Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
83782

كيا عورت عقد نكاح تحرير كر سكتى ہے ؟

ہمارے ملك ميں عورتيں نكاح تحرير كرتى اور گواہ بناتى ہيں، اس طريقہ سے عقد نكاح تحرير كرتى ہيں ميں جانتا ہوں كہ گواہ اور ولى كا مرد ہونا شرط ہے، تو كيا عورت كے ليے عقد نكاح تحرير كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

عقد نكاح تحرير كرنے والے كو نكاح رجسٹرار اور نكاح لكھنے والا اور نكاح خوان كا نام ديا جاتا ہے.

اور يہ وہ شخص ہوتا ہے جو شرعى ترتيب سے عقد نكاح كى شروط و اركان كے ساتھ عقد نكاح كرتا ہے، اور اسے احاطہ تحرير ميں لا كر نكاح نامہ كى صورت ميں تحرير كرتا ہے.

نكاح رجسٹرار كے اعمال ميں شامل ہے كہ وہ يہ يقين كر لے كہ لڑكى اس نكاح پر راضى ہے اور اور اس كى موافقت حاصل كى گئى ہے يا نہيں، اس كے ليے وہ مطلقہ يا بيوہ عورت سے پوچھ كر اور كنوارى سے اجازت لے كر يقين كريگا.

اور اس كے ساتھ ساتھ طرفين كى شروط كى معرفت بھى ہونى چاہيے، اور يہ يقين كرے كہ آيا اس شادى ميں كوئى موانع تو نہيں پايا جا رہا.

نكاح رجسٹرار كے كام ميں يہ يقين كرنا بھى شامل ہے كہ آيا ولى شريعت كے موافق و مطابق ہے يا نہيں، اور گواہوں كے بارہ ميں بھى يقين كرے كہ آيا وہ گواہى كے قابل بھى ہيں يا نہيں اور ان كى گواہى كى توثيق بھى كرے.

نكاح رجسٹرار كے اعمال ميں يہ بھى شامل ہے كہ: وہ مہر كى مقدار معلوم كر كے اس كى توثيق كرے، آيا كہ بيوى يا اس كے ولى نے مہر حاصل كر ليا ہے يا كہ اس ميں سے كچھ يا سارا مہر باقى ہے.

اور نكاح رجسٹرار عورت يعنى جو عورت نكاح احاطہ تحرير ميں لاتى ہے يہ قضاء كى فروعات ميں شامل ہوتى ہے، بلكہ يہ شرعى قاضى كى نائب ہے، اس ليے نكاح رجسٹرار بعض ان صفات سے متصف ہو جو شرعى قاضى ميں پائى جاتى ہيں اس ميں سب سے بڑى صفت اس كا مسلمان اور مرد اور عاقل و بالغ ہونا شامل ہے.

عورت كے ليے عقد نكاح كے معاملات طے كرانا يعنى مہر وغيرہ اور طرفين كى رضامندى وغيرہ تو جائز ہے، ليكن عورت كسى دوسرى عورت اور مرد كا نكاح كرے يہ جائز نہيں، اس سلسلہ ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا اثر پيش خدمت ہے:

ابن جريج رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ:

" عائشہ رضى اللہ تعالى جب اپنى عورتوں ميں سے كسى كا نكاح كرنا چاہتيں تو وہ اس كے خاندان كے كچھ لوگوں كو بلاتيں تو وہ خود بھى ان كے ساتھ موجود ہوتيں جب سب كچھ طے پاجاتا اور صرف نكاح باقى رہ جاتا تو كسى شخص كو كہتيں:

يا فلاں نكاح پڑھاؤ كيونكہ عورتيں نكاح نہيں پڑھاتيں "

مصنف عبد الرزاق ( 6 / 201 ) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح البارى ( 9 / 186 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ان كى بہن كے بيٹوں ميں سے جب كوئى نوجوان ان كے بھائى كى بيٹى كى طرف مائل ہوتا اور اس سے نكاح كى خواہش ركھتا تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا ان كے مابين پردہ گرا كر بات كرتيں جب صرف نكاح باقى رہ جاتا تو كہتيں:

اے فلاں نكاح پڑھاؤ، كيونكہ عورتيں نكاح نہيں پڑھاتيں"

مصنف ابن ابى شيبۃ ( 3 / 276 ).

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے ايسى روايت بھى وارد ہے جس سے وہم ہوتا ہے كہ عورت عقد نكاح كر سكتى ہے، احناف نے اسى سے عقد نكاح ميں ولى كى عدم شرط سے استدلال كيا ہے.

قاسم بن محمد بيان كرتے ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زوجہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے حفصہ بنت عبد الرحمن كى شادى منذر بن زبير كى تو اس وقت عبد الرحمن شام ميں تھے، جب وہ شام سے آئے تو كہنے لگے:

مجھ جيسے شخص كے ساتھ ايسے كيا جاتا ہے؟ اور مجھ جيسے شخص كا اتنے اہم معاملہ ميں مشورہ نہ بھى كيا جائے؟

تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے منذر بن زبير سے بات كى تو منذر نے اپنا يہ معاملہ عبد الرحمن رضى اللہ تعالى عنہ كے ہاتھ دے ديا.

