Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
85116

نماز ميں سيدنا محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے الفاظ كہنا

ہمارے ليے تشہد ميں كيا كہنا افضل ہے:
آيا " أشهد أن سيدنا محمداً رسول الله ، واللهم صل على سيدنا محمد " كہنا افضل ہے يا كہ سيدنا كے بغير ہى صرف محمد كے الفاظ كہنا افضل ہو گا ؟

الحمد للہ:

اول:

بلاشك و شبہ سيد و سردار كا وصف رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو دينا صحيح ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہمارے سيد ہيں، بلكہ وہ سارى انسانيت كے سردار و سيد ہيں اس كى دليل درج ذيل روايت ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميں روز قيامت اولاد آدم كا سردار ہوں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2278 ).

اور ترمذى ميں ابو سعيد رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميں روز قيامت اولاد آدم كا سردار ہوں، اور كوئى فخر نہيں، اور ميرے ہاتھ ميں حمد كا جھنڈا ہو گا، اور كوئى فخر نہيں، اور اس دن آدم عليہ السلام اور ان كے علاوہ سارے نبى ميرے جھنڈے كے نيچے ہونگے، اور سب سے پہلے ميرے اوپر سے زمين پھٹے گى اور كوئى فخر نہيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 3615 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرا رديا ہے.

دوم:

يہ جاننا ضرورى ہے كہ سارى عبادات اتباع و پيروى پر مبنى ہيں، اس ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب سے مشروع كردہ عبادات ميں كوئى چيز زيادہ نہيں كى جا سكتى، اور يہ چيز بندے كى اللہ تعالى سے محبت كى نشانى ميں شامل ہوتى ہے كہ وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كرے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ كہہ ديجئے اگر تم اللہ تعالى سے محبت چاہتے ہو توميرى ( محمد صلى اللہ عليہ وسلم ) كى اتباع و پيروى كرو اللہ تعالى تم سے محبت كريگا، اور تمہارے گناہوں كو بخش دےگا، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے }آل عمران ( 31 ).

اور اتباع و پيروى يہ ہوتى ہے كہ آپ بھى وہى اور ويسا ہى كام كريں جس طرح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كيا، اور آپ بھى وہى كلمات كہيں جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كہے، اور جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چھوڑا آپ بھى اسے ترك كر ديں، اور اس ميں كچھ زيادہ مت كريں، اور نہ ہى كوئى كمى كريں.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے نماز كى تشہد ميں وارد ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم:

" وأشهد أن محمدا عبده ورسوله " پڑھتے تھے، اور درود ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وارد ہے كہ:

" اللهم صل على محمد ... اللهم بارك على محمد " پڑھا جائے، كہيں بھى يہ وارد نہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں سيدنا كہنے كى تعليم دى ہو، اس ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں جو حكم ديا اور جو سكھايا ہے اس پر ہم كچھ زيادہ كرنا جائز نہيں، بلاشك و شبہ يہى افضل و بہتر ہے.

اور يہ كيسے ہو سكتا ہے كہ جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كے مخالف ہو وہ افضل ہو ؟ حالانكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر خطبہ جمعہ ميں فرمايا اور اعلان كيا كرتے تھے:

" اما بعد: يقينا سب سے بہتر بات اللہ كى كتاب ہے، اور سب سے بہتر طريقہ محمد ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 867 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

كيا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھتے ہوئے سيدنا كے الفاظ كہنا افضل ہيں، كيونكہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا وصف ہے، يا كہ افضل نہيں كيونكہ يہ احاديث ميں نہيں ملتا ؟

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كا جواب تھا:

سنت سے ثابت شدہ الفاظ زيادہ راجح ہيں، انہى الفاظ كى پيروى كرنى چاہيے اس كے علاوہ نہيں، اور يہ نہيں كہنا چاہيے كہ ہو سكتا ہے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ الفاظ تواضع كرتے ہوئے ترك كيے اور آپ كى امت كے ليے مندوب ہيں اور آپ جب بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نام ليں تو سيدنا كے الفاظ كہيں.

اس ليے ہم يہ كہينگے كہ اگر يہ راجح اور جائز ہوتا تو صحابہ كرام اور تابعين عظام سے بھى اس كا ثبوت ملتا اور وہ بھى يہ الفاظ كہتے، ليكن ہميں تو صحابہ كرام اور تابعين عظام ميں سے كوئى ايك اثر بھى ايسا نہيں ملتا جس ميں يہ بيان ہوا ہو كہ انہوں نے يہ لفظ كہيں ہوں حالانكہ ان سے اس كے متعلق كثرت سے روايات ہيں...

پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بعض صحابہ اور تابعين اور امام شافعى سے كچھ آثار ذكر كيے ہيں جن ميں سيدنا كا لفظ نہيں ہے....  پھر كہتے ہيں:

كتب فقہ ميں يہ مسئلہ مشہور ہے، اس سے غرض يہ ہے كہ ہر علاقے كے فقھاء ميں سے جس نے بھى يہ مسئلہ ذكر كيا ہے ان ميں سے كسى كى كلام ميں بھى سيدنا كے الفاظ نہيں، اگر يہ الفاظ زيادہ كرنےمندوب ہوتے تو ان سب فقھاء سے مخفى نہ رہتے حتى كہ ان سب نے ہى اس غفلت برتى، اور خير و بھلائى تو اسى ميں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كى جائے و اللہ تعالى اعلم" انتہى مختصرا

علامہ البانى نے صفۃ الصلاۃ ( 153 - 155 ) ميں يہ كلام نقل كى ہے.

اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا درود ابراہيمى وغيرہ حديث سے ثابت دوسرى دعاؤں كے علاوہ ہم اپنى كلام ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نام آنے پر سيدنا كے الفاظ بول سكتے ہيں ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" ہمارے علم كے مطابق تو تشہد ميں درود پڑھتے وقت سيدنا كا كلمہ ثابت نہيں كہ " اللہم صلى على سيدنا محمد ... الخ " كہنا ثابت نہيں، اور اسى طرح اذان اور اقامت ميں بھى سيدنا كے الفاظ نہيں كہے جائينگے، كيونكہ يہ كسى صحيح حديث سے ثابت نہيں، اور نہ ہى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے درود پڑھنے كى كيفيت سكھاتے ہوئے صحابہ كرام كو سكھائے تھے، اور اسى طرح اذان اور اقامت كى تعليم ديتے ہوئے بھى سكھائے نہيں گئے.

اور اس ليے بھى كہ عبادات توقيفى ہيں يعنى وہ جس طرح وارد ہيں اسى طرح كرنا ہونگى اس ميں كوئى كمى و زيادتى نہيں كى جا سكتى جو اللہ تعالى نے مشروع نہيں كيا، ليكن عبادات كے علاوہ باقى عام كلام ميں يہ الفاظ كہنے ميں كوئى حرج نہيں.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

ميں روز قيامت اولاد آدم كا سردار ہوں اور كوئى فخر نہيں "

انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 7 / 65 ).

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments