Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
8555

عورت كا كندھے پر عبايا ركھنے كا حكم

كندھوں والا عبايا پہننے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

جو عبايا يا برقع كندھوں پر ركھا يا پہننا جاتا ہے وہ شرعى لباس نہيں جسے مسلمان عورت كو زيب تن كرنا چاہيے، يہ اس ليے كہ شرعى پردہ يا لباس وہ ہے جس ميں عورت كا سارا جسم چھپ جائے، يعنى سر سے ليكر پاؤں كے نچلے حصہ تك كچھ بھى نظر نہ آئے، اور يہ اس اوڑھنى كے زيادہ مشابہ ہے جس كا اللہ تعالى نے اپنے درج ذيل فرمان ميں حكم ديا ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ﴾الاحزاب ( 59 ).

اور الجلباب اس چادر كو كہا جاتا ہے جو دوپٹے كے اوپر سر سے نيچے اوڑھى جاتى ہے اور وہ عبايا كى جگہ ہے.

اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" جب يہ آيت:

﴿ وہ اپنى چادريں اپنے اوپر لٹكا ليں ﴾.

نازل ہوئى تو انصار كى عورتيں باہر نكلتى تو اس طرح ہوتى كہ چادروں كى بنا پر ان كے سروں پر كوے ہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4101 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ( 3456 ) ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

اور اسى طرح عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بھى عورت كى اوڑھنى اور پردہ كرنے والى چادر كا وصف بيان كرتے ہوئے كہتى ہيں كہ وہ سر كے اوپر سے لٹكائى جاتى تھى، حديث ميں ان كا قول ہے:

" ہمارے پاس سے قافلہ سوار گزرتے اور ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ احرام كى حالت ميں ہوتيں، تو جب وہ ہمارے برابر آتے تو ہم ميں سے عورتيں اپنى چادر اپنے سر سے اپنے چہرہ پر لٹكا ديتى، اور جب وہ ہم سے آگے نكل جاتے تو ہم چہرہ ننگا كر ديتيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1833 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2935 ) اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے اپنى كتاب " مشكاۃ المصابيح " ( 2690 ) ميں اس كى سند كو جيد قرار ديا ہے.

اور اس ميں يہ بھى اضافہ كيا جا سكتا ہے كہ: عبايا كندھوں پر ركھنے ميں مردوں سے مشابہت ہوتى ہے، كيونكہ يہ فعل تو مردوں كا ہے نہ كہ عورتوں كا.

مستقل فتوى كميٹى كے سامنے درج ذيل سوال كيا گيا:

ان آخرى ايام ميں بالكل جسم كے مطابق اور تنگ عبايا ماركيٹ ميں عام ہو رہا ہے، اور يہ كريب كے دو ہلكے كپڑوں سے بنايا گيا ہے، اور اس كى آستينں وسيع اور كھلى ہيں، اور اس ميں نگ بھى لگائے گئے اور كڑھائى بھى ہے، اور يہ كندھے پر ركھ كر پہنا جاتا ہے..... اس كے متعلق شرعى حكم كيا ہے ؟

ہميں فتوى ديكر عند اللہ ماجور ہوں.

كميٹى كا جواب تھا:

فتوى كميٹى غور خوض كے بعد يہ جواب ديتى ہے كہ: عورت كے ليے شرعى عبايا يا " جلباب " يعنى اوڑھنى ہے، جو شارع كا قصد پورا كرتى ہے كہ پورے جسم كے ليے ساتر ہے، اور فتنہ سے بھى بعيد ہے، اس بنا پر عورت كے عبايا ميں درج ذيل اوصاف كا ہونا ضرورى ہے:

اول:

وہ عبايا موٹى ہو اور اس كے نيچے والا كچھ بھى ظاہر نہ ہوتا ہو، اور نہ ہى اس ميں جسم كے ساتھ چپكنے كى صلاحيت پائى جائے.

دوم:

پورے جسم كے ليے ساتر ہو، اور اتنا كھلا ہو كہ جسم كے اعضاء اور جوڑ واضح اور ظاہر نہ كرے.

سوم:

صرف آگے سے كھلا ہو، اور آستينوں كے سوراخ بھى تنگ ہوں.

چہارم:

اس ميں زينت و كڑھائى وغيرہ نہ ہو جو نظروں كے التفات كا باعث بنے، اس بنا پر اس ميں كڑھائى، اور لكھائى اور علامات اور خاكے وغيرہ نہ ہوں.

پنجم:

وہ كافر عورتوں يا مردوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو.

ششم:

عبايا سر كے اوپر ركھا جائے.

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا پر سوال ميں مذكور عبايا عورت كے ليے شرعى تقاضے پورے نہ كرنے كى بنا پر شرعى نہيں، اور شرعى اور واجب شروط پورى نہ ہونے كى بنا پر يہ عبايا پہننى جائز نہيں، اور نہ ہى كوئى دوسرى عبايا پہننى جائز ہے جس ميں واجب شروط پورى نہ ہوتى ہوں، اور اسى طرح ان كا درآمد كرنا، اور اسے بنانا، اور اسے فروخت كرنا اور اسے مسلمانوں ميں رواج دينا بھى جائز نہيں، كيونكہ يہ گناہ و معصيت اور ظلم و زيادتى ميں تعاون ہے.

اور پھر اللہ جل و علا كا فرمان تو يہ ہے:

﴿ اور تم گناہ و معصيت اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو، اور اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو، يقينا اللہ تعالى سخت سزا دينے والا ہے ﴾.

كميٹى جب وہ واضح كرتى ہے تو وہ مسلمان عورتوں كو نصيحت كرتى ہے كہ اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے پورے پردہ كا اہتمام كريں اور اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى كرتے ہوئےغير محرم اور اجنبى مرودوں سے اپنا پورا جسم اوڑھنى اور چادر وغيرہ سے چھپا كر ركھيں، اور خود فتنہ ميں پڑنے اور دوسروں كو فتنہ ميں ڈالنے سے دور رہيں اوراجتناب كريں.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments