83762: عورت كے پاس حج كے ليے مال كافى ہے ليكن محرم نہيں


ميں ملك مغرب كى رہائشى ہوں اور ميرى عمر پينتيس برسہے ميرے پاس كچھ مال ہے ( ميرے خيال ميں اتنا مال كسى اور وقت نہيں آسكتا ) بہت سوچ و بچار كے بعد ميں نے يہى فيصلہ كيا ہے كہ حج پر جانے سے بہتر كوئى مصرف نہيں كيونكہ مجھے اس جگہ جانے كا شوق بھى بہت ہے، اور ميرى زندگى كى خواہش بھى يہى ہے، ميرى تمنا ہے كہ اللہ تعالى ميرى اس خواہش سے مجھے محروم نہ ركھے.
ليكن مشكل يہ درپيش آ رہى ہے كہ ميرا كوئى محرم ميرے ساتھ جانے كے ليے تيار نہيں، ميرا بھائى مالى حالت كى بنا پر ميرے ساتھ نہيں جا سكتى اور اسى طرح ميرے والد صاحب بھى، آپ سے گزارش ہے كہ ميرى اس مشكل كا كوئى حل بتائيں.

الحمد للہ:

محرم كے بغير عورت كے ليے سفر كرنا جائز نہيں چاہے اس كا سفر فرضى حج يا عمرہ كے ليے ہى كيوں نہ ہو.

صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" محرم كے بغير عورت سفر مت كرے، اور نہ ہى كوئى شخص خلوت ميں اس كے پاس جائے الا يہ كہ عورت كا محرم ساتھ ہو.

تو ايك شخص نے عرض كيا: ميرا تو ارادہ فلاں فلاں لشكر كے ساتھ جانے كا ہے،اور ميرى بيوى حج پر جانا چاہتى ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم اپنى بيوى كے ساتھ جاؤ "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1729 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 2391 )

اس اور اس كے علاوہ دوسرى احاديث جو بغير محرم عورت كے سفر كى حرمت پر دلالت كرتى ہيں كى بنا علماء كرام كى ايك جماعت نے عورت پر حج فرض ہونے كى شروط ميں ايك شرط عورت كے محرم كا ہونا بھى ركھى ہے اس ليے اگر آپ كے ساتھ جانے كے ليے محرم نہيں تو آپ پر حج فرض نہيں ہے اور آپ معذور ہيں، اور ان شاء اللہ آپ كو اپنى نيت كا اجروثواب حاصل ہوگا.

امام احمد رحمہ اللہ تعالى سے سوال كيا گيا كہ:

ايك مالدار عورت كے پاس محرم نہيں تو كيا اس پر حج فرض ہوتا ہے ؟

امام احمد رحمہ اللہ نے جواب ديا: نہيں "

ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 3 / 97 ).

مستقل فتوى كميٹى كے علماء سے درج ذيل سوال كيا گيا:

مجھے ايك مشكل درپيش ہے اور ميں اس كا حل اللہ تعالى سے اس كے بندوں كے ذريعہ حاصل كرنا چاہتى ہوں، وہ مشكل فريضہ حج كى ادائيگى كے متعلق ہے، ميں پچاس برس كى ہوں اور تقريبا دو برس سے فريضہ حج كے ليے جانے كى كوشش ميں ہوں ليكن ميرے سفر كى ركاوٹ يہ ہے كہ ميرے ساتھ جانے كے ليے محرم تيار نہيں ہوتا.

ميرے خاوند كو تو مال و دولت اور دنياوى معاملات كے علاوہ كوئى اور كام ہى نہيں سوجھتا، وہ حج پر جانے كا ارادہ ہى نہيں ركھتا، يہ ہو سكتا ہے كہ اگر اس كى كمپنى اسے وہاں بھيج دے، اور يہ اس كى بارى پر ہى ہوگا، ليكن مجھے خدشہ ہے كہ اس كى بارى آنے تك كہيں ميرى موت نہ آ جائے اور ميں اس ميں كوتاہى كرتے ہوئے فوت ہو جاؤں، اور ميرے پاس مال بھى ہو.... خلاصہ يہ ہے كہ ميرے سب محرم اپنے كاموں ميں مشغول ہونے كى بنا پر ميرے ساتھ جانے كى استطاعت نہيں ركھتے.

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا بيان كيا گيا ہے ـ كہ آپ كا خاوند يا كوئى اور محرم فريضہ حج كى ادائيگى كے ليے آپ كے ساتھ نہيں جا سكتا ـ تو جب تك آپ كى حالت يہ ہے اس وقت تك آپ پر حج فرض ہى نہيں ہوتا؛ كيونكہ حج كے ليے جانے كے سفر ميں خاوند يا كوئى دوسرے محرم كا ساتھ ہونا آپ پر حج فرض ہونے كى شرط ہے، اور آپ كے ليے آپ كے ليے بغير محرم حج يا كوئى اور سفر كرنا حرام ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" محرم كے بغير كوئى بھى عورت سفر نہ كرے "

متفق عليہ.

آپ دوسرے اعمال صالح سرانجام دينے كى كوشش كريں جن ميں سفر كرنے كى ضرورت نہيں ہوتى، اور صبر كرتے ہوئے اللہ تعالى سے يہ اميد ركھيں كہ آپ كا معاملہ آسان ہو جائے، اور خاوند يا پھر كسى دوسرے محرم كے ساتھ حج كے سفر ميں آسانى پيدا ہو جائے " انتہى مختصرا

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 95 ).

ہم اللہ تعالى سے اپنے اور آپ كے ليے توفيق اور سيدھى راہ كى دعا كرتے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments