Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
866

سودى بنكوں ميں ملازمت كرنا

مجھے بنك ميں ملازمت كرنے كى پيشكش ہوئى ہے، بنك ميں ملازمت كے متعلق حكم كے بارہ ميں مجھے مكمل يقينى علم نہيں ہے، كيونكہ بنك سودى منافع كا كاروبار كرتے ہيں، ميرى گزارش ہے كہ يہ بتايا جائے كہ آيا بنك ميں ملازمت كرنى جائز ہے يا ناجائز ؟

الحمد للہ :

آپ اس كا جواب مندرجہ ذيل حديث ميں ديكھ سكتے ہيں:

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود كھانے، اور سود كھلانے والے، اور سود لكھنے والے، اور اس كے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائى، اور كہا: يہ سب برابر ہيں"

اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالىنے اپنى صحيح مسلم حديث نمبر ( 1598 ) ميں روايت كيا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى اس كى شرح ميں كہتے ہيں:

اس ميں سودى معاملات كرنے والوں كى بيع لكھنے اور اس پر گواہى دينے كى صراحتا تحريم ہے، اور اس ميں باطل پر معاونت كرنے كى بھى صراحت پائى جاتى ہے. واللہ اعلم.

لہذا سودى بنك ميں ملازمت كرنے والا شخص كسى بھى طريقہ سے يا پھر عملى طور پر سودى لين دين ميں معاونت ضرور كرتا ہے، اگرچہ وہ بنك كا چوكيدار ہى كيوں نہ ہو.

ميرے مسلمان بھائى ہو سكتا ہے - جب آپ صبر كريں تو - اللہ تعالى آپ كو كوئى حلال كام مہيا كر دے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اور پرہيزگارى اختيار كرتا ہے، اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے رزق بھى وہاں سے ديتا ہے جہاں سے اسے گمان بھى نہيں ہوتا}.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments