82662: نماز اور روزہ صحيح ہونے ميں شك كرنا


ميں نے جو كچھ كيا ہے وہ بہت ہى قبيح فعل ہے اور ميں اس كے متعلق سوال كرنے سے شرما رہى ہوں، اور اسے بيان كرنا بھى پسند نہيں كرتى.
حقيقت يہ ہے كہ چند برس قبل ميں دو قبيح قسم كے فعل كرتى رہى ہوں:
پہلا فعل يہ ہے كہ ميں اپنى رشتہ دار كے ساتھ ہم جنس پرستى كرتى رہى ہوں كچھ مدت ہم يہ فعل كرتى رہى ہيں پھر ہم نے ترك كرديا.
دوسرا فعل يہ ہے كہ: ميں اپنے پڑوسى كے چھوٹے بچے سے بہت سختى كرتى رہى ہوں، اور كئى بار ميں نے اس كى پٹائى بھى كہ وہ ميرے ساتھ بوس و كنار كرے، يا پھر اپنا عضو تناسل ميرے ساتھ لگائے......
ميں يہ امور بيان نہيں كرنا چاہتى كيونكہ مجھے يہ شعور ہے كہ ميں بہت برے كام كرتى رہى ہوں، اور اپنے كيے پر بہت نادم ہوں، ميرے چند ايك سوالات ہيں:
1 - كيا ميرے ذمہ ان ايام كے روزے ہيں جن ميں يہ عمل كرتى رہى ہوں، حالانكہ مجھے يہ علم نہيں تھا كہ ايسا كرنے سے روزہ اور نماز باطل ہو جاتى ہے ؟
2 - كيا مجھے يہ نمازيں دوبارہ ادا كرنا ہونگى ؟
3 - مجھے ياد نہيں كہ آيا ايسا كرنے سے ميرى منى وغيرہ خارج ہوئى يا نہيں ؟
4 - ميں بہت حيران اور شك ميں ہوں، اور مجھے يہ بھى ياد نہيں كہ آيا يہ فعل رمضان كيا يا كسى اور مہينہ ميں ؟
5 - اگر ميرے ذمہ روزے واجب ہيں تو ميں ان كا اندازہ كس طرح لگا سكتى ہوں، حالانكہ ميں نے اندازہ لگانے كى كوشش كى ليكن مجھے يہ ياد نہيں آيا كہ ميں نے بالتحديد كب ايسا عمل كيا؟
6 - لڑكى پر روزے كب فرض ہوتے ہيں، آيا بلوغت كے بعد يعنى جب اسے پہلى ماہوارى آئے تو اس كے بعد واجب ہونگے ؟

الحمد للہ:

اول:

ہم اللہ تعالى كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اس نے آپ كو ان حرام افعال سے توبہ كى توفيق عطا فرمائى، اور اللہ تعالى سے دعاگو ہيں كہ وہ آپ كى توبہ قبول فرمائے.

دوم:

آپ پر كسى نماز يا روزہ كى كوئى قضاء نہيں، اس كے درج ذيل اسباب ہيں:

1 - آپ كو علم ہى نہيں تھا كہ ايسا كرنے سے نماز اور روزہ باطل ہو جاتا ہے.

جب انسان كوئى حرام كام جہالت كى بنا پر كرے تو وہ معذور شمار ہو گا، اور اس گناہ كى سزا كا وہ مستحق نہيں ٹھرتا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جو تم سے بھول اور غلطى ہو جائے اسميں تم پر كوئى گناہ نہيں بلكہ گناہ اس ميں ہے جو تمہارے دل جان بوجھ كر عمدا كريں، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے ﴾الاحزاب ( 5 ).

اور جہالت بھى غلطى كى ايك قسم ہے، كيونكہ جاہل شخص معصيت اور مخالف عمدا اور جان بوجھ كر نہيں كرتا، كيونكہ اگراسے علم ہوتا تو وہ يہ عمل نہ كرتا.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 50017 ) اور ( 45648 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

2 - آپ كو كچھ خارج ہونے كا يقين نہيں ہے، مسلمان شخص جب كوئى عبادت كرتا ہے تو اصل اس عبادت كا حكم يہى ہے كہ وہ صحيح ہے، جب تك اس عبادت كى صحيح نہ ہونے كا يقين نہ ہوجائے، ليكن عبادت كر لينے كے بعد صرف شك كى بنا پر عبادت باطل نہيں ہوتى.

سوم:

لڑكى روزہ ركھنے اور باقى احكام شرعيہ كى مكلف بلوغت كے بعد ہوتى اور لڑكى كى بلوغت كى چار علامتيں ہيں ان ميں سے كوئى ايك علامت ظاہر ہو جائے تو لڑكى بالغ ہو جائيگى، وہ علامات درج ذيل ہيں:

1 - پندرہ برس كى عمر كو پہنچ جانا.

2 - شرمگاہ كے ارد گرد سخت بالوں كا آ جانا.

3 - منى خارج ہونا.

4 - حيض كا آنا.

ان چاروں علامات كا جمع ہونا شرط نہيں، بلكہ صرف ايك علامت بھى ظاہر ہو جائے تو لڑكى بالغ شمار ہوگى.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 21246 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ آپ كو ہر قسم كى خير وبھلائى كى توفيق عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments