Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
84951

خاوند بانجھ ہے اور حرام كام كا عادى ہے

ميرى آٹھ قبل شادى ہوئى اور شادى كے بعد انكشاف ہوا كہ ميرا خاوند بانجھ ہے اولاد پيدا نہيں كر سكتا، اسے ٹانگوں كى بيمارى ہے جو طبعى طور پر معاشرت اور حقوق زوجيت پر اثرانداز ہوتى ہے، ليكن اس كے باوجود اس كى كوشش ہوتى ہے كہ مجھ ميں ہى عيب نكالے، اور ہميشہ مجھے ڈانٹتا اور ہر چيز ميں عاجز قرار ديا ہے، ليكن الحمد للہ ميں ايسى نہيں ہوں.
ميرى سب سے بڑى مصيبت اور مشكل يہ ہے كہ ايك ماہ قبل مجھ يہ انكشاف ہوا كہ وہ چيٹنگ كے ذريعہ زنا كا ارتكاب كرتا ہے، اور اس سے بھى بڑى مصيبت يہ ہے كہ لواطت بھى، اب ميں كيا كروں ؟
يہ علم ميں رہے كہ جس موضوع ميں بھى ميں بات كرتى ہوں وہ مجھے غلط قرار ديتا ہے، كہتا ہے كہ صرف وہى صحيح ہے اور ميرى سوچ غلط ہے، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر خاوند بانجھ ہے اولاد پيدا نہيں كر سكتا تو خاوند ميں يہ عيب ہونے كى صورت ميں عورت كو فسخ نكاح كا حق حاصل ہے، اس ليے كہ عورت كو حصول اولاد كا حق حاصل ہے، بلكہ يہ تو عقد نكاح كے سب سے عظيم مقاصد ميں شامل ہوتا ہے، اور اگر فسخ نكاح ممكن نہيں تو وہ طلاق كر سكتى ہے، اور اس صورت ميں خاوند كے ليے اسے طلاق دينا ضرورى ہے، اور وہ اسے اس كے پورے حقوق مثلا مہر وغيرہ سب ادا كريگا.

دوم:

آپ كو چاہيے كہ آپ پہلے تو اس كو نصيحت كريں، اس طرح كے خاوند كو كيا نصيحت كرنى چاہيے اس كا بيان سوال نمبر ( 7669 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے، آپ اس كا مطالعہ كريں.

سوم:

اگر وہ نصيحت نہيں مانتا اور اپنے اسى حرام كام و افعال ميں مشغول رہتا ہے، تو پھر آپ كے ليے اس خاوند كے ساتھ رہنے ميں كوئى خير و بھلائى نہيں؛ كيونكہ وہ آپ كے حقوق كى ادائيگى نہيں كرتا، اور اس ليے بھى كہ وہ يہ قبيح اور شنيع عمل كر رہا ہے.

اور پھر آپ تو ابھى اس راہ كى ابتدا ميں ہيں يعنى شادى نئى نئى ہوئى ہے، اور كوئى اولاد بھى نہيں ہوئى، اس ليے آپ اس سے جتنى جلد ہو سكے طلاق كا مطالبہ كريں، اوراگر وہ طلاق دينے سے انكار كرتا ہے تو آپ اس سے خلع لے ليں، اميد ہے اللہ تعالى آپ كا نعم البدل عطا فرمائيگا، اور آپ كو نيك و صالح اور خاوند اور اولاد نصيب كريگا، جس سے آپ اپنى آنكھيں ٹھنڈى كر سكيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments