83056: ميت نے بيوى اور دو بيٹے اور تين بيٹياں چھوڑيں


ميرا سگا بھائى فوت ہوا اور اس نے اپنے پيچھے بيوى، ماں، اور دو بيٹے، اور تين بيٹياں سوگوار چھوڑيں، جن ميں سے ايك بالغ ہو چكى ہے، ميں نے اس كى ممتلكات كو فروخت كيا جس كى قيمت ( 190000 ) ريال بنى ہے، جس ميں سے ميں اس كى اولاد بيوى پر خرچ كر رہا ہوں، اور اس ميں سے تقريبا اٹھارہ ماہ قرض بھى ادا كيا حتى كہ ان كى ريٹائرمنٹ كى تنخواہ آنا شروع ہوئى، اب ميں ہر وارث كو اس كا حصہ دينا چاہتا ہوں جس ميں سے تقريبا ايك لاكھ ساٹھ ہزار ريال باقى بچا ہے، تو اس طرح ہر ايك كا حصہ كيا بنےگا ؟

الحمد للہ:

اول:

چھوٹے اور بڑے كى وراثت كے درميان كوئى فرق نہيں، لہذا چھوٹے بچوں كو بھى وراثت سے بڑوں جتنا ہى حصہ ملےگا سب برابر ہيں.

ليكن چھوٹے بچے كو وراثت كا مال اس كے سپرد كرتے ہوئے اس كے ہاتھ ميں نہيں ديا جائيگا، بلكہ اس كے ولى كو ديا جائيگا جو اس كى پرورش كا ذمہ دار بنا ہے، اور اس كى تعيين اس معاملہ كے متعلق خاص ادارہ اور محكمہ كريگا تا كہ يتيموں كے اموال كى حفاظت ہوسكے.

دوم:

اگر تو وہى اشخاص وارث ہيں جن كا آپ نے سوال ميں ذكر كيا ہے تو اس صورت ميں بيوى كو آٹھواں حصہ ملےگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور ان ( بيويوں ) كے ليے مال متروكہ ميں سے چوتھا حصہ ہے جو تم چھوڑ كر مرو، اگر تمہارى اولاد نہ ہو، اور اگر تمہارى اولاد ہو تو پھر ان كے ليے تمہارے متروكہ مال كا آٹھواں حصہ ہے ﴾النساء ( 12 ).

اور ماں كو چھٹا حصہ ملےگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس كے والدين ميں سے ہر ايك كو مال متروكہ كا چھٹا حصہ ملے گا اگر اس كى اولاد ہو ﴾النساء ( 11 ).

اور باقى مانندہ مال اولاد كو اس طرح ملےگا كہ ايك لڑكے كو دو لڑكيوں كے حصہ كے برابر ديا جائيگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہيں تمہارى اولاد كے متعلق حكم كرتا ہے كہ ايك لڑكے كا حصہ دو لڑكيوں كے برابر ہے ﴾النساء ( 11 ).

سوم:

جس تركہ كے متعلق سوال كيا گيا ہے اس كى تقسيم كچھ اس طرح ہو گى:

اسے برابر چوبيس حصوں ميں تقسيم كيا جائيگا، جن ميں سے بيوى كو تين حصے ملينگے، اور ماں كو چار حصے، اور باقى ( 17حصے ) اولاد ميں اس طرح تقسيم ہونگے كہ ايك لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ديا جائيگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments