82467: ٹيلى ويژن پر پيش ہونےوالے پروگرام كا ترجمہ كرنا


ميں اپنى والدہ اور نانى كے ساتھ رہتا ہوں، ميرى والدہ قرآن مجيد كى تلاوت كرنا پسند كرتى ہيں، ليكن نانى بہت زيادہ ٹى وى ديكھنا محبوب سمجھتى ہيں، ٹى وى پر پيش ہونے والے پروگرام نہيں سمجھتى جس كى وجہ سے وہ ميرى ماں كو كہتى ہيں كہ اسے ترجمہ كر كے بتايا جائے، تو كيا اگر ميرى والدہ ايسا كرتى ہے تو انہيں بھى گناہ ہو گا ؟

الحمد للہ:

آپ كى والدہ كا اپكى نانى كے ليے ٹى وى سكرين پر پيش ہونےوالے پروگرام كا ترجمہ كرنے كے حكم ميں كوئى مشكل نہيں، ليكن حقيقت ميں وہ نانى كو يہ پروگرام ديكھنے سے باز ركھنا چاہتى ہے، حالانكہ ـ وہ اس بڑھاپے كى عمر ميں ہے ـ اسے اس عمر ميں اللہ تعالى كى عبادتا ور اطاعت و فرمانبردارى ميں مشغول ہونا چاہيے، اور كوشش كرے كہ وہ اپنے موت كے ليے زاد راہ تيار كر لے، اور اللہ تعالى كے ہاں كاميابى و نجات كے زيادہ سے زيادہ اسباب اكٹھے كر لے.

امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ميں نے اپنے علاقے كے اہل علم كو پايا كہ وہ دنيا تلاش كرتے، اور لوگوں سے ميل جول ركھتے حتى كہ جب ان ميں كسى كى عمر چاليس برس ہو جاتى تو وہ لوگوں سے عليحدہ ہو جاتے " انتہى.

ديكھيں: تفسير القرطبى ( 7 / 276 ).

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے اس شخص كے ليے عذر كا كوئى سبب نہيں چھوڑا جس كو عمر دى حتى كہ وہ ساٹھ بر س كا ہو گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6419 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح البارى ميں اس حديث كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:

كہا جاتا ہے " اس كے ليے كوئى عذر نہيں چھوڑا "

جب وہ عذر كى آخرى حد تك پہنچ جائے، اور اس كے امكان ميں ہو، اور جب اطاعت و فرمانبردارى چھوڑنے ميں اسے كوئى عذر نہ ہو، اور اسے وہ عمر بھى دى گئى جس ميں وہ اطاعت و فرمانبردارى كر سكتا تھا، تو پھر اس كے لائق نہيں كہ وہ اس عمر ميں آكر مكمل طور پر آخرت والے اعمال كرے، اور توبہ و استغفار اور اطاعت و فرمانبردارى كے علاوہ كوئى اور كام نہ كرے.

معنى يہ ہوا كہ اللہ تعالى بندے كے ليے كوئى بھى ايسا عذر نہيں چھوڑتا كہ وہ اسے عذر بنا سكے.

ابن بطال كہتے ہيں: اس كے ليے ساٹھ برس حد اس ليے ہے كہ يہ عمر ختم ہونے كے قريب ہے، اور يہ وہ عمر ہے جس ميں توبہ اور خشوع و خضوع اور موت كا انتظار ہوتا ہے، اس ليے اسے مكمل طور پر آخرت والے كام كرنے چاہيں؛ كيونكہ ا سكا اب پہلى حالت قوت و نشاط ميں واپس آنا محال ہے " انتہى بتصرف.

ديكھيں: فتح البارى ( 11 / 240 ).

اس ليے ميرى آپ كو آپ كى والدہ كو يہ نصيحت ہے كہ نانى كو زيادہ سے زيادہ نصيحت كريں كہ وہ نماز اور اذكار، اور قرآن مجيد كى تلاوت اور نيك و صالح دعا كرنے ميں مشغول رہے، اور آپ اس سلسلہ ميں ا نكى ہر طرح سے مدد و معاونت كريں، اس طرح انہيں فضائى چينلوں پر پيش كردہ پروگرام ديكھنے كى فرصت نہيں ملےگى جو اللہ تعالى كى ناراضگى كا باعث ہيں، اور نہ ہى ان پروگراموں سے انہيں كوئى دينى اور نہ ہى دنياوى فائدہ پہنچتا ہے.

بہر حال آپ كى والدہ كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنى والدہ كو ٹى پروگرام كا ترجمہ كر كے بتائيں، صرف ان پروگراموں كا ترجمہ كرنا جائز ہے جو مباح ہوں، ليكن حرام اور غلط قسم كى فلموں اور ڈراموں كا ترجمہ كرنا جائز نہيں ہے، اس ليے ٹى پروگرام ديكھنے ميں اس كى معاونت كرنا جائز نہيں، بلكہ اس سے منع كرنا واجب ہے، اور نفع مند پروگرام ديكھنے ميں كوئى حرج نہيں.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اورآپ كو دين و دنيا كى سلامتى اور سعادت نصيب فرمائے.

آپ ٹيلى ويژن ديكھنے كا حكم معلوم كرنے كے ليے سوال نمبر ( 3633 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments