Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
87782

كسى دوست كے ساتھ اس پر متفق ہونا كہ چيز خريد كر اسے زيادہ ريٹ ميں فروخت كرونگا

ميں كوئى حلال سامان دو سوريال ميں خريد كر پھر اسے اپنے كسى دوست سے اتفاق كے بعد تين سو ريال ميں فروخت كر دوں تو كيا يہ جائز ہے ؟

الحمد للہ:

يہ معاملہ كئى ايك شروط كے ساتھ جائز ہے:

اول:

آپ وہ سامان اور چيز خريديں اور اپنے قبضہ ميں كر كے پھر انہيں وہ چيز فروخت كريں.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكيم بن حزام رضى اللہ تعالى عنہ كو فرمايا تھا:

" جب كوئى چيز خريدو تو اسے اپنے قبضہ ميں كرنے سے قبل فروخت مت كرو "

مسند احمد حديث نمبر ( 15399 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 613 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 342 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور مسند احمد ميں حكيم بن حزام رضى اللہ تعالى عنہ ہى سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا: ميں كئى اشياء خريدتا ہوں ميرے ليے اس ميں سے كيا چيز حلال ہے اور كيا چيز حرام ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم كوئى چيز خريدو تو اسے اپنے قبضہ ميں لينے سے قبل فروخت مت كرو "

اور دار قطنى اور ابو داود نے زيد بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اشياء اسى جگہ فروخت كرنے سے منع فرمايا جہاں ان كى خريدارى كى گئى ہو، حتى كہ تاجر اپنے گھروں ميں نہ لے جائيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3499 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح سنن ابو داود ميں حسن كہا ہے.

لہذا آپ كے ليے جائز نہيں كہ كسى چيز كے مالك بننے اور اسے اپنے قبضہ ميں لينے سے قبل ہى ان كے ساتھ سودا كريں، ليكن آپ ان كے ساتھ وہ چيز لانے كا معاہدہ كرسكتے ہيں، اور وہ اسے خريدنے كا وعدہ كر سكتے ہيں اور آپ ان كے ساتھ قيمت پر بھى متفق ہو سكتے ہيں، اور يہ وعدہ آپ دونوں فريقوں پر لازم نہيں ہوگا.

دوم:

آپ ان كے ليے خريدارى كے وكيل نہ ہوں، تو يہ صحيح نہيں كہ وہ آپ كو كسى چيز كى خريدارى كا وكيل بنائيں اور آپ اسے دو سو ريال ميں خريد كر انہيں اس سے زيادہ ريٹ پر فروخت كريں، كيونكہ وكيل كے ليے اپنے موكل سے اس كے علم كے بغير نفع لينا جائز نہيں.

بلكہ آپ ان كے ساتھ اس طرح معاملہ كريں كہ آپ فروخت كرنے والے ہوں اور جو وہ سامان چاہتے ہيں وہ خريديں اور ان سے نفع حاصل كريں.

سوم:

آپ انہيں ماركيٹ كے ريٹ پر فروخت كريں، ليكن انہيں حقيقى ريٹ كا علم نہ ہو اور وہ حقيقى ريٹ سے جاہل ہوں تو بہت زيادہ ريٹ لينا يہ غبن اور دھوكہ ميں شمار ہوتا ہے ايسا كرنا جائز نہيں، اگر انہيں حقيقى ريٹ كا علم ہو جائے اور وہ اس پر رضامندى كا اظہار كريں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور اگر انہيں حقيقى ريٹ كا علم نہ ہو تو پھر آپ كے ليے ريٹ ميں زيادہ اضافہ كرنا جائز نہيں ہوگا.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 13341 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments