Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
87735

عورت كے بال نہ چھپانے كے قائل كے پيچھے نماز ادا كرنا

يہاں امريكا ميں مسجد كميٹى كا ايك شخص ايسا بھى ہے جو مسلمانوں ميں مقام و مرتبہ ركھتا ہے، اس شخص نے مسجد ميں كہا كہ امريكا مكہ اور مدينہ سے بھى زيادہ داراسلام ہے.
اور جب كچھ امريكى عورتوں نے اسلام قبول كرنے كے بعد پردہ كرنے كا اہتمام كياتواخبارى نمائندوں كے سوال كا جواب ديتے ہوئے اس شخص كا كہنا تھا: اللہ تعالى نے مردوں اور عورتوں پر اللہ تعالى نے شرم و حياء اختيار كرنى فرض كى ہے، ليكن بعض لوگ كہتے ہيں كہ عورت كے ليے اپنا سر چھپانا واجب ہے، ليكن ميرى رائے ميں سر چھپانا واجب نہيں.
سوال يہ ہے كہ: كيا اس شخص كى كلام حق ہے يا باطل، كيونكہ بہت سارى مسلمان عورتيں اس كى بات پر اعتماد كرتى ہوئى سر كا پردہ نہيں كرتيں، اور اگر يہ شخص اپنى اسى رائے پر مصر ہو تو كيا اس كے پيچھے نماز ادا كرنى جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اس شخص كا يہ قول: " مكہ اور مدينہ سے زيادہ امر يكا دار اسلام ہے "

اس شخص كا يہ قول باطل ہے، اور اس كے باطل ہونے كے ليے كسى دليل كى ضرورت نہيں؛ كيونكہ كوئى بھى عقلمند شخص يہ نہيں كہتا كہ امريكا دار اسلام ہے، بلكہ امريكہ خود بھى اس كا دعوى نہيں كرتا!

دوم:

اہل علم كا اتفاق ہے كہ عورت كے ليے سر ڈھانپنا فرض ہے؛ اس كے كئى ايك دلائل موجود ہيں جن ميں پردہ كا حكم ديا گيا ہے، اور اس ميں سب سے زيادہ صريح دليل اللہ سبحانہ و تعالى كا درج ذيل فرمان ہے:

﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ﴾الاحزاب ( 59 ).

يہ آيت چہرے كے پردہ كى بھى دليل ہے؛ كيونكہ اوڑھنى سر كے اوپر سے نيچے لٹكائى جاتى ہے حتى كہ چہرہ اور سينہ چھپا لے.

ہم نے چہرے كا پردہ كرنے كے دلائل سوال نمبر ( 11774 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں، اور يہ سب دلائل سر كا پردہ كرنے اور اسے چھپانے كے وجوب پر بالاولى دلالت كرتے ہيں.

علماء كرام كے درميان چہرے كا پردہ كرنے ميں اختلاف تو پايا جاتا ہے، ليكن غير محرم اور اجنبى مردوں سے عورت كے سر كا پردہ كرنا اور بال چھپانے كے وجوب ميں علماء كرام كے ہاں كوئى اختلاف نہيں پايا جاتا.

امام ابو بكر الجصاص اپنى مايہ ناز تفسير ميں درج ذيل فرمان بارى تعالى كى تفسير كرتے ہوئے كہتے ہيں:

قولہ تعالى:

﴿ بڑى بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ( اور خواہش ہى ) نہ رہى ہو وہ اگر اپنى چادر اتار ركھيں تو ان پر كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر كرنے والياں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھى ا حتياط ركھيں تو ان كے ليے بہت بہتر اور افضل ہے، اور اللہ تعالى سنتا اور جانتا ہے ﴾النور ( 60 ).

" اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ بوڑھى عورت كے بال ستر ميں شامل ہيں، كسى بھى اجنبى شخص كے ليے نوجوان لڑكى كى طرح بوڑھى عورت كے بال ديكھنا بھى جائز نہيں، اور اگر بوڑھى عورت ننگے سر نماز ادا كرتى ہے تو نوجوان لڑكى كى طرح اس كى نماز بھى باطل ہو جائيگى " انتہى.

ديكھيں: احكام القرآن ( 3 / 485 ).

لہذا اس نقلى عالم اور اس طرح كے دوسرے اشخاص كو يہ كہا جائيگا كہ: پردہ يا شرم و حياء جس كى طرف تم جا رہے ہو اور جسے تم شرم و حياء كہتے ہو اس كى دليل كيا ہے، اور اس كى حدود كيا ہيں، اور اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنى كتاب قرآن مجيد ميں اس كا ذكر كہاں كيا ہے، يا پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ميں اس كا ذكر كہاں ملتا ہے ؟

اگر وہ شخص اس كے جواب ميں آيات حجاب ( يعنى پردہ والى ) بيان كرے تو اس سے ان آيات كى تفسير و معانى دريافت كيے جائيں، اور اگر وہ پردے والى آيات سے اعراض اور چشم پوشى كرے، تو اسے يہ آيات بتائى جائيں، تا كہ جو شخص ہلاك ہو وہ دليل پر ہلاك ہو، اور جو زندہ رہے تو وہ بھى دليل پر زندہ رہے.

سوم:

مسلمانوں كے ليے ضرورى ہے كہ وہ اللہ سبحانہ و تعالى كى كتاب قرآن مجيد اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كى تعظيم كريں اور اس كى حدود كى پہچان كريں، اور دينى احكام و مسائل سيكھنے كى كوشش اور جدوجھد كريں، اور ہر ايك كوئى آواز لگانے والے اور بےعلم شخص كى بات ماننے اور اس پر عمل كرنے سے اجتناب كريں، اور خاص كر اس دور ميں جبكہ شريعت اسلاميہ كے خلاف بہت زيادہ لوگ بولنے كى جرات كرنے لگے ہيں، اور بغير دليل و ہدايت كے بحث و مباحثہ كرتے ہيں.

اور ہمارى مسلمان بہنوں كو بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے اللہ سے ڈرنا چاہيے، اور انہيں اس سلسلہ ميں ام المومنين عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا، اور فاطمہ ،اور ام المومنين خديجہ رضى اللہ تعالى عنہما اور دوسرى صحابيات رسول كو اپنا آئيڈيل اور نمونہ بنانا چاہيے ان سب صحابيات نے پردہ كى آيات نازل ہوتے ہى فورا اپنا سارا جسم پردہ ميں چھپا ليا تھا، اور جب باہر نكلتيں تو سياہى كى بنا پر پہچانى ہى نہ جاتى تھيں، بال تو دور كى بات ہے ان كے جسم كا كوئى حصہ بھى ظاہر نہيں ہوتا تھا.

چہارم:

اس طرح كى بات كرنے والے شخص كو ضرور سمجھانا اور نصيحت كرنى چاہيے، اور كتاب و سنت اور اہل علم كى كلام ميں سے پردے كا حكم اور اس كا طريقہ ضرور بتايا جائے، اگر تو وہ اسے تسليم كر لے، ہميں اميد ہے كہ وہ اسے تسليم كر ليگا، ليكن اگر وہ اپنے غلط موقف پر قائم رہے اور اصرار كرے تو پھر ايسے شخص ك واس منصب پر نہيں رہنے دينا چاہيے، اور نہ ہى اسے دوسرے مسلمانوں كو تعليم يا وعظ كرنے دينا چاہيے، اور نہ ہى اسے امامت كرانے دى جائے اور نہ ہى ايسے شخص كے پيچھے نماز ادا كى جائے.

بلكہ اس سے بائيكاٹ كيا جائے، اور حق كى جانب واپس آنے تك اس سے عليحدگى اختيار كى جائے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ گمراہ مسلمانوں كو صراط مستقيم كى ہدايت نصيب فرمائے، اور ہميں موت تك اپنے دين پر ثابت قدم ركھے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments