Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
85430

شادى بياہ اور عيد كے موقع پر قومى ناچ پيش كرنا

قبيلہ كا ناچ وغيرہ ديكھنے اور ڈھول اور دف سننے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ہمارے ايك عالم دين كہتے ہيں: شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے اسے سننے كى اجازت دى تھى، اور ابن عثيمين رحمہ اللہ اس ميں حاضر بھى ہوئے تھے ؟

الحمد للہ:

اول:

ڈھول باجا سننا جائز نہيں؛ كيونكہ يہ ان آلات موسيقى ميں شامل ہوتا ہے جس كے سننے اور بجانے كى حرمت كے دلائل موجود ہيں، بلكہ ڈھول اور طبل كى حرمت كے متعلق تو خاص نص وارد ہے.

ابو داود نے عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شراب نوشى، اور قمار بازى و جوا، اور كوبہ اور مكى كى شراب سے منع كيا، اور فرمايا: ہر نشہ آور چيز حرام ہے "

ابو داود رحمہ اللہ كہتے ہيں: ابن سلام ابو عبيد كہتے ہيں: السكركۃ مكى سے شراب تيار كى جاتى ہے، اور يہ حبشى لوگ تيار كرتے تھے.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3685 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور الكوبہ ڈھول كو كہا جاتا ہے.

گانے بجانے كے آلات ميں سے صرف دف جائز ہے، اور اس كى بھى شروط ہيں، اس كى تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 29406 ) اور ( 5000 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

جب يہ قبيلہ يا قومى ثقافتى ميلہ يا پيشكش گانے بجانے مثلا ڈھول يا بانسرى وغيرہ پر مشتمل ہو، دف كے علاوہ تو اس ميں جانا اور اسے سننا جائز نہيں.

اور اگر صرف دف پر مشتمل ہو تو اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے كہ آيا دف صرف عيد اور شادى بياہ كے موقع پر جائز ہے تو كيا يہ صرف عورتوں كے ليے خاص ہے يا كہ مردوں اور عورتوں دونوں كے ليے.

اس مسئلہ ميں شيخ ابن باز رحمہ اللہ كى رائے تو مجھے نہيں مل سكى، ليكن شيخ رحمہ اللہ مردوں كے ليے دف بجانے كو حرام سمجھتے تھے چاہے وہ عيد كے موقع پر مرد بجائے يا كسى اور موقع پر، جيسا كہ سوال نمبر ( 20406 ) كے جواب ميں موجود ہے، اور جب دف كے متعلق ان كى رائے يہ ہے تو پھر ڈھول كے متعلق كيا ہو گى ؟!

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كى تو اس كے متعلق كلام بالكل واضح ہے كہ اگر اس ميلہ يا شو ميں ڈھول باجا يا بانسرى وغيرہ ہو تو يہ حرام ہے ليكن انہوں نے دف كى اجازت دى ہے.

شيخ رحمہ اللہ سے سوال كيا گيا:

قبيلہ يا قومى شو اور ميلہ جس ميں نبطى شعر جو ہجو اور غزل اور مدح و ذم پر مشتمل ہوں كے بارہ ميں كيا حكم ہے، اور وہاں مٹكا بھى بجايا جائے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

قبيلہ كے اس شو اور ميلہ كا اگر تو كوئى سبب نہ ہو تو پھر يہ لہو لعب ميں شامل ہوتا ہے، اور اگر اس كا كوئى سبب ہو مثلا عيد كے ايام تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اس ميں كوئى حرج نہيں كہ لوگ تلواروں اور بندوق وغيرہ كے ساتھ كھيليں، اور اس ميں دف بجائيں، ليكن ڈھول اور مٹكا اور وہ گانے جو ہجو اور مذمت پر مشتمل ہوں اور سب و شتم ہو تو يہ حرام ہيں.

اور كسى انسان كے ليے اس جيسى مجلس اور محفل اور ثقافتى شو ميں حاضر ہونا جائز نہيں، اس سے منع كرنا اور لوگوں كو روكنا ضرورى ہے اور لوگوں كو اس ميں نہ جانے كى نصيحت كرنى چاہيے؛ كيونكہ جب انسان برائى كى مجلس ميں حاضر ہوتا ہے تو وہ ان كى برائى اور گناہ ميں برابر كا شريك ہے، چاہے وہ خود نہ بھى كرے.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اللہ تعالى تمہارے پاس اپنى كتاب ميں يہ حكم نازل كر چكا ہے كہ تم جب كسى مجلس والوں كو اللہ كى آيات كے ساتھ كفر كرتے ہوئے اور مذاق كرتے ہوئے سنو تو اس مجمع ميں ان كے ساتھ مت بيٹھو! جب تك كہ وہ اس كے علاوہ كوئى اور باتيں نہ كرنے لگيں، ( وگرنہ ) تم بھى اس وقت انہى جيسے ہو، يقينا اللہ تعالى تمام كافروں اور سب منافقوں كو جہنم ميں جمع كرنے والا ہے ﴾النساء ( 140 ). " انتہى.

ماخوذ از: لقاء الباب المفتوح ( 52 ) سوال نمبر ( 11 ).

اور لقاء الباب المفتوح ( 8 ) سوال نمبر ( 39 ) بھى ديكھيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments