Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
83242

فليٹ كے برتن استعمال كر كے واپس نہ كرنا

ميں نے ايك فليٹ بمع سامان كرايہ پر ليا اور كسى جاننے والے كے گھر فليٹ كے برتن ميں كھانا بھيجا، مجھے ياد نہيں كہ اس نے وہ برتن واپس كيا يا نہيں، ہمارے ہاں يہ رواج ہے كہ جس برتن ميں كھانا ديا جائے وہ واپس كرنا ضرورى ہے! اب ميں وہ فليٹ چھوڑ چكى ہوں، تو كيا وہ برتن واپس كرنا ميرے ذمہ ہے يا كہ ميرے جاننے والے پر، يا اس برتن كى قيمت فليٹ كے مالك كو واپس كرنا ہوگى ؟

الحمد للہ:

اول:

رہائش كے ليے بمع سامان تيار شدہ فليٹ كرايہ پر حاصل كرنا كرايہ كے معاہدہ جات كے احكام ميں شامل ہوتا ہے جو فقھاء نے اپنى كتب ميں بيان كيے ہيں.

" يہ معاہدہ لوگوں كى زندگى ميں ان كے فوائد كے ليے كئى بار ہوتا ہے، اور اس كا لين دين يومي، يا ماہانہ، يا سالانہ كے حساب سے ہوتا ہے، اس ليے اس كے احكام كا معلوم ہونا ضرورى ہے، كيونكہ لوگوں ميں مختلف مقامات اور اوقات ميں كوئى بھى ايسا لين دين نہيں جس كا شريعت نے حكم بيان نہ كيا ہو، اور مصلحت كا خيال اور نقصان سے بچاؤ كو مدنظر ركھتے ہوئے اس كے شرعى اصول و ضوابط مقرر نہ كيے ہوں " انتہى.

ماخوذ از: الملخص الفقھي ( 2 / 114 ).

اجرت اور مزدورى كے جو احكام علماء كرام نے بيان كيے ہيں ان ميں يہ بھى شامل ہے كہ: كرايہ دار كے ليے كرايہ پر لى گئى چيز كو عاريتا دينا جائز ہے، جيسا كہ المغنى المحتاج ميں بيان ہوا ہے كہ: وہ اسے استعمال كرنے كے بعد واپس كر دے.

ديكھيں: المغنى المحتاج ( 3 / 315 ).

اس بنا پر آپ كے ليے وہ برتن اپنے جاننے والوں كو عاريتا دينے ميں كوئى حرج نہيں.

دوم:

كرايہ پر ليا گيا فليٹ يا وہ اشياء جو كرايہ پر لى جاتى ہى كرايہ دار كے پاس امانت ہے، اس كا معنى يہ ہوا كہ: اگر اس كى بغير كسى كوتاہى اور زيادتى كے وہ چيز ضائع اور تلف ہو جائے تو وہ اس كا ضامن نہيں ہوگا.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ كرايہ پر لى گئى چيز كرايہ دار كے پاس امانت ہے، تو اگر وہ چيز كرايہ دار كى زيادتى يا كوتاہى كے بغير، يا جس كى اجازت دى گئى ہے اس كى مخالفت كے بغير، يا اس كى حفاظت يا صفائى ركھنے ميں كوتاہى كے بغير ضائع ہو جائے، تو اس پر ضمان نہيں يعنى وہ ضامن نہيں ہوگا " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 1 / 27 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ بدائع الصنائع ( 4 / 210 ) اور المغنى ابن قدامہ ( 5 / 311 ) كا مطالعہ كريں.

اور اگر كرايہ پر لى گئى چيز كرايہ دار كى كوتاہى يا زيادتى كى بنا پر ضائع ہو جائے تو پھر كرايہ دار ضامن ہے، اور اسے اس كى مثل چيز دينا ہوگى، اگر اس كى مثل نہ ملے تو وہ اس كى قيمت ادا كريگا.

سوال كرنے والى بہن كے سوال جو بات ظاہر ہوتى ہے وہ يہ كہ اس نے برتن عاريتا دينے كے بعد اس كا خيال نہيں كيا كہ آيا وہ واپس كيا گيا ہے يا نہيں، اسے چاہيے تھا كہ وہ ان سے واپس طلب كرتى، جب ايسا نہيں ہوا تو يہ اس كى جانب سے كوتاہى ہوئى ہے، اس ليے اسے اس برتن كى ضمان دينا ہوگى، يا تو وہ اپنے جاننے والوں سے وہ برتن لے كر فليٹ والوں كو واپس كرے، يا پھر اس طرح كا برتن خريد كر اس كے بدلے ميں انہيں دے، اور اگر اس طرح كا برتن نہ ملے تو اس كى قيمت ادا كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments