Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
82550

خاوند سے جھگڑا ہونے پر بيوى تين ماہ كے ليے ميكے چلى گئى

ميرا اپنى بيوى كے ساتھ جھگڑا ہو گيا تو وہ مجھ سے بغير بات كيے ہى اپنى بيٹى كے پاس چلى گئى حالانكہ ميں نے اس سے بات چيت كرنے كى بہت كوشش بھى ليكن وہ راضى نہيں ہوئى، پھر اس كے والدين آئے اور ميرے پاس لانے كى بجائے يا مجھ سے سمجھوتہ كرنے كى بجائے اسے اپنے ساتھ لے كر گھر چلے گئے اور ہمارے مابين صلح كرانے كى بھى كوشش نہيں كى، اور اب وہ تين ماہ سے اپنے ميكے رہ رہى ہے، نہ تو اپنى اولاد كے بارہ ميں پوچھتى ہے اور نہ ہى كوئى رابطہ كرتى ہے، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ كيا وہ ابھى تك ميرى بيوى ہے يا كہ اسے طلاق ہو چكى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

يہ جاننا ضرورى ہے كہ خاوند اور بيوى ميں پيدا ہونے والى مشكلات كے اسباب ميں يہ بھى شامل ہے كہ خاوند اور بيوى كو ايك دوسرے كے حقوق كا علم نہيں ہوتا، اس ليے يہ مشكلات بڑھ كر بہت ہى زيادہ خراب حالت تك پہنچ جاتى ہيں.

دين اسلام نے ان حقوق كو خاوند اور بيوى ميں سے ہر ايك كے ليے ثابت بھى كيا ہے، بلكہ اسے ہر ايك پر لازم بھى كيا ہے، اس ليے خاوند اور بيوى كو ايك دوسرے كے حقوق كى ادائيگى كرنى چاہيے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ان عورتوں كے ليے بھى ( اسى طرح حقوق ہيں ) جس طرح ان عورتوں پر ( اپنے خاوندوں كے حقوق ہيں ) اچھے طريقہ كے ساتھ، اور مردوں كو ان عورتوں پر فضيلت حاصل ہے } البقرۃ ( 228 ).

اس آيت ميں يہ بيان ہوا ہے كہ خاوند اور بيوى ميں سے ہر ايك پر دوسرے كے حقوق ہيں جن كى ادائيگى ہر ايك پر واجب ہے، تو اس طرح ان دونوں ميں توازن قائم ہو جاتا ہے جس سے ازدواجى زندگى ميں استقرار پيدا ہوتا اور زندگى كے معاملات صحيح ہو جاتے ہيں.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں:

يعنى: عورتوں كو حق حاصل ہے كہ ان كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كى جائے، خاوند كو چاہيے كہ وہ بيوى سے حسن صحبت اختيار كرے، جس طرح وہ يہ چاہتا ہے كہ وہ خاوند كى اطاعت كرے جن ميں اللہ نے خاوند كى اطاعت واجب كى ہے "

اور قرطبى رحمہ اللہ نے ذكر كيا ہے كہ:

" يہ آيت سب حقوق زوجيت كو عام ہے، كوئى خاص نہيں "

ان حقوق ميں يہ بھى شامل ہے كہ: ايك دوسرے كى غلطى اور كوتاہى سے صرف نظر كى جائے، اور خاص كر جن اقوال و افعال اور اعمال كا قصدا ارتكاب نہ كيا گيا ہو.

انس رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں وارد ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر بنى آدم غلطى كرتا ہے، اور سب سے بہتر وہ ہے جو غلطى كر كے توبہ كر لے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2499 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح سنن ترمذى ميں حسن قرار ديا ہے.

اس ليے خاوند اور بيوى ميں سے ہر ايك كو چاہيے كہ وہ صبر و تحمل سے كام لے، كيونكہ ہر انسان غلطى سے غلطى ہو سكتى ہے، اور جس كے ساتھ زيادہ تعلق ہو اس سے اس كا زيادہ احتمال ہوتا ہے.

اس ليے ہر ايك كو چاہيے كہ وہ دوسرے كى غلطى كا جواب غلطى سے مت دے، لہذا جب خاوند اور بيوى ميں سے كوئى ديكھے كہ اس كا شريك حياۃ بہت زيادہ غصہ ميں ہے اور جذبات ميں آيا ہوا ہے تو اسے اپنے غصہ كو پى جانا چاہيے اور وہ خود بھى اس كا جواب فورى جذبات كے ساتھ مت دے اسى ليے ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنى بيوى سے كہا تھا:

" جب تم ديكھو كہ ميں ناراض ہوں تو تم مجھے راضى كر ليا كرو، اور جب ميں تمہيں ديكھوں گا كہ تم ناراض ہو تو ميں تمہيں راضى كر ليا كرونگا، وگرنہ پھر ہم اكٹھے نہيں رہ سكتے "

امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رضى اللہ نے عباسۃ بنت مفضل جو كہ ان كے بيٹے صالح كى ماں ہے سے شادى كى تو وہ اس كے بارہ ميں كہا كرتے تھے:

" ام صالح ميرے ساتھ بيس برس رہى، ہمارا اس عرصہ ميں كبھى كسى بات ميں اختلاف تك نہيں ہوا "

" ام صالح ميرے ساتھ بيس برس رہى، ہمارا اس عرصہ ميں كبھى كسى بات ميں اختلاف تك نہيں ہوا "

سب سے عظيم حقوق ميں يہ شامل ہے كہ خاوند اور بيوى ايك دوسرے كو اللہ سبحانہ و تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے كى تلقين و نصيحت كريں.

صحيح حديث ميں ثوبان رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" جب درج ذيل آيت نازل ہوئى:

{ اور وہ لوگ جو سونے اور چاندى كو جمع كر كے خزانہ بنا كر ركھتے ہيں }.

ہم نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ سفر ميں تھے تو كچھ صحابہ كرام كہنے لگے:

سونے اور چاندى كے بارہ ميں جو كچھ نازل ہوا ہے وہ نازل ہوچكا، اگر ہميں يہ پتہ چل جائے كہ كونسا مال بہتر اور اچھا ہے تو ہم اسے ركھ ليں.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس ميں سب سے افضل ذكر كرنے والى زبان اور شكر كرنے والا دل اور ايماندار بيوى ہے جو اس كے ايمان ميں ممد و معاون ثابت ہو "

مسند احمد حديث نمبر ( 21358 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 3094 ) صحيح الجامع حديث نمبر ( 5231 ).

پھر آدمى كو ايسا نہيں كرنا چاہيے كہ اگر وہ بيوى ميں كوئى ناپسند چيز ديكھے تو اس پر ناراض ہو اور اس سے بغض كرنے لگے؛ كيونكہ اگر اسے بيوى كى كوئى بات اور اخلاق اچھا نہيں لگتا تو وہ اس كے كسى دوسرے اخلاق سے راضى ہو جائيگا، اس ليے اسے اس كا مقابلہ اس سے كر لينا چاہيے كہ وہ اس اچھے اخلاق كے بدلے برے كو معاف كر دے.

حديث ميں وارد ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كوئى مومن مرد كسى مومنہ عورت سے بغض نہيں ركھتا، اگر اسے اس كا كوئى ايك اخلاق اچھا نہيں لگتا تو وہ اس كے كسى دوسرے اخلاق سے راضى ہو جاتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1469 ).

خاوند اور بيوى كى ازدواجى زندگى ميں سب سے عظيم ممد و معاون ثابت ہونے والى چيز حسن اخلاق ہے، اسى ليے دين اسلام ميں اخلاق حسنہ كى شان و مقام بہت عظيم ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مومنوں ميں سب سے كامل ايمان والا شخص وہ ہے جس كا اخلاق سب سے اچھا ہے، اور تم ميں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنى عورتوں كے ليے اچھا ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1162 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور پھر حسن معاشرت ميں يہ چيز بھى شامل ہوتى ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى كے حقوق كے علاوہ ہر چيز ميں ايك دوسرے سے صرف نظر كى جائے، اور چھوٹے بڑے امور ميں ايك دوسرے كا پيچھا نہ كيا جائے، اور بات بات پر ڈانٹ ڈپٹ نہ ہو.

دوم:

آپ كى بيوى كا آپ كى اجازت كے بغير گھر سے جانا اور اس عرصہ غائب رہنے كا معنى يہ نہيں كہ اسے طلاق ہو گئى ہے، بلكہ وہ اب بھى آپ كى بيوى ہے، اور جب تك آپ اسے طلاق نہيں ديتے اسے طلاق نہيں ہوگى.

ليكن اس كا ايسے چلے جانا نافرمانى شمار ہوگا، جس كى بنا پر وہ گنہگار ٹھرے گى، اور پھر اگر وہ اس سلسلہ ميں معذور نہيں يعنى اس كے پاس كوئى شرعى عذر نہيں تو اس كا نان و نفقہ كا حق ساقط ہو جائيگا، يعنى اگر وہ آپ كے ظلم و ستم كى بنا پر گھر سے گئى ہے تو پھر وہ نان و نفقہ كى مستحق ہے، ليكن اگر ايسا نہيں تو پھر اسے نان و نفقہ ملےگا، اور اس كا اپنے گھر سے باہر رہنا اور اس عرصہ ميں اپنے خاوند اور اولاد سے دور رہنا بہت بڑى غلطى ہے اسے اس پر قائم نہيں رہنا چاہيے، اور نہ ہى اس كے خاندان والوں كو اس ميں اس كى معاونت كرنى چاہيے.

كيونكہ يہ دورى ايك ايسى چيز ہے جو گھر كى تباہى كے ليے شيطان كى بہت زيادہ ممد و معاون ثابت ہوتى ہے، اور سينوں ميں بغض و عداوت پيدا كرنے كا سبب بنتى ہے، اس ليے اگر آدمى عقل و دانش ركھتا ہو اور عورت كے گھر والوں كو اس كے انجام كا علم ہو تو وہ اس كے دور رہنے پر راضى نہيں ہونگے.

بلكہ وہ تو انہيں اكٹھا كرنے اور ملانے كى كوشش كريں گے، اور ان كا آپس ميں سمجھوتہ كرانے اور ان كے مشكلات كو ختم كرنے اور خاوند و بيوى ميں حسن معاشرت پيدا كرنے كى كوشش كريں گے.

اس ليے ہمارى آپ كو يہى نصيحت ہے كہ آپ بيوى سے رابطہ كريں اور اسے وعظ و نصيحت كريں، اور اسے ياد دہانى كرائيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اس پر خاوند اور بيوى كے كيا حقوق ركھے ہيں، اگر وہ يہ نصيحت قبول نہيں كرتى تو پھر آپ اس كے رشتہ داروں ميں سے خير و بھلائى ركھنے والے افراد سے تعاون حاصل كريں كہ وہ اسے سمجھائيں.

اور ہمارى اس بيوى كو بھى يہ نصيحت ہے كہ وہ اللہ سے ڈرے اور تقوى اختيار كرتے ہوئے خاوند كى نافرمانى نہ كرے، اور خاوند كو ناراض كر كے اپنے خاندان والوں كو ترجيج مت دے كہ اپنے گھر اور اولاد اور خاوند كے مقابلہ ميں اپنے ميكے كو ترجيح ديتے ہوئے بچوں كو چھوڑ كر ميكے بيٹھى رہے.

اور پھر خاوند اور بيوى كو ادراك ہونا چاہيے كہ عناد اور ايسى رائے پر ڈٹ جانا كسى مشكل كا حل نہيں بلكہ يہ چيز تو ان ميں اور مشكلات پيدا كريگا، اور ان ميں غلط فہمياں اور زيادہ ہوں گى.

بڑے دل والا شخص ہى صلح كى كوشش كرتا اور اكٹھے رہنے كى اہميت كى قدر كرتا ہے، اس ليے خاوند كو چاہيے كہ وہ بڑے دل والا بنے، اور آگے بڑھتے ہوئے اسے صلح اور سمجھوتہ كرنے كى كوشش كرنى چاہيے كہ كسى طرح يہ مشكل حل ہو جائے.

اس طرح آپ كو اللہ تعالى عزت و شرف سے نوازے گا اور آپ اللہ كے ہاں بھى عزت و مقام والے بن جائيں گے، اور لوگوں كے ہاں بھى عزت حاصل ہوگى، كيونكہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان وارد ہے:

" معافى ودرگزر سے اللہ سبحانہ و تعالى بندے كى عزت و مرتبہ ميں اضافہ فرماتا ہے، اور جو كوئى بھى اللہ كے ليے تواضح اختيار كرتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى اسے اور بلندى و عزت سے نوازتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2588 ).

اس ليے آپ اپنى بيوى سے رابطہ كرنے ميں پہل كريں اور اس كے بارہ ميں دريافت كريں اور گھر كى اصلاح و اتفاق و اتحاد پيدا كرنے كى رغبت ميں پہل كريں، ان شاء اللہ اللہ كے ہاں آپ كا اجروثواب ضائع نہيں ہوگا.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments