85190: طلبا كے نمبر بہتر بنانے كے ليے دوبارہ امتحان لينا


ايك طالبہ كہتى ہے كہ: ہم نے سكول ميں رياضى كا امتحان ديا اور رزلٹ ميں ہمارے نمبر بہت تھوڑے رہے، تو ہم نے اپنى ٹيچر سے مطالبہ كيا كہ وہ ہمارا امتحان دوباہ لے تا كہ ہمارے نمبر بہتر آ سكيں، تو اس نے يہ دليل دے كر ہمارا مطالبہ رد كر ديا كہ ايك شيخ كا فتوى ہے كہ نمبر بہتر بنانے حرام ہيں، تو آپ كى اس كے متعلق رائے كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اگر امتحان دوبارہ لينے ميں سكول كے نظام كى مخالفت نہ ہوتى ہو، يا آپ كے علاوہ كسى اور پر ظلم نہ ہوتا ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں يہاں ظلم اس طرح ہو سكتا ہے كہ بعض اوقات سكول ميں دوسرى كلاسيں بھى ہوتى ہيں، جب انہيں ايسا كرنے كى اجازت نہ دى جائے تو ان پر ظلم ہو گا.

اور بعض اوقات اسى كلاس كے بعض طلبہ پر بھى ظلم ہوتا ہے، يا دوسرى كلاس كے بعض طلباء پر جنہوں نے اچھے نمبر حاصل كيے ہوتے ہيں امتحان دوبارہ لينے ميں انہيں تكليف اور تنگى ہوگى، يا پھر احتمال ہے كہ ان كے نمبر كم آئيں.

اگر تو بغير كسى ظلم ہونے كے امتحان دوبارہ لينے ممكن ہوں تو پھر كوئى حرج نہيں، بعض تعليمى نظام اس بات كى اجازت ديتے ہيں كہ جو طلباء چاہيں وہ دوبارہ امتحان دے سكتے ہيں، اور دونوں امتحانوں ميں جو زيادہ نمبر ہونگے وہ انہيں ديے جائيں گے.

اور اگر سكول كا نظام دوبارہ امتحان لينے كو منع كرتا ہو تو پھر محكمہ كى اجازت اور موافقت لينا ضرورى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments