Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
84849

اپنى بنا پر طلاق ہونے والى عورت سے شادى كرنا

ميرى تيرہ برس قبل شادى ہوئى اور ميرے تين بچے بھى ہيں، تقريبا دو برس سے ميں اپنى بيوى كے بستر سے عليحدہ ہوں اور اس كے علاوہ ميرى بيوى بہت موٹى بھى ہو گئى وہ اپنا خيال بھى نہيں كرتى، ڈيڑھ برس سے ميرا ايك شادى شادہ عورت سے تعلق بنا ہے اور يہ عورت مجھ سے بہت زيادہ محبت كرنے لگى ہے حتى كہ اس نے اپنے خاوند اور دونوں بچيوں كو بھى چھوڑ ديا ہے اور اسے ايك طلاق بھى ہو چكى ہےز
جب سے اسے طلاق ہوئى ہے وہ مجھ سے زيادہ تعلق ركھنے لگى ہے حتى كہ وہ مجھ سے ملنے كے ليے اپناشہر چھوڑ كر ميرے شہر ميں آئى ہے اور چند ايام ميرے ساتھ رہ رہى ہے ( ميرے بيوى بچے دوسرے شہر ميں ہيں ) وہ عورت مجھ سے روزانہ فون اور اي ميل پر رابطہ كرتى ہے.
ہمارا كئى بار شادى كرنے پر اتفاق ہوا ليكن ہر بار اپنے بچوں اور گھر كى تباہى كا سوچ كر ميں پيچھے ہٹ جاتا ہوں، ليكن مجھے اس عورت پر بھى بڑا ترس آتا ہے كيونكہ اس نے ميرے ليے اپنى زندگى اور بچيوں كى قربانى دينے سے بھى گريز نہيں كيا ( حالانكہ ميں نے اسے طلاق لينے كا نہيں كہا تھا ) ميں اس عورت سے شادى كرنا چاہتا ہوں ليكن ميں يہ بھى نہيں بھول سكتا كہ وہ مجھ سے قبل كسى اور شخص كى بيوى تھى جو اس سے جنسى تعلقات قائم كرتا رہا ہے.
اب رمضان المبارك سے ميں نے دينى امور كا التزام كرنا شروع كر ديا اور سارى نمازيں باجماعت مسجد ميں ادا كرتا ہوں كسى نماز سے پيچھے نہيں رہتا، اور قرآن مجيد كى تلاوت كرتا ہوں، اور صدقہ و خيرات بھى، اور اب ميرا اخلاق بھى پہلے سے بہت بہتر اور اچھا ہو گيا ہے، اور اب وہ عورت بھى بہت اچھى ہو گئى ہے، مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے كہ ميں كہيں اس عورت كى پہلى زندگى تباہ كرنے كا سبب تو نہيں بنا، اور ميں اس كے ساتھ اپنى دوسرى بيوى كى طرح زندگى بسر كرنا چاہتا ہوں، ليكن مجھے اپنا گھر تباہ ہونے كا خطرہ ہے، اور ميں اس كى پہلى شادى نہيں بھول سكوں گا.
برائے مہربانى ميرى راہنمائى كريں، كيونكہ مجھے ضمير كى ملامت درپيش ہے جس كى بنا پر ميرى عبادت بھى خراب ہو جاتى ہے، يہ علم ميں رہے مالى طور پر ميں شادى كرنے كى استطاعت ركھتا ہوں.

الحمد للہ:

اول:

ان لوگوں پر بہت تعجب ہوتا ہے جو ہلاكت و تباہى كى راہ پر چل پڑتے ہيں.

اور ان لوگوں پر بھى افسوس ہوتا ہے جو ہر اس وادى ميں كودنے كى كوشش كرتے ہيں جہاں فانى اور ختم ہونے والى لذت يا وہمى سعادت ہو.

جسے اللہ سبحانہ و تعالى نے گھر اور اولاد كى نعمت سے مالا مال كيا ہو؛ ليكن وہ اس پر راضى و مطئمن نہ ہو بلكہ وہ لوگوں كى سعادت و خوشى اور گھر تباہ كرنے سے سكون حاصل كرے اور راضى و مطمئن ہو مجھے نہيں معلوم كہ وہ كونسى سعادت حاصل كر رہے ہيں، اور كس راستے پر چل رہے ہي ؟!

پھر عزيز سائل آپ كو يہى ہے نا كہ آپ اپنى بيوى اور بچوں كى ماں كو يہى الزام ديتے ہو كہ وہ بہت موٹى ہو گئى ہے ليكن اس كى عزت ميں شك نہيں كرتے كہ وہ عفت و عصمت كى حفاظت نہيں كرتى!!

بہت تعجب كى بات ہے كہ جب شيطان انسان كے ليے اللہ كى حرام كردہ اشياء كو مزين كر كے پيش كرتا ہے اور اسے اللہ كى حلال كردہ سے ہر طرح سے روكتا ہے!!

اور آپ كى بيوى كا كون خيال كريگا حالانكہ آپ نے اسے ايك لمبے عرصہ سے چھوڑ ركھا ہے، اور پھر تم اس پر ہى بس نہيں كر رہے بلكہ تم اس سے دور كسى اور شہر ميں بسنے لگے ہو اور آپ كى بيوى اور بچے كسى دوسرے شہر ميں؟!!

كيا گھر ايسے ہوتے ہيں اور گھر ايسے بستے ہيں؟!! كيا آپ اپنے خاندان اور فيملى كى ديكھ بھال اس طرح كر رہے ہيں جسے اللہ تعالى نے آپ كى ذمہ دارى اور كفالت ميں ديا ہے؟!!

اور اگر فرض كر ليا جائے كہ كسى شخص كو اس كى پہلى بيوى كافى نہ ہو، يا پھر وہ اس كے كسى معاملہ ميں كوتاہى كرتى ہو تو اللہ سبحانہ و تعالى نے ہم ـ مسلمانوں ـ پر وسعت كى ہے كہ ہمارے ليے چار بيوياں مباح كى ہيں، جو بيويوں اور بچوں كى ديكھ بھال كے مقابلہ ميں ايك دوسرى كى كمى كو پورى كريگى.

لہذا اپنے نفس كى ضرورت كو پورا كرنے كے ليے اس پر نظر نہ ركھيں جس كا اللہ نے دوسروں پر احسان كيا ہے، يا ہم پر اسے فضيلت دى ہے چاہے وہ بيوى ہو يا اولاد يا مال.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

اور اس چيز كى آرزو نہ كرو جس كے باعث اللہ نے تم ميں سے بعض كو بعض پر بزرگى دى ہے، مردوں كا اس ميں سے حصہ ہے جو انہوں نے كمايا، اور عورتوں كے ليے اس ميں سے حصہ ہے جو انہوں نے كمايا، اور اللہ تعالى سے اس كا فضل مانگو، يقينا اللہ تعالى ہر چيز كا جاننے والا ہے " النساء ( 32 ).

اور جب اللہ تعالى نے ہم پر حلال كا احسان كيا اور حلال ميں ہى كفايت ہے، تو پھر اپنے نفس كى عفت اور اس كى ضرورت پورى كرنے كے ليے غلط راستہ اختيار كرنے كى كيا ضرورت ہے؛ صرف يہى ہو سكتا ہے جب انسان كى خواہش اور ارادہ شہوات كے پيچھے بھاگنے كا ہو ؟!!

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كسى كى بيوى كو اس كے خاوند يا غلام كو اس كے مالك پرخراب كيا تو وہ ہم ميں سے نہيں ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2175 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك روايت ميں ہے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كسى كى بيوى يا اس كے غلام كو خراب كيا تو وہ ہم ميں سے نہيں ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 5170 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

شيخ عبد العظيم آبادى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" من خبب " پہلى باء پر شد كے ساتھ: معنى يہ ہے كہ اسے خراب كيا اور دھوكہ ديا.

" امراۃ على زوجھا " اس كى بيوى كے سامنے اس كے خاوند كے عيب بيان كرے، يا پھر كسى اجنبى مرد كے اوصاف بيان كرے"

ديكھيں: عون المعبود ( 6 / 159 ).

اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:

" من خبب زوجۃ امرئ " يعنى اسے دھوكہ ديا اور اسے خراب كيا، يا اس سے شادى كرنے كے ليے يا كسى دوسرے سے شادى كرنے كے ليے اسے طلاق لينے كا كہا "

ديكھيں: عون المعبود ( 14 / 52 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

ايك امام نے ايك عورت كو اس كے خاوند پر خراب كر ديا حتى كہ اس عورت نے اپنے خاوند كو چھوڑ ديا اور وہ امام اس سے خلوت كرنے لگے تو كيا اس كے پيچھے نماز ادا كرنى جائز ہے، اور اس كا حكم كيا ہے ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

" مسند احمد ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مروى ہے آپ نے فرمايا:

" جس نے بھى كسى عورت كو اس كے خاوند خراب كيا، يا غلام كو اس كے مالك پر خراب كيا تو وہ ہم ميں سے نہيں "

اس ليے آدمى كى خاوند اور بيوى كے مابين عليحدگى كرانے كى كوشش كرنا بہت شديد قسم كا گناہ ہے، اور يہ جادوگروں كے افعال ميں شامل ہوتا ہے، جو كہ شيطانوں كے سب سے بڑے افعال ميں ہے، خاص كر جب عورت كو اس كے خاوند پر خراب اس ليے كيا جائے كہ وہ اس سے خود شادى كر لے اور اس كے ساتھ ساتھ اس عورت سے خلوت پر اصرار ہو، اور قرائن اس كے برعكس دلالت كريں.

اس طرح كے شخص كو مسلمانوں كا امام نہ نہيں بنانا چاہيے حتى كہ وہ توبہ كر لے، اگر توبہ كرے تو اللہ اس كى توبہ قبول كريگا، اور اگر كسى عادل و راہ مستقيم پر چلنے والے شخص كے پيچھے نماز ادا كرنا ممكن ہو تو اس كو امام بنايا جائے اور فسق و فجور كا ارتكاب كرنے والے شخص كے پيچھے بغير كسى ضرورت كے نماز ادا نہ كى جائے " واللہ اعلم

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 23 / 363 ).

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ:

" ايسا كرنے والے پر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لعنت فرمائى اور اس سے برات كا اظہار كيا ہے، اور يہ كبيرہ گناہوں ميں شمار ہوتا ہے، جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كسى شخص كى منگنى پر منگنى كرنے اور كسى بھائى كا كسى چيز كا ريٹ لگانے كى صورت ميں دوسرے كا ريٹ لگانے پر منع كيا ہے تو پھر جو شخص خاوند اور بيوى يا مالك اور لونڈى كے مابين عليحدگى كرانے كى كوشش كرے تا كہ وہ ان سے اپنا تعلق قائم كر سكے تو اس كى حالت كيا ہو گى.

اور اس طرح كى صورت كے عاشق اور ان كے معاونين ديوث ہيں جو اسے گناہ شمار نہيں كرتے؛ اس عاشق كى طلب ميں اپنى معشوق سے ملنا اور خاوند اور مالك ميں شراكت كرنا ہے اس ميں تو گناہ كے علاوہ دوسرے پر ظلم بھى ہے جو فحاشى كے گناہ سے كم نہيں اگر اس پر شك نہ ہو، اور پھر فحاشى سے توبہ كرنے سے دوسرے كا تو حق ساقط نہيں ہو جاتا كيونكہ توبہ تو اللہ كے حق كو ساقط كرتى ہے، ليكن بندے كا حق تو باقى ہے، وہ روز قيامت اپنے حق كا مطالبہ كر سكتا ہے، كيونكہ خاوند پر اس كى محبوب بيوى كو خراب كرنا اس كے بستر پر زيادتى كرنا ہے جو اس كے سارا مال چھيننے كے ظلم سے بھى شيديد ہے، اسى ليے اسے اس سے سارا مال چھن جانے سے بھى زيادہ اذيت و تكليف ہوتى ہے، اور اس كے نزديك تو يہ اس كا خون بہانے كے برابر بھى نہيں بلكہ اس سے بھى زياد ہے.

اس فحش كام سے زيادہ اور كونسا ظلم ہو سكتا ہے جس كا گناہ زيادہ ہو، مظلوم شخص كو روز قيامت كھڑا كر كے كہا جائيگا تم ظالم كى نيكيوں سے جتنى چاہو لے لو، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے، پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تمہارا كيا گمان ہے ؟ ! يعنى تم كيا خيال كرتے ہو كہ اس كى كوئى نيكى باقى بچے گى.

اور اگر اس كے ساتھ يہ بھى ہو كہ وہ اپنے پڑوسى پر ظلم كرنے والا ہو، يا پھر اپنى كسى رشتہ دار يا محرم پر ظلم كرے، تو ظلم ميں تعدد ہوگا، اور رشتہ دار سے قطع تعلقى كرنا اور پڑوسى كو اذيت دينا تو يقينى ظلم ہے، اور پھر قطع رحمى كرنے والا تو جنت ميں داخل نہيں ہو گا، اور نہ ہى وہ شخص جس كى اذيت اور برائيوں سے اس كا پڑوسى بھى محفوظ نہ رہے "

ديكھيں: الجواب الكافى ( 154 ).

بيوى كو خاوند كے ليے خراب كرنے كا مقصد يہى نہيں كہ آپ اس كو طلاق حاصل كرنے كا كہيں، بلكہ يہ بھى خاوند كے ليے بيوى كو خراب كرنے ميں شامل ہوتا ہے كہ آپ اس كے احساسات و شعور كو چھيڑنے كى كوشش اور اس سے تعلق قائم كرنا تو سب سے بڑى خرابى ہے، اور لوگوں ميں اس كى كوشش كرنا سب سے بڑا جرم ہے.

جى ہاں ـ ميرے سائل بھائى ـ آپ نے جب اس عورت سے تعارف كيا اور اس سے رابطہ كيا حتى كہ اس نے اپنا گھر تباہ كر ليا جو آپ سے بہت بڑا جرم سرزد ہوا ہے، اور اس عورت نے بھى اپنے خاوند كو چھوڑ كر كسى اور مرد سے تعلق قائم كر كے بہت بڑے جرم كا ارتكاب كيا ہے، اور يہيں پر بس نہيں كى بلكہ اپنے خاوند سے طلاق بھى لے لى، اور اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر تباہ كر بيٹھى، اور اس نے ايسى چيز كا مطالبہ كيا جو اس كے ليے حلال نہ تھى.

ثوبان رضى اللہ تعلى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو عورت بھى اپنے خاوند سے بغير كسى سبب كے طلاق كا مطالبہ كرتى ہے تو اس پر جنت كى خوشبو بھى حرام ہے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2055 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1187 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2226 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ہم اميد كرتے ہيں كہ اس جواب كو پڑھنے اور اس سزا كو معلوم كرنے والے ہر شخص كے دل ميں اللہ تعالى حرمتوں كو پامال كرنے كى سزا كى ہيبت ڈال دے، اور دوسرى جنس كے ساتھ تعلقات قائم كرنے اور بات چيت كرنے ميں تساہل كرنے والے شخص ميں اس سے ڈر پيدا كر دے، ہم نے كئى بار كئى سوالات كے جوابات ميں اس چيز كى حرمت كے متعلق اہل علم كى كلام بھى ذكر كى ہے.

اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 26890 ) اور ( 52768 ) اور ( 66266 ) اور ( 59907 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

اسى طرح ہم اميد كرتے ہيں كہ يہ چيز اس كے ليے خالص اور سچى توبہ كا باعث بنےگى، اور اللہ كى طرف رجوع كرنے كا باعث ہوگى، اور اللہ سے اپنے كيے كى معافى و بخشش كى طلب كر سكے، اور بالآخر مظلوموں كو ان كے حقوق واپس كرنے كا باعث بنے.

ميرے بھائى آپ كو علم ہونا چاہيے كہ جب بندہ صدق دل سے توبہ كرے تو اللہ اس كى توبہ قبول كرتا ہے، اور پھر اللہ كى رحمت كے دروازے تو مغرب كى جانب سے سورج طلوع ہونے تك كھلے ہيں، بلكہ اكثر طور پر بندہ معصيت كے بعد توبہ كر كے پہلے سے بہتر ہو جاتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

" كہہ دييں اے ميرے وہ بندوں جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم كيا ہے اللہ كى رحمت سے نااميد نہ ہوں، يقينا اللہ تعالى سارے گناہ بخش دينے والا ہے، يقينا وہ بخشنے والا رحم كرنے والا ہے، اور اپنے رب كى طرف رجوع كرو اور اس كى اطاعت كرو لو قبل اس كے كہ تمہيں عذاب ہو پھر تمہارى مدد نہيں كى جائيگى " الزمر ( 53 - 54 ).

اور اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى توبہ كرنے اور پاكيزگى اختيار كرنے والوں سے محبت كرتا ہے " البقرۃ ( 222 ).

دوم:

سچى اور خالص توبہ كى شروط ميں شامل ہے كہ مظلوم كے حقوق واپس كيے جائيں، كيونكہ جب تك مظلوم كا حق واپس نہ كيا جائے اور آخرت سے قبل مظلوم شخص اپنا حق نہ لے لے مؤاخذہ ساقط نہيں ہوتا.

اس ليے اس عورت پر واجب و ضرورى ہے كہ وہ اپنے گھر واپس جائے اور اپنے سابقہ خاوند سے معذرت كر كے اس كے پاس ہى رہے، اور اس ميں اسے اپنے رشتہ داروں كو واسطہ بنا كر لے جانا چاہيے، اور اگر يہ معاملہ اور مقدمہ قاضى كى عدالت ميں لے جايا جائے تو قاضى اس عورت كے ساتھ عقد نكاح اس وقت تك جائز قرار نہيں دے گا جب تك وہ توبہ نہ كر لے اور اپنے خاوند كے پاس واپس نہ چلى جائے.

الموسوعہ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" فقھاء كرام نے صراحت كے ساتھ بيان كيا ہے كہ اس پر تنگى كى جائے اور اس كى ڈانٹ ڈپٹ ہو، حتى كہ مالكى حضرات تو خاوند پر بيوى كو خراب كرنے والے كے ساتھ ابدى طور پر نكاح كو حرام قرار ديتے ہيں، تا كہ اسے بھى وہى سزا ملے جو اس نے اس كے خاوند كے ساتھ كيا ہے، تا كہ لوگ اسے بيويوں كو خراب كرنے كا وسيلہ ہى نہ بنا ليں " انتہى

ديكھيں: الموسوعہ الفقھيۃ ( 5 / 251 ).

اور پھر وہ شادى جس كى ابتدا ہى اللہ كى معصيت و نافرمانى سے كى جائے وہ كبھى كامياب نہيں ہو سكتى، اور بطور سزا وہ اس كے ليے خلاف ہى گى.

اس ليے اگر خاوند معاف كر دے تو الحمد للہ، اور اگر انكار كر دے اور اسے اپنى بيوى نہ بنانا چاہے تو پھر اس صورت ميں آپ دونوں كے ليے شادى كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن آپ كو ہر وقت اللہ سے معافى و بخشش طلب كرنے كا احساس رہنا چاہيے.

جمہور علماء كرام كے خيال ميں بيوى كو خراب كر كے طلاق حاصل كرنے كے بعد اس سے عقد نكاح كرنا صحيح ہے، ليكن اسے خاوند كے ليے بيوى كو خراب كرنے كا گناہ ضرور ہو گا، اور راجح قول بھى يہى ہے، ليكن بعض مالكيہ اور حنابلہ نے اس كى مخالفت كرتے ہوئے اس عقد نكاح كو باطل قرار ديا ہے.

چنانچہ حنبلى كتاب الاقناع ( 3 / 181 ) ميں درج ہے:

" اور ايسے شخص كے متعلق جس نے بيوى كو اس كے خاوند كے ليے خراب كر ديا اور اس كے مخالف كيا كہا ہے:

اسے سخت ترين سزا دى جائيگى، امام مالك اور مام احمد وغيرہ كے ايك قول ميں اس كا نكاح باطل ہو گا، اور ان ميں عليحدگى كرانا واجب ہے " انتہى

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 11 / 19 - 20 ) ميں درج ہے:

" اس مسئلہ كا بيان كرنے ميں مالكيہ منفرد ہيں اور اس كى صورت يہ ہے كہ:

كوئى شخص كسى دوسرے شخص كى بيوى كو خراب يعنى اس كے مخالف كر دے، اور اس كے نتيجہ ميں طلاق ہو جائے پھر وہ خراب كرنے والا شخص اس عورت سے خود شادى كر لے.

انہوں نے بيان كيا ہے كہ: دخول سے قبل اور بعد ميں يہ نكاح فسخ ہو جائيگا اس ميں كوئى اختلاف نہيں، بلكہ اس ميں اختلاف ہے كہ آيا اس مفسد يعنى بيوى كو خراب كرنے والے كے ليے اس كے ساتھ ابدى طور پر نكاح كرنا حرام ہو گا يا نہيں اس ميں ان كے دو قول ہيں:

پہلا قول: اور مشہور بھى يہى ہے ـ اس پر ابدى حرام نہيں بلكہ جب وہ اپنے پہلے خاوند كے پاس واپس جائے اور وہ اسے طلاق دے دے، يا پھر وہ اس كے پاس ہى رہے اور خاوند فوت ہو جائے تو اس خراب كرنے والے كے ليے اس عورت سے نكاح كرنا جائز ہو گا.

دوسرا قول:

اس كے ليے ابدى حرام ہو گى، يہ قول يوسف بن عمر نے بيان كيا ہے جيسا كہ شرح الزرقانى ميں بيان ہوا اور متاخرين ميں سے كئى نے فتوى ديا ہے.

اس كے ساتھ يہ ہے كہ مالكيہ كے علاوہ دوسرے فقھاء نے اس مسئلہ كى صراحت نہيں كى ليكن اس ميں حكم حرمت كا ہے جيسا كہ اوپر والى سابقہ حديث سے معلوم ہے " انتہى

اور كتب ائمۃ الدعوۃ النجديۃ ( 7 / 89 ) ميں درج ہے:

شيخ عبد اللہ بن الشيخ محمد رحمہما اللہ سے دريافت كيا گيا:

ايك شخص نے كسى عورت كو اس كے خاوند كے خلاف كر كے اس سے خود شادى كر لى تو اس كا حكم كيا ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" دوسرے شخص كا نكاح جس نے بيوى كو خاوند كے خلاف كيا ہے وہ نكاح باطل ہے، اور اس سے عليحدگى كرنا ضرورى ہے؛ كيونكہ اس نے ايسا كر كے اللہ كى نافرمانى كى ہے . انتہى

آپ كى سچى توبہ اور اللہ كے ساتھ صدق كے ساتھ ہم اميد كرتے ہيں كہ آپ كو اس عورت سے شادى كرنے كى توفيق دے ليكن شرط يہ ہے كہ جب وہ عورت اپنى اصلاح كر لے جو اس نے اپنے پہلے خاوند كے ساتھ خرابى كى ہے.

اور رہا يہ مسئلہ كہ وہ آپ كے علاوہ كسى اور كى بيوى رہى ہے، اور ان دونوں ميں مياں اور بيوى كے تعلقات قائم تھے تو يہ ايك ايسا وسوسہ ہے جس كى حقيقت ميں كوئى قدر و قيمت نہيں؛ آزاد شخص جس سے نفرت كرتا ہے وہ يہ ہے كہ عورت كسى كے ساتھ حرام تعلقات سے اپنے آپ كو پراگندہ كرے، ليكن اللہ نے اپنے بندوں كے ليے جو حلال اور مشروع كيا ہے اس سے نفرت كرنے كى كوئى گنجائش اور وجہ نہيں ہے!!

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

" اگر وہ ( رسول صلى اللہ عليہ وسلم ) تمہيں طلاق دے ديں تو بہت جلد انہيں ان كا رب تمہارے بدلے تم سے بہتر بيوياں عنايت فرمائےگا، جو اسلام والياں، ايمان والياں، اللہ كے حضور جھكنے والياں، توبہ كرنے والياں، عبادت بجا لانے والياں، روزے ركھنے والياں ہوں گى بيوہ اور كنوارياں " التحريم ( 5 ).

چنانچہ اس آيت ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے بيوہ عورتوں سے شادي كرنا بھى اسى طرح نعمت قرار دى ہے جس طرح ايك كنوارى سے شادى كرنا نعمت ہے.

پھر آپ كو اولاد ضائع ہونے كا جو خدشہ لاحق ہے وہ تو وارد ہے جس كے بارہ ميں آپ كو سوچنا اور غور و فكر ضرور كرنا ہو گا كہ پہلى شادى كے بعد دوسرى شادى كرنے سے ان كا كيا ہو گا؛ ہم يہ اميد كرتے ہيں كہ جب آپ اس يا كسى اور عورت سے شادى كريں تو آپ پہلے گھر كو تباہ كر كے اپنا دوسرا گھر مت بنائيں جس ميں آپ كى پہلى بيوى اور بچے رہتے ہيں.

بلكہ جو شخص اس ميں پڑنا چاہتا ہو اور اس كا تجربہ كرنا چاہے تو اس كے پاس حكمت و عقل و دانش ہونى چاہيے جو اس كے گھر كو چلانے ميں ممد و معاون ثابت ہو، اور اس كى ديكھ بھال ميں معاونت كرے، اور اس كے پاس بيويوں ميں عدل و انصاف بھى ہونا چاہيے، اور ہر بيوى كو اس كا حق ادا كرنا ہو گا، كہ كسى كا كوئى حق باقى نہ رہے كہ كل روز قيامت اس سے اللہ كے سامنے اس حق كا مطالبہ كرنے لگے.

عرب كے ايك شخص جس كى ايك سے زائد بيوياں تھيں سے كہا گيا: تم ان سب كو كيسے جمع كرنے پر قادر ہوئے ؟

تو اس كا جواب تھا:

ہم نوجوان تھے جو انہيں ہم پر صبر دلاتا تھا، اور ہمارے پاس مال بھى تھا جو انہيں ہمارے ليے صبر دلاتا، پھر حسن خلق باقى رہا تو ہم حسن اخلاق كے بھى مالك ہيں اور ہم زندگى بسر كر رہے ہيں !! "

ديكھيں: عيون الاخبار ( 1 / 396 ).

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كو معاف كرے اور توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments