Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
8341

سرخ رنگ كا لباس پہننا

ميں نے سنا ہے كہ مرد كے ليے سرخ رنگ كا لباس زيب تن كرنا صحيح نہيں، اس كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

مردوں كے ليے سرخ لباس زيب تن كرنے كے مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے، اس ميں مختلف احاديث وارد ہيں، جن ميں كچھ احاديث سرخ لباس پہننے سے منع كرتى ہيں، اور كچھ ميں جواز پايا جاتا ہے؛ اور ان سب احاديث ميں الحمد للہ جمع اور تطبيق ممكن ہے، كيونكہ شريعت كى احاديث ميں حقيقتا كوئى تعارض نہيں، اس ليے كہ ان كا مصدر ايك ہى ہے.

اس مسئلہ ميں راجح قول ان احاديث ميں جمع اس طرح ہے:

اگر لباس ميں سرخ رنگ كے ساتھ دوسرے رنگ بھى ہوں تو جائز ہے، اور صرف خالص سرخ رنگ پہننا جائز نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا ہے.

اس مسئلہ كے متعلق ذيل ميں چند ايك احاديث پيش كى جاتى ہيں:

وہ احاديث جو صرف اور خالص سرخ رنگ كا لباس پہننے كى ممانعت پر محمول ہيں:

1 - براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں سرخ چٹائى اور ريشمى دھاگہ سے بنے ہوئے كپڑے سے منع فرمايا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5390 ).

2 - ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مجھے سرخ كپڑے اور سونے كى انگوٹھى، اور ركوع ميں قرآن پڑھنے سے منع كيا گيا ہے "

سنن نسائى حديث نمبر ( 5171 ) علامہ البانى رحمہ اللہ كہتے ہيں اس كى اسناد صحيح ہے، ديكھيں صحيح سنن نسائى حديث نمبر ( 1068 ).

3 - عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس سے ايك شخص گزرا جس نے دو سرخ كپڑے پہن ركھے تھے، اس نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو سلام كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جواب نہ ديا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2731 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 3574 )، اما ترمذى كہتے ہيں: يہ حديث اس طريق سے حسن غريب ہے.

اور اہل علم كے ہاں اس حديث كا معنى يہ ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے معصفر يعنى زرد رنگ سے رنگے ہوئے كپڑے كو ناپسند كيا، اور ان كى رائے ہے كہ جو مٹيالے سرخ رنگ وغيرہ سے رنگے ہو اس ميں كوئى حرج نہيں، جبكہ اس ميں معصفر يعنى زرد رنگ نہ ہو"

اس حديث كو علامہ البانى رحمہ اللہ نے ضعيف سنن ابو داود ( 403 ) ميں اور ضعيف سنن ترمذى ( 334 ) ميں ضعيف قرار ديتے ہوئے ضعيف الاسناد كہا ہے.

ب : اگر سرخ رنگ كسى اور رنگ كے ساتھ مخلوط ہو تو اس كے جواز پر دلالت كرنے والى احاديث:

1 - ھلال بن عامر اپنے باپ سے بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو خچر پر سرخ چادر پہنے ہوئے خطبہ ديتے ہوئے ديكھا، اور على رضى اللہ تعالى عنہ آپ كى بات آگے لوگوں تك پہنچا رہے تھے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3551 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 767 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، اور يعبر عنہ كا معنى ہے كہ وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بات دھراتے تھے تا كہ لوگوں تك پہنچ جائے.

2 - براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم درميانہ قد كے تھے، ميں نےانہيں سرخ جبہ ميں ديكھا تو وہ اتنے حسين اور خوبصورت لگ رہے ميں نے آپ صلى اللہ عليہ وسلم سے خوبصورت كبھى كوئى نہيں ديكھا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5400 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 4308 ).

3 - براء رضى اللہ تعالى عنہ ہى فرماتے ہيں:

" ميں نے كانوں تك زلفوں والے اور سرخ جبہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے زيادہ كوئى خوبصورت نہيں ديكھا، آپ كے بال كانوں كو لگ رہے ہوتے تھے، اور دونوں كندھوں كے درميان فاصلہ تھا نہ تو آپ چھوٹے قد والے تھے اور نہ ہى لمبے قد والے بلكہ درميانہ قد كے مالك تھے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1646 ) امام ترمذى كہتے ہيں اس باب ميں جابر بن سمرہ اور ابو رمثہ اور ابو جحيفہ كى احاديث ہيں، اور يہ حديث حسن صحيح ہے، اور لمہ كا معنى ہے كہ بال كانوں تك ہوں تو اسے لمہ كہتے ہيں.

4 - براء رضى اللہ تعالى عنہ ہى بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كانوں كى لو تك پہنچ رہے ہوتے تھے، اور ميں آپ صلى اللہ عليہ وسلم كو سرخ جبہ ميں ديكھا تو آپ سے خوبصورت كوئى چيز نہيں ديكھى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4072 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3599 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 768 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

5 - اور امام بيہقى نے سنن بيہقى ميں روايت كي ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم عيد كے روز اپنى سرخ چادر پہنا كرتے تھے "

حلۃ الحمراء سے مراد يمن كى بنى ہوئى وہ دو چادريں ہيں جن ميں سرخ اور سياہ دھارياں تھيں، يا سبز، اور اسے سرخ اس ليے كہا گيا ہے كہ اس ميں سرخ دھارياں تھيں.

كئى ايك اہل علم جن ميں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شامل ہيں يہى كہتے ہيں.

ديكھيں: فتح البارى شرح حديث نمبر ( 5400 ) اور زاد المعاد ( 1 / 137 ).

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments