Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
85469

لڑكى كا شادى چھوڑ كر ميڈيكل كى تعليم مكمل كرنا

ميں ميڈيكل كالج ميں فسٹ ائير كى طالبہ ہوں، اور ميرا ايك ديندار اور بااخلاق لڑكے سے رشتہ طے ہوا ہے ميں بھى اس رشتہ پر موافق ہوں، ليكن ميرے ليے مشكل يہ آيا شادى كى سوچ ترك كر كے تعليم مكمل كروں، يا پہلے شادى كروں، ليكن اس نے وعدہ كيا ہے كہ وہ جلد شادى كر كے اس كى تعليم مكمل كرنے ميں معاونت كريگا، تو كيا ميں جلد شادى كر لوں يا كہ مؤخر كر دوں، اور كيا اگر شادى ہو گئى تو ميں تعليم مكمل كر سكوں گى ؟

الحمد للہ:

اصل ميں استطاعت و قدرت ركھنے والے كے ليے شادى جلد كرنى چاہيے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اے نوجوانوں كى جماعت تم ميں سے جو بھى شادى كى استطاعت ركھتا ہے وہ شادى كرے، كيونكہ يہ نظروں كو نيچا كر ديتى ہے، اور شرمگاہ كى حفاظت كرتى ہے، اور جو كوئى استطاعت نہيں ركھتا تو وہ روزے ركھے، كيونكہ اس كے ليے ڈھال ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5065 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1400 ).

خاص كر اس دور ميں جس ميں فتنہ و فساد اور فحاشى بہت زيادہ پھيل چكى ہے.

اور يہ بھى كہ ابھى تو آپ فرسٹ ائير كى طالبہ ہيں اس كا معنى يہ ہوا كہ ابھى طويل انتظار كرنا ہو گا، اور يہ چيز طالب علم يا طالبہ كے ليے صحيح نہيں اس ميں عموما اس كى مصلحت نہيں ہے، اور نہ ہى خاص كر جن كى منگنى ہو چكى ہو ان كى كوئى مصلحت ہے.

چنانچہ جس كے ليے بيس برس كى عمر ميں شادى كا امكان ہو تو اسے اس عمر سے مؤخر كرنے ميں كوئى مصلحت نہيں كہ اسے پچيس برس كى عمر تك مؤخر كيا جائے، اور اس پر مستزاد يہ كہ يہ منگنى كا عرصہ بھى طويل ہو جائيگا جو قابل ستائش نہيں؛ كيونكہ اس ميں منگيتر كا آپس ميں ايك دوسرے سے تعلق قائم ہو جاتا ہے، اور اگر يہ فرض بھى كر ليا جائے كہ ان ميں اختلاط اور ميل جول اور خلوت نہ بھى ہو تو ان كے دل ميں ايك دوسرے كى محبت ضرور ہوگى جس كى بنا پر كچھ بھى ہو سكتا ہے.

اس ليے يہ علم ہونا چاہيے كہ جسے خدشہ ہو كہ وہ كسى حرام كام ميں پڑ جائيگا تو اس كے ليے شادى واجب ہو جاتى ہے چاہے وہ زير تعليم ہو اور اس كے پاس مالى قدرت ہو تو تعارض كے وقت وہ شادى ہى كرے، اس ميں مرد و عورت كا كوئى فرق نہيں.

دوم:

شادى كے بعد تعليم مكمل كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن آيا تعليم اور گھريلو كام كاج كو اكٹھا سرانجام دينا ممكن ہے يا نہيں ؟

يہ چيز اشخاص كے اعتبار سے مختلف ہے يعنى جس طرح كا شخص ہو گا اس طرح كا حكم، اور ضروريات كے اعتبار سے بھى مختلف ہو سكتا ہے، اور اسى طرح تعليم كى نوعيت بھى مختلف ہو سكتى ہے، اور پھر بچوں كا ہونا اور نہ ہونا بھى مد نظر ركھا جائيگا، مشاہدہ ہے كہ كچھ لوگوں كے ليے ايسا كرنا ممكن ہے، اور كچھ لوگوں كے ليے يہ ممكن نہيں بلكہ وہ ايسا كرنے سے عاجز ہوتے ہيں.

اس ليے ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ آپ استخارہ بھى كريں اور مشورہ بھى اور اس كے بعد كوئى فيصلہ كريں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو ہر خير و بھلائى كى توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments