوم:

اگر حاكم اپنے واجبات كى ادائيگى نہيں كرتا اور شرعى سزائيں نافذ نہيں كرتا تو كسى عام مسلمان شخص كو يہ حق حاصل نہيں كہ وہ انہيں نافذ كرے؛ كيونكہ سزا نافذ كرنے كے ليے سب سے پہلے تو اس كا ثبوت چاہيے كہ وہ شخص سزا كا مستحق ہے، دوسرى بات يہ ہے كہ اس سزا كى تنفيذ كے ليے قوت كى ضرورت ہوتى ہے.

اور اگر لوگوں كے ليے شرعى سزائيں نافذ كرنے كا دروازہ كھول ديا گيا تو پھر معاشرے ميں بدنظمى عام ہو جائيگى، اور كوئى بھى شخص اپنى جان اور مال محفوظ نہيں ركھ سكےگا، ہر كوئى شرعى سزا نافذ كرنے كے بہانے فساد مچانے لگےگا.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كا فتوى ہے:

جادو كے ثبوت اور اس سزا كو نافذ كرنے كے ليے جو چيز دركار ہے وہ حاكم اور ولى الامر ہے، جو مسلمانوں كے معاملات كا ذمہ دار ٹھرا ہے؛ تا كہ فساد كو روكا جا سكے؛ اور بدنظمى كو ختم كيا جائے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 552 ).

سوال نمبر ( 13941 ) كے جواب ميں ہم شيخ سلمان العلوان كا درج ذيل قول نقل كر چكے ہيں كہ:

" اور جب كسى بھى شخص پر جادوگر كا وصف ثابت ہو جائے تو وہ شخص وجوبا قتل ہوگا، اس كا ثبوت صحابہ كرام كى ايك جماعت سے ملتا ہے، ليكن حكمران اور ولى الامر يا اس كے نائب كے حكم بغير لوگوں ميں سے كسى ايك كے ليے بھى جائز نہيں كہ وہ حدود كا نفاذ كرے؛ كيونكہ ولى الامر اور حكمران كے علاوہ دوسرے افراد كى جانب سے حدود كے نفاذ كے نتيجہ ميں فساد مچےگا، اور امن و امان كى حالت بگڑ جائيگى، اور اس طرح حكمران اور ولى الامر كى ہيبت ختم ہو كر رہ جائيگى. انتہى.

اور سوال نمبر ( 8980 ) كے جواب ميں ہم نے حدود كے نفاذ كے مسئلہ ميں حكمران كى شرط بيان كى ہے، اور وہاں ہم اس پر علماء كرام كا اتفاق بھى نقل كر چكے ہيں، آپ اس كا مطالعہ كريں.

آپ كو چاہيے كہ آپ لوگوں كو اس جادو گر سے بچنے اور اجتناب كرنے كا كہيں، اور وہاں جانے سے منع كريں، اور لوگوں كے سامنے بيان كريں كہ يہ فعل انسان كو كفر تك ليجا كر دائرہ اسلام سے خارج كر ديتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments