Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
8571

حبشیوں کی جماعت

اس گروہ کے متعلق جو کہ اپنے آپ کو ( حبشی ) کہتا ہے اسلا م کی راۓ کیا ہے ؟ اور ان کے بارہ میں ہمارہ کیا موقف ہونا چاہۓ ؟ اور اس گروہ کی عقدی غلطیاں کیا ہیں ؟

الحمد للہ
 الحمد للہ وحدہ الصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ،وعلی آلہ وصحبہ ۔

اما بعد :

مستقل فتوی اور علمی ریسرچ کمیٹی کے پاس (حبشی جماعت ) کے متعلق اور اس جماعت کی طرف منسوب شخص جس کا نام عبداللہ الحبشی جو کہ لبنان میں رہتا ہے کے متعلق بہت سے سوالات و استفسارات آۓ‎ ہیں ، اور اس جماعت کی بہت ساری شاخیں بعض یورپی ممالک اور امریکا اور اسٹریلیا میں بھی پائ جاتی ہیں ۔

توکمیٹی نے اس جماعت کا وہ لٹریچر جس میں اس جماعت کے اعتقادات و افکار اور دعوت بیان کی گئ ہے طلب کیا ، اس لٹریچر پرغوروخوص کرنے کے بعد کمیٹی نے عام مسلمانوں کے لۓ مندرجہ ذیل وضاحت کی ہے :

اول :

صحیحین میں ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :

( سب سے اچھے لوگ میرے دور کے اور پھر اسے کے بعد آنے والے پھر ان کے بعد آنے والے ہيں ) دوسرے الفاظ بھی وارد ہيں ۔

اور فرمان نبوی ہے : ( میں تمہیں اللہ تعالی کے تقوی اور سمع واطاعت کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ تم پر کوئ حبشی غلام ہی امیر کیوں نہ بنا دیا جاۓ ، اور تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ اختلاف دیکھے گا ،تو تم میری اور خلفاء الراشدیں المہدیین کی سنت پر عمل کرنا ، اس پر سختی سے کاربند رہنا ، اور نۓ نۓ بدعات والے کے بچتے رہنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے ) ۔

مسند احمد ، ابو داوود ، اور ترمذی نے اسے روایت کیا اوراسے حسن صحیح کہا ہے ۔

اور قرون ثلاثہ کے امتیاز کی سب سے اہم خصلت اور سب لوگوں پر خیر اوربھلائ رہی اس کی خصلت یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے سب معاملات میں کتاب وسنت کو حاکم بنایا اور اس پر عمل کیا ، اور کتاب وسنت کو ہی ہر ایک کے قول پر مقدم رکھا چاہے اس قول کا قائل کوئ بھی ہو ، اور سب امور میں فھم و فراست سے کام لیا ۔

اور کتاب وسنت کی نصوص کو قواعد شرعیہ اور عربی لغت کے مطابق سمجھا ، اور شریعت کو اس کی جزئیات و کلیات اور عموم اور خبر واحد کومکمل طور پر اخذ کیا ، اور متشابہ نصوص کو محکم نصوص پر پیش کیا ، تو اس لۓ وہ شرعیت اسلامیہ پر مستقیم رہے اور اس پر عمل کیا ، اور اس پر پوری سختی سے کا ربند رہے ، اور اس میں نہ تو کسی قسم کی کمی اور نہ ہی زیادتی کی ، اوران سے یہ چیز کیسے سرزد ہو سکتی تھی کہ وہ دین میں کمی وزیادتی کرلیں جبکہ انہوں نے اس نص کو پکڑا ہوا تھا اور اس نص پر عمل کررہے تھے جوکہ ہر خطا اور زلل سے معصوم ہے ۔

دوم :

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ آ‎ۓ جن میں بدعات و خرافات نے کثرت سے رواج پا لیا ، اور ہر ایک راۓ رکھنے والا اپنی راۓ پر عمل کرنے لگا اور نصوص شرعیہ کو تر ک کیا جانے اور انہیں اپنی اھواء اور خواہشات کے مطابق ڈھالا جانے اور اس تاویلیں کی جانے لگی ، تو ان لوگوں نے اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنی اور مومنوں کے علاوہ دوسرے لوگو ں کی راہ پر چلنا شروع کر دیا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ ہے :

{ اور جوشخص راہ ھدایت کے واضح ہوجانے کے باوجود بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مخالفت کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلے ، تو ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہوا ہو اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے اور یہ پہچنے والی بہت ہی بری جگہ ہے }

اور یہ اللہ تعالی کا اس امت پر فضل وکرم ہے کہ ہر دور میں ایسے علماء پیدا فرما دیتا ہے جو کہ علم میں رسوخ رکھتے ہیں اور ان بدعات جو کہ دین کے جمال وخوبصورتی میں بگاڑ پیدا کر رہی اور اس کی صفائ میں کچھ امیزش کررہی اور سنت کومٹا رہی ہوں تو ان کا قلع قمع کرتے ہیں ۔

یہ اللہ تعالی کے اس وعدہ کی سچائ ہے جو کہ اس نے اپنے دین اور شرعیت کی حفاظت کا کیا ہوا ہے ، وہ وعدہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے :

{ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں }

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( ہروقت میری امت میں سے کچھ لوگ اللہ تعالی کے دین کی پابندی کرتے رہیں گے ، جو بھی انہیں ذلیل کرنے یا ان کی مخالفت کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہیں کوئ نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجاۓ گا اور وہ لوگوں پر غالب ہوں گے ) یہ حدیث احادیث کی سب کتب صحاح اور مسانید اور سنن میں موجود ہے اور اس کے علاوہ بھی الفاظ وارد ہیں ۔

سوم :

چودویں صدی کے آخری ایام میں عبداللہ حبشی کی قیادت میں ایک جماعت ظاہر ہوئ جس نے حبشہ سے شام میں گمراہی پیھلانی شروع کی اور لبنان کو اپنا مستقر بنانے کے بعد لوگوں کو اپنے طریقے کی دعوت دینی شروع کی اور اپنے پیروکاروں کو کثیر بنانے اور اپنے افکار کو پیھلانے لگا جو کہ جہمی قبرپرستوں اور صوفیوں اور معتزلہ کے عقائد کا مجموعہ ہے یہ شخص ان عقائد پر تعصب رکھتا اور اس پر مناظرے کرتا اور اس کی دعوت دینے والالٹریچرطبع کرتا اور اسے پیھلاتا ہے ۔

ان کے لٹریچر کو بغور دیکھنے اور مطالعہ کرنے والوں کو واضع ہو تا ہےکہ اپنے اعتقادات کے اعتبار سے مسلمانوں کی جماعت (اہل سنت ) سے خارج ہیں ، ذیل میں ہم ان کے کچھ اعتقاد ات بطور مثال ذکر کرتے ہیں نہ کہ سب :

1- یہ گروہ ایمان کے مسئلہ میں مرجئہ کے مذموم مذھب پر ہے ۔

اور یہ بات سب کے علم میں ہے کہ مسلمانوں کا وہ عقید ہ ہے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ اور ان کے بعد آج تک جو بھی ان کے طریقے اور راہ پر چلنے والے ہیں وہ عقیدہ یہ ہے کہ :

ایمان زبانی اقوال اور اعتقاد قلب اور اعضاء کے ساتھ عمل کرنے کا نام ہے ، تو یہ ضروری ہے کہ تصدیق کے ساتھ انقیاد واطاعت اور شریعت مطہرۃ کے لۓ خضوع ہو ، اور اگر یہ نہیں تو ایمان کا دعوی کرنے والے کا دعوی صحیح نہیں ۔

اس عقیدہ کی تقریرکو نقل کرنے میں سلف رحمہ اللہ تعالی کے اقوال کثرت سے وارد ہیں ، انہی اقوال میں سے امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے : صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد والوں کو جنہیں ہم نے اپنے دور میں پایا ہے ان کا اس بات پر اجماع ہے ، وہ یہ کہتے تھے کہ : ایمان قول و عمل اور نیت کا نام ہے ، ان تینوں میں سے کوئ ایک بھی دوسرے کے بغیر کا فی نہیں ۔(یعنی تینوں کا ہونا ضروری ہے ) ۔

2 - اس جماعت کے لوگ اللہ تعالی کے علاوہ مردوں سے استغاثہ اور پناہ مانگنا اور انہیں اللہ تعالی کے علاوہ پکارنا جائز قرار دیتے ہیں ، اور یہ عقیدہ قرآن وسنت کی نصوص اور مسلمانوں کے اجماع سے شرک اکبر ہے ، اور یہی شرک ان پہلے مشرکوں اور کفار قریش وغیرہ کا دین ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ان کے متعلق فرمان ہے جس کا ترجمہ ہے :

{ اوریہ لوگ اللہ تعالی کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تواسے نقصان دے سکیں اور نہ ہی اسے کوئ نفع دے سکیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں }

اور اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ پس آپ اللہ تعالی ہی کی عبادت کریں ، اسی کے لۓ دین کوخالص کرتے ہوۓ ، خبردار ! اللہ تعالی ہی کے لۓ خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے علاوہ اور اولیاء بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں ) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لۓ کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائ کرا دیں ، یہ لوگ جس بارہ میں اختلاف کررہے ہیں اس کا فیصلہ اللہ تعالی خود کرے گا ، اللہ تعالی جھوٹے اور ناشکرے لوگوں کو ھدایت نہیں دیتا }

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ آپ کہہ دیجۓ کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے ، تم اس کو گڑ گڑا اور چپکے چپکے سے پکارتے ہو کہ اگر تو ہمیں نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں ہو جائيں گے ، آپ کہہ دیجۓ کہ اللہ تعالی ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے تم پھر بھی شرک کرنے لگ جاتے ہو }

اور فرمان باری تعالی کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اوربیشک مسجدیں اللہ تعالی ہی کے لۓ ہیں تو تم اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ‎ }

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یہ اللہ تعالی تمہارا رب ہے اسی کی سلطنت ہے ، اس کے علاوہ جنہیں تم پکار رہے ہو وہ تو کھجورکی گٹھلی کے چلکے کے بھی مالک نہیں ، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر ( بالفرض ) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کر ینگے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائيں گے ، اور آپ کو اللہ تعالی جیسا کوئ بھی خبردار خبریں نہ دے گا }

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ( دعاء عبادت ہے ) اس حدیث کو اصحاب سنن نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

اس موضوع کے متعلق آیات اور احادیث بہت ہیں جو کہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ پہلے دور کے مشرکوں کو یہ علم تھا کہ اللہ تعالی رازق اور خالق اور وہی نفع اور نقصان دینے والا ہے ، لیکن انہوں نے اپنے الہوں کی عبادت اس لۓ کی تاکہ وہ ان کی اللہ تعالی کے ہاں سفارش کریں اور ان کے لۓ اللہ تعالی کے ہاں قرب حاصل کریں ، تو اللہ تعالی نے انہيں اس فعل پر کافر قرار دیا ، اور ان کے کفر اور شرک کی وجہ ان پر حکم صادر کیا اوراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے لڑائ اور جہاد کرنے کا حکم دیا حتی کہ اللہ وحدہ کی عبادت ہونے لگے ۔

جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ ہے :

{ اور ان سے قتال کرتے رہو حتی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارے کا سارا دین اللہ تعالی کا ہو جاۓ }

اور علماۓ کرام نے اس موضوع میں بہت ساری کتابیں تصنیف کی ہیں ، جن میں اس اسلام کی حقیقت بیان کی گئ ہے جس کے ساتھ رسول مبعوث کۓ گۓ اور کتابیں نازل کی گئيں ، اور ان میں اہل جاہلیت کے دین اور ان کے عقائد اوراعمال کو بیان کیا گیا ہے جو کہ شریعت الہیہ کے مخالف ہیں ۔

اس موضوع میں سب سے اچھی اور بہتر کتاب شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی تالیف ہے کہ ایک مختصر اور جامع کتاب ہے ( قاعدہ جلیۃ فی التوسل والوسیلۃ ) ۔

3 - اس گروہ اور جماعت کے لوگ قران کریم کواللہ تعالی کی کلام حقیقی نہیں مانتے ۔

نصوص قرآنیہ اور سنت نبویہ اور مسلمانوں کے اجماع سے یہ بات ثابت اور معلوم ہے کہ ،اللہ تبارک وتعالی جب چاہے اس طرح کلام کرتا ہے جس طرح اس کے شایان شان اور لائق ہے ، اورقرآن کریم حروف معانی کےساتھ اللہ تعالی کا کلام حقیقی ہے ، جیسا کہ فرمان ربانی کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اوراگر آپ سے کوئ مشرک پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دیجۓ حتی کہ وہ اللہ تعالی کا کلام سن لے }

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

{ اور اللہ تعالی نے موسی (علیہ السلام ) سے صاف طور پر کلام کیا } ۔

اور اللہ جل جلالہ کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ آپ کے رب کا کلام سچائ اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے }

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ حالانکہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کلام اللہ کو سن کر اور عقل وعلم والے ہوتےہوۓ پھر بھی بدل ڈالتے ہیں } ۔

اور ایک مقام پر اللہ تعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی کلام کو بدل دیں ، آپ کہہ دیجۓ ! کہ اللہ تعالی پہلے ہی فرما چکاہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلوگے } ۔

اس معنی میں آیات تو بہت سی جو سب کے علم میں ہيں ، اور اس عقیدے کا سلف صالحین سے تواتر کے ساتھ ثبوت ملتا ہے ، اور اسی طرح نصوص قرآنیہ اور احادیث نبویہ میں بھی اسے بیان کیا گیا ہے ، اللہ تعالی ہی کی تعریف اور اس کا احسان ہے ۔

4 – اس گروہ کے ہاں یہ واجب ہے کہ قرآن وسنت میں اللہ تعالی کے اسماء صفات کی جتنی بھی نصوص ہیں ان کی تاویل کی جاۓ ۔

اور یہ عقیدہ مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور تابعین عظام کے دور سے لے کر آج تک ان کے طریقے پر چلنے والوں کا ہے ، کیونکہ وہ یہ عقیدہ رکھتےہیں کہ اسماء وصفات کی جو نصوص وارد ہیں ان میں غیر کسی تاویل اور تحریف اور بغیر تعطیل اور تکییف اور تمثیل اور تشبیہ کے ایمان لانا واجب ہے ۔

بلکہ ان وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی کے مثل کوئ چیز نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے ، تو( اہل سنت و الجماعت ) اللہ تعالی سے اس کی نفی نہیں کرتے جووصف اللہ تعالی نے اپنے لۓ بیان کیا ہے ، اور نہ ہی کلمات کو اس کی جگہ سے دوسرے جگہ پھیرتے ہیں ، اور نہ ہی اللہ تعالی کے اسماء اور آیات میں الحاد سے کام لیتے ہیں ، اور نہ اسماء و صفات کی کیفیت اور اورنہ ہی اس کی صفات کی مثال مخلوق کی صفات سے بیان کرتے ہیں ، اس لۓ کہ اللہ تعالی کا کوئ ہمسر نہیں اور نہ ہی کوئ شریک ہے ۔

امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ :

میں اللہ تعالی پر اور اس کے متعلق جو کچھ وارد ہے اس طرح ایمان لایا جو کہ اللہ تعالی کی مرراد ہے ، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جو کچھ وہ لاۓ ہیں اس پر اس طرح ایمان لایا جو مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ۔

اور امام احمد رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ :

ہم ان پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کو رسول صلی اللہ علیہ پر نہیں لوٹاتے ، اور نہ ہی اللہ تعالی کا اس سے زیادہ وصف بیان کرتے ہیں جو کہ اللہ تعالی نے اپنے لۓ خود وصف بیان کیا ہے ۔

5 – اور ان کے باطل عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ " مخلوق پر اللہ تعالی کے علو کا انکار اور نفی ۔

اس کے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ وہ ہی ہے جس پر قرآن کریم کی قطعی آیات اور احادیث نبویہ اور فطرت سلیمہ اور صریح عقول دلالت کرتی ہیں ،کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق پر بلند اور اپنے عرش پر مستوی ہے اس پر بندوں کے امور میں سے کوئ چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ ہے :

{ پھر وہ عرش پر مستوی ہوا } اس کا ذکر اللہ تعالی نے سات جگہ پر فرمایا ہے ۔

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے } ۔

اور جل وعلا کے فرمان کا ترجمہ ہے :

{ اور وہ بلند وبالا اور عظمت والا ہے }

اور فرمان ربانی ہے : { اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکيزگی بیان کرو }

اور اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

{ اور یقینا آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالی کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے ہیں ، اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جا‎ۓ اس کی تعمیل کرتے ہیں } ۔

اور اس کے علاوہ بہت سی آیات ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے ، ان مین سے معراج کا قصہ جو کہ تواتر سے ثابت ہے ۔جس میں ہے کہ :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آسمان کر کے ساتوں آسمانوں سے تجاوزکرنے کے بعد اپنے رب کے پاس گۓ تواللہ تعالی نے انہیں اپنے قریب کیا یا انہیں آوازدی اور پچاس نمازيں فرض کیں تو نبی صلی اللہ علیہ بار بار اللہ تعالی کی طرف سے موسی علیہ السلام کے پاس آتے رہے تاکہ نمازوں میں تخفیف ہو سکے تو موسی علیہ السلام ان سے پوچھتے کہ کتنی نمازیں فرض ہوئ ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بتاتے اور موسی علیہ السلام انہیں کرانے کے لۓ کہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے پاس اوپر جاتے ) ۔

اور ان احادیث میں سے حدیث ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو کتات میں لکھا جو کہ اس کے پاس عرش کے پر ہے : بیشک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لےگئ ہے ) بخاری اور مسلم نے اسے روایت کیا ہے ۔

ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے حالانکہ میں اس کا امین ہو ں آسمانوں میں ہے ) صحیح بخاری ومسلم ۔

اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اللہ تعالی کا عرش پانی پر اور اللہ تعالی عرش کے اوپر ہے ، اور اللہ تعالی تمہارے حالات کا علم رکھتا ہے ) صحیح ابن خزیمہ اور سنن ابو داوود ۔

اور صحیح مسلم اور حدیث کی دوسری کتب میں اس لونڈی کا قصہ موجود ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی کہاں ہے ؟ تو وہ کہنے لگي : آسمان میں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں ؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ مومنہ ہے ) ۔

تو مسلمان اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ تبع تابعین آج تک ان کے راستے پر چلنے والے اس صاف ستھرے عقید ہ پرچلتے رہے ، اس پر جتنی بھی اللہ تعالی کی تعریف کی جاۓ اتنی ہی کم ہے ۔

تو اس مسئلہ کی عظمت اور اس کے کثرت دلائل کی بنا پر جوکہ ایک ھزار سے بھی زیادہ ہیں اہل علم نے صرف اس مسئلہ میں علیحدہ تصانیف کی ہیں ، مثلا حافظ ابو عبد اللہ الذھبی رحمہ اللہ کی کتاب ( العلو للعلی الغفار ) اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب ( اجتماع الجیوش الاسلامیۃ ) ۔

6 – یہ گروہ صحابہ کرام کے متعلق ایسی باتیں کرتا ہے جو کہ صحابہ کرام کے شایان شان اور لائق نہیں ۔

انہیں باتوں میں سے ایک یہ بھی ہےک وہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو صراحتا فاسق قرار دیتے ہیں ، اور اس عقیدہ میں وہ رافضیوں کے مشابہ ہیں – اللہ تعالی انہیں ذلیل خوار کرے - اور مسلمانوں پر تو واجب یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام کے آپس میں جو کچھ اختلاف ہو ا اس میں بات کرنے سے بازرہیں ، اور اپنی زبانوں کو اس میں استعمال نہ کریں اور انکی فضیلت کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت کا عقیدہ رکھیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

میرے صحابہ کوبرا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں سے اگرکوئ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ تعالی کے راہ میں خرچ کردے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ایک مد بلکہ نصف کا ثواب بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ صحیح بخاری و مسلم ۔

اور اللہ رب العزت کا فرمان ہے جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اور (ان کے لۓ ) جو ان کے بعد آ‏ئيں گے وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائيوں کوبھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں ، اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ (اور دشمنی ) نہ ڈال اے ہمارے رب بیشک توشفقت و مہربانی کرنے والا ہے }

اوریہ وہ اعتقاد سلیم اور صحیح عقیدہ ہے جو کہ صحابہ کرام کے متعلق ایک مسلمان کا ہونا چاہۓ اور یہی وہ عقیدہ ہے جو کہ صدیاں گزرنے کے باوجود اھل سنت میں پایا جاتا ہے ، امام ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ تعالی نے اھل سنت والجماعہ کے عقیدہ کے بیان میں کہا ہے کہ ( فی بیان عقیدۃ اھل سنۃ والجماعۃ ) :

( ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے اور ان میں سے کسی ایک کی محبت میں افراط سے کام نہیں لیتے اور نہ ہی ان میں کسی سے برات کا اظہار کرتے ہیں اور جو ان سے بغض رکھتا اور خیرکے بغیرانہيں یاد کرتا ہے ہم ان سے بغض کرتے اور ہم صحابہ کرام کو خیروبھلائ کے بغیر یاد نہیں کرتے ، ان سے محبت کرنا دین اور ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر ونفاق اور سرکشی و زیادتی ہے ) ۔

چہارم :

اور وہ چیزیں جو کہ اس جماعت کی پکڑ میں آتا ہے ان کے فتووں میں ظاہری شذوذ پایا جاتا ، اور وہ قرآن وسنت کی نصوص سے متصادم ہیں ۔

ان میں سے کچھ بطور مثال ذکر کیۓ جاتے ہیں :

انہوں نے کفارکامال چھننے لے لۓ ان کفار کے ساتھ جوا مباح قرار دیا ہے ، اور انکی کھیتی اور جانوروں کی چوری اس شرط پرجا‏ئز قرار دی ہے کہ اگر اس ميں فتنہ کا ڈر نہ ہو تو کفار کی چوری کی جاسکتی ہے ، اور اسی طرح کفار کے ساتھ سود کا لین دین کرنا جائز قرار دیا ہے ، اور محتاج کے ساتھ ان پتوں کے ساتھ معاملہ کرنا جو کہ حرام ہیں جائزقرار دیا ہے ۔

اور ان صریح مخالفات میں سے یہ بھی ہے کہ : آئینہ اور سکرین میں اجنبی عورت کو دیکھا جاسکتا ہے اگر چہ بطور شہوت ہی کیوں نہ ہو ، اور اجنبی عورت کو ہیمشہ اور بار بار دیکھنا حرام نہیں ، اور عورت کے بدن میں سے وہ اشیاء جو کہ مرد کے لۓ دیکھنا حلال نہیں اسے دیکھنا حرام نہیں ، اور اسی طرح مردوں اور عورتوں کے درمیان احتلاط اور میل جول مباح ہے ، اس کے علاوہ وہ فتوی جو کہ شاذ اور شریعت اسلامیہ کے خلاف اور اس سے متصادم ہیں ، اور جو امور جائز اور مباح ہیں انہیں کبیرہ گناہ شمارکرتے ہیں ، ہم اللہ تعالی سے ایسے اسباب سے عافیت طلب کرتے ہیں جو کہ اللہ تعالی کے عقات اور اس کی ناراضگی کا باعث ہوں ۔

پنجم :

ان کا اسلوب ہے کہ وہ اھل سنت کے راسخ علماء سے نفرت دلاتے – کہ الن کی کتابیں نہ پڑھی جائيں اور کی نقول پر اعتماد نہ کیا جاۓ – اور ان پر سب وشتم کرتے اور ان کی عزت مرتبہ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بلکہ ان علماء کو کافر قرار دیتے ہیں ، ان علماء میں سے علماء کے سرخیل امام مجدد شیخ الاسلام ابو العباس عبدالحلیم بن عبدالسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی ، حتی کہ عبداللہ الحبشی نے امام ابن تیمیۃ کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس نے ان کی طرف گمراہی اور ایسی باتوں کی نسبت کی ہے جو کہ انہوں نے کہی ہی نہیں ، اور ان پر افتراء اور جھوٹ باندھا ہے ، اس کا حساب اللہ تعالی ہی کرنے والا ہے ، اور اللہ تعالی کے پاس ہی جھگڑہ کرنے والے جمع ہوں گے ۔

اور اسی طرح وہ امام مجدد محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی اور ان کی اس دعوت پر بھی طعن کرتے ہیں جو کہ جزیرہ عربیہ کے قلب میں پھیلی اور جس میں لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے بچنے کا کہا گیا اور قرآن وسنت کی نصوص کی تعظیم کی طرف بلایا گیا ، اور بدعا ت کو ختم کر کے سنت کا احیاء کیا گیا ، تو اللہ تعالی نے اس مجدد سے معالم دین کو زندہ فرمایا ، اور بدعات اور برائ میں سے جسے چاہا اسے مٹا کر نابود کر دیا ، تو اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اس دعوت کے آثار عالم اسلامی کے کونے کونے پر پھیل گۓ ، اور اللہ تعالی نے اس دعوت کے ساتھ بہت سے لوگوں کو گمراہی اور ضلال سے نجات دلائ ۔

تو اس گمراہ جماعت ( حبشیوں کی جماعت ) نے اپنے منہ کے تیروں اور توپوں کا منہ اس دعوت حقہ اور جو اس دعوت کودینے والے ہیں ان کی طرف کردیا اور اس کے ذمہ جھوٹ اور شبھا ت لگانے شروع کر دۓ ، اور جوصریح کتاب و سنت کی دعوت تھی اس کا انکار کرنا شروع کردیا ، ان کا یہ سارا فعل صرف اس لۓ تھا کہ لوگوں کو حق سے نفرت دلائ جاۓ اور سیدھے راہ سے لوگوں کو روکا جاۓ ، اللہ تعالی ہمیں اس سے بچا کے رکھے ۔

اور اس میں کسی قسم کا کوئ شک نہیں کہ اس جماعت کا ان مبارک اور علم وفضل والے علماء سے بغض رکھنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کے دل میں ہر اس شخص کے خلاف حقد وبغض اور کینہ پایا جاتا ہے جو بھی دعوت توحید کا پرچار کرے اور اس کی طرف بلاۓ اور اس اعتقاد کی دعوت دے جس پر قرون ثلاثہ کے لوگ تھے ، اور اس جماعت کے لوگ اسلام کی حقیقت اور اس کے جوھر سے دور اور اس سے ہٹے ہوۓ ہیں ۔

ششم :

جوکچھ اوپر بیان ہو چکااور اس کے علاوہ جو بیان نہیں کیا گیا اس کی وجہ سے کمیٹی نے مندرجہ ذیل فیصلہ کیا ہے :

1 – یہ جماعت گمراہ اور مسلمانوں کی جماعت ( اھل سنت ) سے خارج ہے ، اور اس جماعت کے ارکان پر ضروری اور واجب ہے کہ وہ اس حق پر واپس آجائيں جس پر صحابہ کرام اور تابعین عظام دین کے سب معاملات میں اور عملی اور اعتقادی طور پر تھے ، اسی میں ان کی بھلائ اور بقا ہے ۔

2 - اس جماعت کے فتوی پر عمل کرنا جائز نہیں ، اس لۓ کہ وہ اسے دین سمجھتے ہیں جو کہ شاذ بلکہ نصوص قرآنیہ اور احادیث کے مخالف ہیں ، اور وہ ان اقوال پر عمل کرتےہیں جو کہ فاسد اور نصوص شرعیہ سے دور ہیں ، اور یہ سب کچھ اس پر دلالت ہے کہ عام مسلمانوں کو ان کے فتاوی پر اعتماد کرنا صحیح نہیں ۔

3– احادیث نبویہ کے متعلق ان کی کلام غیر معتبر ہے اور اس کا اعتبار نہیں کیا جاۓ گا چاہے وہ اسناد یا معانی کے بارہ میں ہو ۔

4 – ہر جگہ پر مسلمانوں ضروری ہے کہ وہ اس گمراہ جماعت سے بچ کر رہے اور لوگوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرے ، اور انہیں یہ چاہۓ کہ وہ کسی بھی طرح اور کسی بھی نام سے اس جماعت میں داخل ہونے سے بچیں ، اور اس جماعت کے کارکنوں کو ثواب کی نیت رکھتے ہوۓ انہیں نصیحت کریں جو کہ اس میں گھسے ہوۓ ہیں ، اور ان کے لۓ اس جماعت کے گمراہ عقائد اور افکار کو ان کے سامنے بیان کیا جاۓ ۔

تو کمیٹی جب یہ فیصلہ کیا اور اسے لوگوں کے لۓ اسے بیان کرتی ہے تو اللہ تعالی کے اسماء حسنی اور صفات علی کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ مسلمانوں کو ظاہری اور باطنی فتنوں سے بچا کے رکھے اور مسلمانوں میں سے گمراہ لوگوں کو سیدھے راہ کی ھدایت دے اور ان کے حالات کی اصلاح فرماۓ ، اور سازشیوں کی سازشوں کو ان کے لۓ وبال جان بناۓ ، اور مسلمانوں کوان کے شر سے محفوظ فرماۓ ، اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر اور دعا کو شرف قبولیت بخشنے والا ہے ، اور اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پراور ان کی آل اور صحابہ کرام اور ان کی اتباع کرنے والوں پر رحمتیں برساۓ ، آمین ۔ .

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 12 / 323 )
Create Comments