چنانچہ عبدالرحمن رضى اللہ كہنے لگے: عائشہ آپ نے جو فيصلہ كيا تھا ميں اسے رد نہيں كرنا چاہتا، تو حفصہ منذر رحمہ اللہ كے نكاح ميں ہى رہيں اور يہ طلاق نہيں تھى "

مؤطا امام مالك حديث نمبر ( 1182 ) اس كى سند صحيح ہے.

ليكن احناف اس سے جو سمجھے ہيں وہ صحيح نہيں بلكہ غلط ہے، عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے وارد شدہ مندرجہ بالا اثر كا معنى اس اثر كے موافق ہے جو پہلے بيان كيا جا چكا ہے.

امام ابو وليد باجى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قولہ: ( عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے حفصہ كى شادى كى ..... ) اس سے دو امر كا احتمال ہے:

پہلا احتمال:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے حفصہ كا نكاح خود كيا، اسے ابن مزين نے عيسى بن دينار سے روايت كيا ہے, وہ كہتے ہيں اس پر عمل نہيں ہے، يعنى جہا عيسى بن دينار رہتے تھے كہ اہل مدينہ كا اس پر عمل نہيں؛ كيونكہ وہ مالكى اور مدينہ كے فقھاء ميں شامل ہيں جو عورت كا پڑھا نكاح جائز قرار نہيں ديتے، بلكہ رخصتى سے قبل اور بعد ہر حال ميں يہ نكاح فاسد قرار ديتے ہيں.

دوسرا احتمال:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہ نے مہر وغيرہ اور نكاح كے دوسرے امور طے كيے، اور عقد نكاح اپنے كسى عصبہ مرد سے پڑھوايا، اسے اس اثر ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہ كى جانب اس ليے منسوب كر ديا گيا كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے ہى سب كچھ كيا تھا.

ليكن يہ روايت ہے كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نكاح كے امور وغيرہ طے كرتيں اور پھر فرماتيں: نكاح پڑھاؤ، كيونكہ عورتيں عقد نكاح نہيں پڑھايا كرتيں "

صحابہ كرام كے اقوال ميں يہى معروف ہے كہ عورت نہ تو اپنا نكاح خود كر سكتى ہے اور نہ ہى كسى دوسرى عورت كا نكاح پڑھا سكتى ہے.

ديكھيں: المنتقى شرح المؤطا ( 3 / 251 ).

اور ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس باب ميں جو حديث ہے اس ميں يہ قول كہ:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے اپنے بھائى عبد الرحمن رضى اللہ تعالى عنہ كى بيٹى حفصہ كا نكاح منذر بن زبير سے كيا "

يہ اپنے ظاہر پر نہيں، اور اس سے راوى كى يہ مراد نہيں كہ عائشہ رضى اللہ تعالى نے حفصہ كا نكاح پڑھايا، بلكہ واللہ اعلم مراد يہ ہے كہ انہوں نے عقد نكاح كے علاوہ باقى سارے امور طے كيے مثلا مہر اور رضامندى وغيرہ.

اس كى دليل دوسرى روايت ہے جس ميں بيان كيا گيا ہے كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا جب منگنى اور مہر و رضامندى وغيرہ كے امور طے كر ليتيں تو فرماتيں: تم عقد نكاح پڑھاؤ كيونكہ عورتيں عقد نكاح نہيں پڑھايا كرتيں "

ان كا كہنا ہے: ہو سكتا ہے كوفي امام مالك كى حديث جو عبد الرحمن بن قاسم كے طريق سے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے اس باب ميں بيان ہوئى ہے سے استدلال كرتے ہوں كہ عورت كے ليے نكاح پڑھانا جائز ہے!

ليكن ان كى اس حديث كوئى دليل نہيں جيسا كہ ہم ابن جريج كى حديث سے بيان كيا ہے؛ اور اس ليے بھى كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا ان ميں شامل ہوتى ہيں جو درج ذيل حديث كو آخر ميں بيان كرنے والوں ميں شامل ہيں كہ:

" ولى كے بغير نكاح نہيں ہوتا "

اور ولى كا اطلاق تو عصبہ مرد پر ہوتا ہے عورتوں پر نہيں.

ديكھيں: الاستذكار ( 6 / 32 ).

خلاصہ يہ ہوا كہ:

عورت كے ليے عقد نكاح كے تمہيدى امور نپٹانے جائز ہيں، ليكن وہ خود نكاح نہيں پڑھا سكتى، كيونكہ يہ تو قاضى يا اس كے نائب كا كام ہے، اور اس كى شرط ميں مرد ہونا شامل ہے.

جب شرعى عقد نكاح دو گواہوں اور طرفين كى رضامندى اور ولى كى موجودگى ميں كيا گيا ہو، اور نكاح كى توثيق اور تحرير عورت كرے، مثلا عدالت ميں عورت ملازمہ ہو كہ وہ نكاح كے امور رجسٹر كيا كرے تو اس ميں ظاہرا تو كوئى مانع نہيں؛ كيونكہ عقد نكاح ہوچكا ہے اب باقى صرف توثيق اور رجسٹريشن رہ گئى ہے.

ليكن عقد نكاح پر عورت كى گواہى يا پھر گواہوں كو جانچنے كے ليے عورت سے رجوع كرنا، يا پھر بغير ولى كے عورت نكاح پڑھائے تو يہ جائز نہيں ہوگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments