Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
82334

حاملہ عورت كو طلاق دينے اور اسقاط حمل اور اپنا حق چھڑوانے كے ليے تنگ كرنے كا حكم

درج ذيل عمل كا دين اسلام ميں كيا حكم ہے:
خاوند نے دوسرے ماہ كى حاملہ بيوى كا حمل صرف اس بنا پر ساقط كرنے كے ليے دوائى دينے كى كوشش كى تا كہ اسے طلاق دے سكے، ليكن اس كے باوجود حمل ساقط نہ ہوا، كيا يہ حلال ہے يا حرام، اور اس كا كفارہ كيا ہے ؟
اور كيا حاملہ بيوى كو طلاق دينا جائز ہے، اور طلاق سے قبل حق سے دستبردار ہونے كے ليے زبردستى كرنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

حمل ضائع كرنا جائز نہيں چاہے حمل ميں روح پڑ چكى ہو يا نہ پڑى ہو، ليكن روح پڑنے كے بعد تو اسقاط حمل كى حرمت تو اور بھى زيادہ شديد ہو جاتى ہے، اور اگر بيوى كو خاوند حمل ضائع كرنے كا حكم بھى دے تو بيوى كے ليے اس كى اطاعت كرنى حلال نہيں.

شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اسقاط حمل كى كوشش كرنى جائز نہيں، جب تك كہ اس كى موت كا يقين نہ ہو چكا ہو، اور جب حمل كى موت كا يقين ہو چكا ہو تو پھر اسقاط حمل جائز ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن ابراہيم ( 11 / 151 ).

اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

اول:

حمل ضائع كرانا جائز نہيں، اس ليے اگر حمل ہو چكا ہو تو اس كى حفاظت اور خيال ركھنا واجب ہے، اور ماں كے ليے اس حمل كو نقصان اور ضرر دينا، اور اسے كسى بھى طرح سے تنگ كرنا حرام ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے اس كے رحم ميں يہ امانت ركھى ہے، اور اس حمل كا بھى حق اس ليے اس كے ساتھ ناروا سلوك اختيار كرنا، يا اسے نقصان اور ضرر دينا، يا اسے ضائع و تلف كرنا جائز نہيں.

اور پھر حمل كے ضائع اور اسقاط كى حرمت پر شرعى دلائل بھى دلالت كرتے ہيں:

اور آپريشن كے بغير ولادت كوئى ايسا سبب نہيں جو اسقاط حمل كے جواز كا باعث ہو، بلكہ بہت سى عورتوں كے ہاں ولادت تو آپريشن كے ذريعہ ہى ہوتى ہے، تو اسقاط حمل كے ليے يہ عذر نہيں ہو سكتا.

دوم:

اگر اس حمل ميں روح پھونكى جا چكى ہو، اور اس ميں حركت ہونے كے بعد اسقاط حمل كيا جائے اور بچہ مر جائے تو يہ ايك جان كو قتل كرنا شمار كيا جائيگا، اور اسقاط حمل كرانے والى عورت كے ذمہ كفارہ ہو گا جو كہ يہ ہے:

ايك غلام آزاد كرنا ہے، اگر وہ غلام نہ پائے تو مسلسل دو ماہ كے روزے ركھنا اس كى توبہ شمار ہو گى، اور يہ اس وقت ہے جب حمل چار ماہ كا ہو چكا ہو، كيونكہ اس ميں اس وقت روح پھونكى جا چكى ہوتى ہے، اس ليے اگر اس مدت كے بعد اسقاط حمل كرائے تو اس پر كفارہ لازم آئيگا، جيسا كہ ہم نے بيان كيا ہے، اور يہ معاملہ بہت عظيم ہے اس ميں تساہل اور سستى كرنى جائز نہيں.

اور اگر بيمارى كى بنا پر وہ حمل برداشت نہيں كر سكتى تو وہ حمل سے قبل ہى مانع حمل ادويات كا استعمال كرے، مثلا وہ ايسى گولياں استعمال كر لے جو كچھ مدت تك حمل كے ليے مانع ہوتى ہيں، تا كہ اس عرصہ كے دوران اس كى صحت اور قوت بحال ہو جائے.

ديكھيں: المنتقى ( 5 / 301 - 302 ) اختصار كے ساتھ.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے اپنى بيوى كو كہا: اپنا حمل گرا دو اس كا گناہ ميرے ذمہ، تو اگر وہ اس كى بات سن كر اس پر عمل كر لے تو ان دونوں پر كيا كفارہ واجب ہو گا ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

اگر بيوى ايسا كر لے تو ان دونوں پر كفارہ يہ ہے كہ وہ ايك مومن غلام آزاد كريں، اور اگر غلام نہ ملے تو دو ماہ كے مسلسل روزے ركھيں، اور ان دونوں كے ذمہ اس كے وارثوں كو ايك غلام يا لونڈى كى ديت دينا ہو گى جس نے اسے قتل نہ كيا ہو، باپ كو نہيں، كيونكہ باپ نے تو قتل كرنے كا حكم ديا ہے، اس ليے وہ كسى بھى چيز كا مستحق نہيں. اھـ

اور ان كى يہ عبارت:

" غرۃ عبد او امۃ "

يہ ايك غلام يا لونڈى كى قيمت كى شكل ميں بچے كى ديت ہے، اور اس كا اندازہ ماں كى ديت كے عشر كے مطابق علماء كرام لگائينگے.

اسقاط حمل كا حكم كئى ايك جوابات ميں بيان ہو چكا ہے جن ميں سے چند ايك جواب ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 13317 ) اور ( 42321 ) اور ( 12733 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

دوم:

رہا مسئلہ حاملہ عورت كو طلاق دينا تو يہ طلاق سنت شمار ہوتى ہے ليكن آج كے دور ميں بہت سے لوگوں ميں يہ مشہور ہو چكا ہے كہ يہ سنت كے مخالف ہے، ليكن ان كےاس قول كى كوئى اصل اور دليل نہيں.

امام مسلم رحمہ اللہ نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا اپنى بيوى كو طلاق دينے كا قصہ نقل كيا ہے جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اسے حكم دو كہ وہ اس سے رجوع كر لے، پھر اسے طہر يا حمل كى حالت ميں طلاق دے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1471 ).

ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور حاملہ عورت كو حمل كے شروع سے ليكر وضع حمل تك طلاق دينے كے مسئلہ ميں علماء كرام كے مابين كوئى اختلاف نہيں، كيونكہ اس كى عدت وضع حمل ہے، اور اسى طرح ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بھى يہ ثابت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو حكم ديا كہ يا تو وہ واپنى بيوى كو طہر كى حالت ميں طلاق ديں، يا پھر حمل كى حالت ميں، اور اس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حمل كى اول يا آخر كى كوئى تخصيص نہيں فرمائى.

ديكھيں: التمہيد ( 15 / 80 ).

ہم نے سوال نمبر ( 12287 ) كے جواب ميں حاملہ عورت كو طلاق دينے كے مسئلہ ميں شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كا فتوى بھى ذكر كيا ہے آپ اس كا مطالعہ كر ليں.

سوم:

خاوند كے ليے بيوى كى رضامندى اور خوشى كے بغير اس كا كوئى مال لينا جائز نہيں، اور اس كے مال ميں اس كا مہر بھى شامل ہے، الا يہ كہ وہ كوئى واضح اور ظاہر فحش كام كرے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ تو اگر وہ تمہيں بخوشى و رضا اپنى جانب سے كچھ دے ديں تو اسے ہنسى خوشى كھا لو ﴾النساء ( 4 ).

اور اس ليے بھى كہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

﴿ اور تم انہيں ( اپنى بيويوں كو ) تنگ مت كرو تا كہ تم نے جو انہيں مال ديا ہے اس ميں كچھ لے لو، مگر يہ كہ وہ واضح فحاشى كريں ﴾النساء ( 19 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ اگر ازدواجى زندگى ميں خرابى عورت كى جانب سے ہو تو پھر اس كا مال ليا جا سكتا ہے، ليكن اس كے برعكس صورت ميں نہيں.

اور ابن منذر نے نعمان رحمہ اللہ سے بيان كيا ہے كہ: اگر مرد كى جانب سے ظلم و ستم ہو اور حسن معاشرت نہ ہو اور بيوى نے خلع طلب كيا تو جائز ہے، اور اسے جارى كيا جائيگا، اور خاوند گنہگار ہوگا، اس نے جو كچھ كيا وہ اس كے ليے جائز نہيں، اور جو كچھ خاوند نے ليا ہے اسے واپس كرنے پر مجبور نہيں كيا جائيگا!

ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور اس كا يہ قول كتاب اللہ، اور سنت نبويہ، اور عموم اہل علم كے اجماع كے خلاف ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 3 / 137 ).

مجموع الفتاوى ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" تو كسى بھى مرد كے ليے جائز نہيں كہ وہ بيوى كو اس طرح تنگ كرے اور اس سے روك لے تا كہ وہ اسے مہر كا كچھ حصہ دے، اور نہ ہى اس غرض كى بنا پر بيوى كو مارنا جائز ہے.

ليكن اگر وہ كوئى واضح فحش كام كرے تو پھر خاوند كو حق ہے كہ وہ اس كا فديہ لينے كے ليے اسے تنگ كر سكتا ہے، اور اسے زدكوب بھى كر سكتا ہے، اور يہ اس شخص اور اللہ تعالى كے مابين ہے.

اور بيوى كے خاندان والے حق كو چھان پھٹك كر اس كا ساتھ دينگے جو حق پر ہے، اور اس كى معاونت كرينگے، اگر تو ان كے ليے يہ واضح ہو كہ عورت نے ہى زيادتى اور اللہ كى حدود سے تجاوز كيا ہے، اور خاوند كے بستر پر خاوند كو ہى اذيت دى ہے، تو وہ عورت ظالم اور زيادتى كرنے والى ہے، اس سے بدلہ اور فديہ لينا چاہيے " اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 283 ).

اور واضح اور ظاہر فحاشى و فحش كام كا معنى درج ذيل فرمان بارى تعالى ميں بيان ہوا ہے:

﴿ اور تم انہيں ( بيويوں كو ) تنگ مت كرو تا كہ تم نے جو انہيں ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو، الا يہ كہ وہ واضح اور ظاہر فحش كام كريں ﴾النساء ( 19 ).

اس سے مراد زنا، بے سمجھى اور سوء معاشرت ہے، مثلا فحش كلام اور خاوند كو اذيت سے دوچار كرنا.

ديكھيں: تفسير السعدى صفحہ ( 242 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments