83829: فوت شدگان كے ليے قرآن خوانى كا حكم


ميرے والد صاحب فوت ہو چكے ہيں اپنى عمر كے آخرى چار برس بيمار رہے اور رمضان المبارك ميں فوت ہوئے تو ان كى عمر باون برس ( 52 ) تھى وہ فالج اور شوگر اور بلڈ پريشر كے مريض تھے نہ تو حركت كر سكتے تھے اور چلنے پھرنے سے بھى قاصر تھے.
ميں يہ معلوم كرنا چاہتا ہوں كہ آيا ان كے ليے نمازوں سے چھٹكارا يا خلاصى كى كوئى صورت ہے، بعض علماء كہتے ہيں كہ يہ اس طرح ہو سكتا ہے كہ كوئى مشائخ اور پيروں كے ذريعہ ان پر قرآن مجيد پڑھا جائے يہ كام وہى كر سكتے تھے تو ايسا ہو سكتا ہے، ليكن بعض رائے اس كے مخالف ہيں، ميں سوال كا جواب چاہتا ہوں، اور پھر والد صاحب پر آخرى ايام كے روزوں كا كفارہ بھى ہے يا نہيں كيونكہ وہ خطرناك مرض كا شكار تھے يا كہ ان كے ليے نمازوں سے چھٹكارا كے ليے لوگوں كے كہنے كے مطابق قرآن خوانى كى جائے ؟

الحمد للہ:

اول:

قرآن مجيد كى تلاوت كرنا خالصتا بدنى عبادات ميں شامل ہوتا ہے، فوت شدہ كے ليے قرآن مجيد كى تلاوت كر كے اجرت لينا جائز نہيں، اور قرآن خوانى كرنےوالے كو اجرت دينا بھى جائز نہيں ہے، بلكہ اس ميں اجروثواب بھى نہيں ہے، اور اس حالت و صورت ميں اجرت دينے اور لينے والا دونوں ہى گنہگار ہونگے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قرآت پر كسى شخص كو اجرت اور مزدورى پر لانا اور قرآت فوت شدہ شخص كو ہديہ كرنا جائز نہيں، كيونكہ يہ كسى بھى امام سے منقول نہيں، بلكہ علماء كرام كا كہنا ہے:

" مال كى بنا پر قرآت كرنے والے قارئ كو كوئى اجروثواب نہيں ملتا، تو جب اسے ہى ثواب حاصل نہيں ہو رہا تو وہ ميت كو كيا دے گا " انتہى

اس ميں اصل يہ ہے كہ: عبادات حظر و ممانعت پر مبنى ہيں، اس ليے عبادت اسى صورت ميں ہى كى جائيگى جب اس كى مشروعيت پر كوئى شرعى دليل مل جائے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تم اللہ تعالى كى اطاعت كرو، اور رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى اطاعت كرو }.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے "

اور ايك روايت ميں فرمان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم كچھ اس طرح ہے:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس امر ( دين ) ميں كوئى نيا كام نكالا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے "

اور يہ عمل فوت شدگان كے ليے قرآن خوانى كے ليے اجرت اور قرآن خوانى ايسا عمل ہے ہمارے علم كے مطابق تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ خود ايسا عمل كيا اور نہ ہى آپ كے صحابہ كرام ميں سے كسى نے، اور پھر سب سے بہتر اور اچھا طريقہ تو محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے اور برا ترين طريقہ دين ميں بدعات ہيں.

اور سارى خير و بھلائى تو اسى ميں ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كى اچھے قصد كے ساتھ پيروى كى جائے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور جو كوئى اپنے آپ كو اللہ كے مطيع كر دے اور وہ مسحن ہو تو اس نے مظبوط رسى كو تھاما }.

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:

{ ہاں بلكہ جو اپنے آپ كو اللہ كا مطيع كر دے اور وہ احسان كرنے والا ہو تو اس كے ليے اس كے پروردگار كے ہاں اجروثواب ہے اور نہ تو اسے كوئى غم ہو گا اور نہ ہى وہ پريشان ہونگے }.

اور سارے كا سارا شر و برائى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كى مخالفت اور اللہ كے علاوہ كسى دوسرے كے ليے عمل كرنا ہے. انتہى

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ.

لہذا اس عمل كى شريعت ميں كوئى دليل اور اصل نہيں ملتى، بلكہ يہ مذموم بدعت ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ تو خود ايسا كيا اور نہ ہى اس عمل كى طرف ہمارى راہنمائى فرمائى، اور پھر آپ كے بعد صحابہ كرام ميں سے بھى كسى ايك نے ايسا عمل نہيں كيا، اس ليے ايسے عمل كو مومن اور مسلمان شخص كے ليے سرانجام دينا جائز نہيں.

دوم:

ميت كے ليے تو مشروع يہ ہے كہ اس كے ليے دعا كى جائے اور اس كى جانب سے صدقہ و خيرات كى جائے، جيسا كہ درج ذيل روايت ميں مذكور ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس كے اعمال منقطع ہو جاتے ہيں ليكن تين قسم كے عمل جارى رہتے ہيں: صدقہ جاريہ يا پھر نفع مند علم جس سے فائدہ حاصل كيا جاتا رہے، يا نيك و صالح اولاد جو اس كے ليے دعا كرے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1631 ).

امام نووى رحمہ اللہ اس حديث كي شرح ميں كہتے ہيں:

" اس حديث ميں بيان ہوا ہے كہ دعا كا ثواب ميت كو پہنچتا ہے، اور اسى طرح صدقہ كا بھى، ليكن قرآن خوانى كرنا اور ميت كو ايصال ثواب اور قرآن خوانى كا ثواب ميت كو ہديہ كرنا، اور اس كى جانب سے نماز ادا كرنا امام شافعى اور جمہور علماء كے ہاں يہ ميت كو نہيں پہنچتا " انتہى مختصرا

مزيد آپ سوال نمبر ( 12652 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

لہذا آپ اپنے والد كے زيادہ سے زيادہ اور بكثرت دعا كريں اور جتنى استطاعت ركھتے ہوں ان كى جانب سے صدقہ كريں، اور اگر والد نے حج يا عمرہ نہيں كيا تھا اور آپ كے ليے والد كى جانب سے حج اور عمرہ كرنا ممكن ہو اور استطاعت ركھتے ہوں تو حج و عمرہ بھى كريں، ان شاء اللہ يہ اسے فائدہ ديگا.

اور فوت شدہ والد كے ساتھ حسن سلوك اور نيكى ميں يہ بھى شامل ہے كہ والد كے دوست و احباب اور رشتہ داروں سے صلہ رحمى كى جائے.

اور مومن شخص كے ليے مرض و بيمارى تو اللہ تعالى گناہوں سے كفارہ بنا ديتا ہے، اور اسى طرح يہ اس كے درجات كى بلندى كا باعث ہے ليكن اس كے صبر و تحمل اور اجروثواب كى نيت ركھنا شرط ہے.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مسلمان شخص كو جو بھى تكليف اور مصيبت اور غم و پريشانى اوراذيت آتى ہے، حتى كہ اسے جو كانٹا لگتا ہے اسے اللہ تعالى اس كے گناہوں كا كفارہ بنا ديتا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5642 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2573 ).

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ مسلمان فوت شدگان پر رحم فرمائے.

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments