83191: كيا وہ فرضى حج كى ادائيگى كرے يا كہ اس مال سے بيٹے كى شادى؟


اگر كوئى شخص فرضى كرنا چاہے اور اس كا بيٹا شادى كى عمر ميں ہو تو كيا اسے پہلے بيٹے كى شادى ميں مال صرف كرنا چاہيے يا كہ وہ اپنا فريضہ حج كى ادائيگى كرے، دونوں ميں افضل كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

علماء كرام كا صحيح قول يہى ہے كہ اگر بيٹا شادى كا محتاج ہو اور شادى كے اخراجات برداشت كرنے سے قاصر ہو تو والد اس كى شادى كے اخراجات كر كے اس كى شادى كرے، كيونكہ شادى كى حاجت كھانے پينے سے كم نہيں ہو سكتى، اس ليے يہ واجب كردہ نفقہ و اخراجات ميں شامل ہوگى.

المرداوى نے " الانصاف " ميں كہا ہے كہ:

" آباء و اجداد اور بيٹوں اور پوتوں وغيرہ ميں سے جن كا خرچ آدمى كے ذمہ واجب ہے اس كى عفت و عصمت كا بھى خيال كرنا اس پر واجب ہے، امام احمد كے مسلك ميں بھى صحيح يہى ہے " انتہى.

ديكھيں: الانصاف ( 9 / 204 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" بعض اوقات انسان كے ليے شادى كى ضرورت بالكل اسى طرح ہو جاتى ہے جس طرح كھانا پينا ضرورى ہوتا ہے، اسى ليے اہل علم كا كہنا ہے كہ: اگر مال كى وسعت ہو تو آدمى كے ليے اپنے ذمہ واجب خرچ والے شخص كى شادى كرنا واجب ہے.

چنانچہ اگر بيٹا شادى كا محتاج ہو اور اس كے پاس شادى كر اخراجات نہ ہوں تو والد كے ليے اپنے بيٹے كى شادى كرنا واجب ہے، ليكن ميں نے سنا ہے كہ بعض باپ اپنى جوانى كى حالت بھول كر بيٹے كو كہتے ہيں اپنى كمائى سے شادى كرو، جو كہ جائز نہيں، بلكہ اگر وہ بيٹے كى شادى كرنے پر قادر ہو تو اس كے ليے بيٹے كى شادى كے اخراجات برداشت نہ كرنا حرام ہيں، جب باپ طاقت ہونے كے باوجود بيٹے كى شادى نہيں كرتا تو قيامت كے روز بيٹا والد كے خلاف مقدمہ دائر كريگا " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اركان الاسلام ( 140 - 141 ).

دوم:

اور اگر بيٹے كى شادى اور والد كا فرضى حج آپس ميں معارض ہو كہ والد كے پاس مال دونوں كاموں ميں سے صرف ايك كے ليے كافى ہو تو پھر بيٹے كے نكاح ميں ديكھا جائيگا كہ آيا ابھى ضرورى ہے يا كہ اس ميں تاخير كرنا ممكن ہے ؟

اور اگر بيٹا نكاح كا محتاج ہو اور اس كے حرام كام ميں پڑنے كا خدشہ ہو تو نكاح اس كے اپنے حج پر مقدم كيا جائيگا، اور اسى طرح والد كے حج پر بھى مقدم كيا جائيگا، اس كى دو وجہيں ہيں:

پہلى وجہ:

اس كى عفت و عصمت ميں ركھنا، اور اسے حرام كام ميں پڑنے سے بچانا واجب ہے، يہ تاخير كا متحمل نہيں ہو سكتا، ليكن حج ميں تاخير ممكن ہو جب اللہ تعالى آسانى پيدا كرے تو حج كر ليا جائے.

دوسرى وجہ:

باپ پر حج اس وقت فرض ہوتا ہے جب اس كے پاس اہل و عيال اور جن كا خرچ اسكے ذمہ واجب ہے كے اخراجات سے مال زيادہ ہو، اور يہاں بيٹے كى شادى كرنا اس كے ليے لازم ہے تا كہ بيٹا حرام كام ميں نہ پڑے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور وہ نكاح كى محتاج ہو اور اسے اپنے آپ پر مشقت ميں پڑنے كا خدشہ ہو تو _ حج پر _ شادى مقدم كى جائيگى، كيونكہ يہ واجب ہے، اور اس كے بغير كوئى چارہ نہيں، اور يہ نفقہ و اخراجات كى طرح ہى ہے، اور اگر خدشہ نہ ہو تو پھر حج مقدم ہو گيا؛ كيونكہ نكاح نفلى ہے، چنانچہ اسے فرضى حج پر مقدم نہيں كيا جائيگا " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ المقدسى ( 5 / 12 ).

آپ المجموع للنووى ( 7 / 71 ) كا بھى مطالعہ ضرور كريں.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 27120 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

ليكن اگر بيٹا نكاح كا محتاج نہ ہو، اور يا پھر نكاح مؤخر كرنے ميں اس كے حرام كام ميں پڑنے كا خدشہ بھى نہ ہو تو اب اس كى شادى كرنى لازم نہيں بلكہ باپ اپنا فرضى حج ادا كرے؛ كيونكہ وہ اپنے اور اپنے اہل و عيال كے خرچ سے زائد مال كا مالك ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور لوگوں پر اللہ كے ليے بيت اللہ كا حج كرنا فرض ہے، جو اس كى وہاں تك جانے كى استطاعت ركھے، اور جو كوئى كفر كرے تو اللہ تعالى سب جہان والوں سے غنى ہے ﴾آل عمران ( 97 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments