82968: شادى نہ كرنے والے كے ليے نصيحت


ميں جوان ہوں اور شادى نہيں كرنا چاہتا مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

ہمارے عزيز بھائى آپ كو علم ہونا چاہيے كہ شادى كے معاملہ ميں سب لوگ ايك جيسے نہيں، چنانچہ شادى كى مشروعيت ميں تو سب لوگ برابر ہيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى راہنمائى بھى يہى ہے، اور پھر يہ ايك شخص كے متعلق دوسرے سے زيادہ يقينى ہو جاتا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" نكاح اور شادى كے معاملہ ميں لوگوں كى تين اقسام ہيں:

پہلى قسم:

وہ لوگ جنہيں كسى حرام اور ممنوع كام ميں پڑنے كا خدشہ ہو كہ اگر شادى نہ كى تو غلط كام كا ارتكاب كر بيٹھيں گے، عام فقھاء كے قول كے مطابق ان افراد كے ليے نكاح كرنا واجب ہے، كيونكہ ان پر اپنى عفت و عصمت محفوظ ركھنا اور حرام سے بچانا لازم ہے، اور اس كا طريقہ شادى ہے.

دوسرى قسم:

وہ افراد جن كے ليے شادى مستحب ہے، يہ وہ شخص ہے جسے شہوت تو ہے ليكن وہ حرام اور ممنوع كام ميں پڑنے سے محفوظ ہے اسے كوئى خطرہ نہيں؛ تو اس طرح كے شخص كے ليے بہتر اور اولى يہى ہے كہ وہ اپنے آپ كو عبادت و نوافل ميں مشغول ركھنے كى بجائے شادى كرے، اصحاب الرائے كا قول يہى ہے، اور صحابہ كرام رضى اللہ عنہم كا ظاہر قول اور فعل بھى يہى ہے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ اگر ميرى عمر كے دس يوم بھى باقى رہ جائيں اور مجھے علم ہو جائے كہ ميں اس كے آخرى دن مر جاؤں گا اور ميرے اندر نكاح كرنے كى قدرت ہو تو ميں فتنہ ميں پڑنے كے ڈر سے نكاح ضرور كروں.

اور سعيد بن جبير رحمہ اللہ كہتے ہيں: مجھے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہنے لگے: كيا آپ نے شادى كر لى ہے ؟

ميں نے عرض كيا: نہيں!!

تو وہ فرمانے لگے: شادى كر لو، كيونكہ اس امت ميں سب سے بہتر وہ ہے جس كى عورتيں زيادہ ہوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5069 ).

اور ابراہيم بن ميسرہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: مجھے طاؤس كہنے لگے تم شادى ضرور كرو، وگرنہ ميں تمہيں وہى بات كہوں گا جو عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے ابوزوائد كو كہى تھى: تجھے شادى كرنے سے يا تو عجز نے منع كيا ہے يا پھر فجور نے !!.

تيسرى قسم:

جسے شہوت ہى نہ ہو؛ يا تو اس كے ليے شہوت پيدا ہى نہ كى گئى ہو مثلا اس كى آنكھيں نہ ہو بلكہ اندھا ہو، يا پھر اسے شہوت تو ہو ليكن بڑى عمر كا ہونے كے باعث يا بيمارى كے باعث شہوت جاتى رہے تو اس شخص كے ليے دو وجہيں ہيں:

پہلى وجہ:

اوپر ہم جو بيان كر چكے ہيں اس كى عموم كى بنا پر اس شخص كے ليے نكاح كرنا مستحب ہے.

دوسرى وجہ:

اس كے ليے نكاح نہ كرنا بہتر ہے كيونكہ نكاح كرنے كى مصلحت ہى حاصل نہيں ہو گى، اور وہ اپنى بيوى كو كسى دوسرے كے ساتھ شادى كر كے عفت و عصمت حاصل كرنے سے روكنے كا باعث بنےگا، اور اپنے ليے بيوى كو روك كر اسے نقصان دےگا، اور اپنے آپ كو ايسے واجبات اور حقوق كے سامنے ركھے جن كى ادائيگى اس كے ليے مشكل ہو گى اور انہيں ادا نہيں كر سكےگا، اور وہ علم اور عبادت كى بجائے ايسے كام ميں مشغول ہو جائيگا جس ميں كوئى فائدہ نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" امام احمد كى ظاہر كلام يہ ہے كہ: اخراجات كى استطاعت ركھنے اور نہ ركھنے والے ميں كوئى فرق نہيں، اور ان كا كہنا ہے: انسان كو شادى كرنى چاہيے اگر اس كے پاس خرچ كرنے كے ليے مال ہو تو خرچ كرے اور اگر نہ ہو تو صبر كر لے ...

يہ تو اس شخص كے حق ميں ہے جس كے ليے شادى كرنا ممكن ہو، ليكن جس كے ليے شادى كرنا ممكن نہيں تو اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور ان لوگوں كو پاك دامن رہنا چاہيے جو اپنا نكاح كرنے كى استطاعت نہيں ركھتے يہاں تك كہ اللہ تعالى انہيں اپنے فضل سے مالدار بنا دے ﴾. انتہى

ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 9 / 341 - 344 ) اختصار اور كمى و بيشى كے ساتھ.

اس ليے ہم آپ سے دريافت كرتے ہيں كہ آپ نے شادى كيوں نہيں كى اور اس كا سبب كيا ہے:

ـ اگر تو آپ كا خيال ہے كہ شادى نہ كرنا اللہ رب العالمين كے قرب كا باعث ہے، اور آپ سمجھتے ہيں كہ جب شادى نہيں كرينگے تو اس طرح آپ كا اللہ كے ہاں درجہ اور مرتبہ بلند ہو جائيگا تو اس صورت ميں آپ غلطى پر ہيں اور آپ كے گنہگار ہونے كا خدشہ ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

" تين شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ازواج مطہرات كے پاس گھر آئے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى عبادت كے متعلق دريافت كرنے لگے:

جب انہيں آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى عبادت كے متعلق بتايا گيا تو انہوں نے گويا اپنى عبادت كم سمجھى تو كہنے لگے كہاں ہم اور كہاں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ؟ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے تو اللہ تعالى نے اگلے پچھلے سب گناہ معاف كر دے ہيں ان ميں ايك كہنے لگا:

ميں ہميشہ سارى رات نماز ادا كرتا رہوں گا، اور دوسرا كہنے لگا: ميں سارى عمر روزہ ركھوں گا اور كبھى نہيں چھوڑوں گا، اور تيسرا كہنے لگا: ميں عورتوں سے عليحدگى اختيار كرتے ہوئے كبھى شادى نہيں كرونگا.

جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم تشريف لائے تو انہيں اس كے متعلق بتايا گيا آپ ان كے پاس آئے اور فرمايا: كيا تم ہى ہو جنہوں نے ايسے ايسے كہا ہے ؟

اللہ كى قسم ميں تم ميں سب سے زيادہ اللہ كى ڈر اور خشيت ركھتا ہوں اور تقوى والا ہوں، ليكن ميں روزہ بھى ركھتا ہوں اور نہيں بھى ركھتا، ميں رات كو سوتا بھى ہو اور نماز بھى ادا كرتا ہوں، اور ميں نے عورتوں سے شادى بھى كى ہے، چنانچہ جو كوئى بھى ميرى سنت اور طريقہ سے بےرغبتى كريگا وہ مجھ ميں سے نہيں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5063 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1401 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 34652 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

ـ اور اگر آپ جنسى رغبت نہ ہونے كى وجہ سے شادى نہيں كرنا چاہتے، يا پھر آپ كا خيال ہے كہ شادى كے بعد حقوق زوجيت كى ادائيگى نہيں كر سكيں گے، اور آپ كو بيوى كے حقوق پورے كرنے ميں كوتاہى كا خدشہ ہے تو پھر ہم آپ سے يہ كہيں گے كہ:

اس صورت ميں آپ كے ليے شادى نہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن آپ اپنے خيالات اور گمان اور وہم پر اعتماد مت كريں بلكہ اس سلسلہ ميں آپ كو كسى تجربہ كار اور اسپيشلسٹ اور ماہر ڈاكٹر سے مشورہ كريں، اور اس سے كوئى نصيحت طلب كريں كيونكہ وہ ڈاكٹر آپ كى حالت كى تشخيص كر سكتا ہے.

اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس كے پاس آپ كے ليے كوئى ايسا علاج اور نصيحت ہو جو آپ كے خيال ميں بھى نہيں، اس ليے آپ ڈاكٹر كے پاس جانے ميں تردد مت كريں، اور نہ ہى آپ كے ليے ايسا كرنے ميں شرم و حياء آڑے آئے، كيونكہ علاج ميں شرمانا اور حياء نہيں كرنى چاہيے.

ـ ليكن اگر آپ فقر و فاقہ اور تنگ دستى كا ڈر ركھتے ہيں، اور گھريلو اخراجات اور امور كو حل كرنا ممكن نہيں تو ميں آپ سے يہ كہونگا كہ: صحيح اور قريب كى راہ اختيار كريں، اور آپ كو قناعت عفت پر عمل كرتے ہوئے اللہ پر توكل و بھروسہ ركھ كر اللہ پر حسن ظن ركھيں كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى زبان سے عفت و عصمت حاصل كرنے كے ليے شادى كرنے والا شخص جو حلال چاہتا ہے كى مدد و نصرت كرنے كا وعدہ فرمايا ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تين قسم كے افراد كا حق ہے كہ اللہ ان كى مدد و نصرت فرمائے، اللہ كى راہ ميں جھاد كرنے والے شخص كى، اور وہ مكاتبہ كرنے والا غلام جو ادائيگى كرنا چاہتا ہو، اور وہ شخص جو عفت و عصمت كے حصول كے ليے شادى كرنا چاہتا ہو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1655 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

ـ اور اگر آپ كے پاس كوئى ايسا كام ہے جسے آپ پورا كرنا چاہتے ہيں يعنى كوئى كورس كرنا چاہتے ہيں يا پھر كوئى پراجيكٹ وغيرہ پورا كرنا چاہتے ہيں، اور آپ كہتے ہيں كہ ميں پہلے اسے پورا كرونگا اور پھر اس كے بعد شادى كرونگا.

تو ہم آپ كو كہنيگے كہ آپ يہ علت بيان كر كے شادى كو كيوں چھوڑ رہے ہيں ؟

كيونكہ شادى اس كو پورا كرنے ميں كبھى بھى مانع نہيں ہوئى بلكہ غالب طور پر تو يہ اس ميں تشجيع پيدا كرتى ہے اور اس پر ابھارتى ہے، بلكہ يہ تو ايك شيطانى وسوسہ ہے جو اس نے بہت سارے نوجوانوں كے دل ميں ڈال ركھا ہے حتى كہ ہمارے معاشرے كى ثقافت و عادت بن چكى ہے، آپ سنيں گے كہ بہت سارے لوگوں نے اپنى بيٹى يا بيٹے كى شادى صرف انہى دعووں كى نظر كر دي اور اس ميں اتنى تاخير كر دى كہ وہ شادى كى عمر ہى كھو بيٹھے، اور معاشرہ ايك غير شادى شدہ ہى بن كر رہ گيا

جس ميں شادى كى عمر ختم ہو جانا اور شادى ميں تاخير جيسے مرض بن گئے، اس كے باوجود ہم ديكھتے ہيں كہ پہلى نسل كے مسلمانوں ميں نہ تو ترقى اور نہ ہى كسى كام كى تكميل ميں شادى ركاوٹ بنى بلكہ وہ تو شادى جلد كرتے اور اس ميں كسى بھى قسم كى تاخير سے كام نہيں ليتے تھے، اور اس كے باوجود ا ن كے كام اور ايجادات و ترقى اور كام كى تكميل پورے طور پر ہوتى رہى.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" شادى جلد كرنا واجب ہے، نہ تو كوئى نوجوان لڑكا پڑھائى و تعليم كى بنا پر شادى ميں تاخير كرے، اور نہ ہى كوئى نوجوان لڑكى تعليم كى بنا پر شادى سے ركے، كيونكہ شادى كسى چيز ميں مانع نہيں، اس ليے نوجوان لڑكے لئے شادى كر كے اپنے دين و عزت اور عفت و عصمت كو محفوظ ركھنا ممكن ہے اس سے اس كى آنكھوں ميں شرم و حيا پيدا ہوتى ہے اور آنكھين نيچى ہو جاتى ہيں.

شادى ميں بہت سارى مصلحتيں پائى جاتى ہيں، خاص كر اس دور حاضر ميں جو فتنہ وفساد سے بھرا ہوا ہے، اور شادى ميں تاخير كرنے سے نوجوان لڑكے اور لڑكى پر بہت نقصانات مرتب ہوتے ہيں، اس ليے ہر نوجوان لڑكے اور لڑكى كو اگر مناسب اور كفو كا رشتہ ملتا ہے تو اسے جلد از جلد شادى كرنى چاہيے " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن باز ( 20 / 421 ).

پھر اس سب كچھ كے بھى اوپر يہ ہے كہ:

اگر آپ كو يہ علم جائے كہ شادى كرنے سے آپ كا نصف دين محفوظ ہو جاتا ہے تو پھر كيا رد عمل ہو گا:

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى جسے نيك و صالح بيوى عطا فرما دے تو اس نے اس كے نصف دين پر معاونت كر دى، تو باقى آدھے ميں اسے اللہ كا تقوى اختيار كرنا چاہيے "

اسے امام حاكم نے المستدرك ( 2 / 175 ) ميں صحيح سند كے ساتھ نقل كيا ہے، ليكن بخارى و مسلم نے روايت نہيں كيا، اور التلخيص ميں امام ذھبى رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ صحيح ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الترغيب ( 2 / 192 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور اگر آپ كو يہ علم ہو جائے كہ آپ كا شادى كرنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وصيت پر عمل پيرا ہونا ہے تو آپ كيا كہيں گے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نوجوانوں كو نصيحت كرتے ہوئے فرمايا:

" اے نوجوانو كى جماعت! تم ميں سے جو كوئى بھى استطاعت ركھتا ہو وہ شادى كرے، كيونكہ يہ نظروں كو نيچا كر ديتى ہے، اور شرمگاہ كے ليے عفت كا باعث ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5065 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1400 ).

اور پھر اگر يہ بھى آپ كو علم ہو جائے تو كيا ہو گا كہ نيك و صالح اولاد آپ كے ليے صدقہ جاريہ بن جائيگا جب آپ اولاد كى اخلاق و ايمان پر تربيت كريں، اور جب اللہ سے اجروثواب حاصل كرنے كى نيت ركھيں تو يہ شادى كرنا بھى آپ كے ليے اجروثواب كا باعث بنےگى، اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 8891 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور پھر آپ شادى كر كے اپنے آپ كو محفوظ بنائيں گے اور اپنى نظروں كو نيچا كريں گے، اور آپ اپنے ليے شيطان كا سب سے بڑا دروازہ بند كر ديں گے جس ميں سے وہ داخل ہو كر انسان كو گمراہ كرتا ہے، ہو سكتا ہے اس خطرے كو آپ اس وقت محسوس نہيں كر رہے، ليكن فتنہ تو وہاں سے آتا ہے جہاں انسان شعور بھى نہيں ركھتا، اس ليے اس دروازوں كے كھلنے سے قبل ہى اسے بند كرنے كى حرص ركھنى چاہيے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ميں نے اپنے بعد عورتوں كے علاوہ كوئى ايسا فتنہ نہيں چھوڑا جو مردوں كے ليے سب سے زيادہ نقصاندہ ہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5096 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2741 ).

ہمارے عزيز بھائى! شادى ميں اطمنان و سكون اور راحت پائى جاتى ہے، اور يہ دنيا كا سب سے بہتر نفع ہے، اور شادى ميں وہ كچھ ہے جو اللہ تعالى نے لوگوں كے ليے نشانياں بنائى ہيں، اور اسے اپنى كتاب ميں ذكر كيا ہے تا كہ وہ اللہ سبحانہ و تعالى كى عظيم قدرت كے متعلق سوچيں اور غور كريں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس كى نشانيوں ميں يہ بھى شامل ہے كہ اس نے تمہارى ہى جنس سے بيوياں پيدا كيں تا كہ تم ان سے آرام و سكون پاؤ، اس نے تمہارے درميان محبت اور ہمدردى قائم كر دى، يقينا اس ميں غور و فكر كرنے والوں كے ليے بہت سارى نشانياں ہيں ﴾الروم ( 21 ).

تو كيا اس كے بعد بھى كچھ باقى رہ جاتا ہے جو آپ چاہتے ہيں؟!

آپ پختہ عزم كرتے ہوئے اللہ پر بھروسہ اور توكل كريں اللہ سبحانہ و تعالى آپ كى مدد كريگا، اور آپ كے ليے نيك و صالح بيوى مہيا كر ديگا جو اللہ سبحانہ و تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى ميں آپ كى معاون كريگى، اور آپ كو نيك و صالح اولاد فرمائيگا جو آپ كے ليے روز قيامت كے ليے زخيرہ و توشہ بن جائيگى.

مزيد آپ سوال نمبر ( 6254 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments