Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
87920

كيا عورت لمبا بلاؤزر اور پينٹ پہن سكتى ہے ؟

مجھے علم ہے كہ پينٹ پہننى حرام ہے، ميں حرام سے بچنے كے ليے سوال كرنا چاہتى ہوں:
كيا ميرے ليے پينٹ كے اوپر لمبا بلاوزر جو كہ نصف ٹانگوں تك ہو پہننا جائز ہے يا نہيں ؟
يہ علم ميں رہے كہ بلاوزر كھلا اور وسيع ہے جو ميرے جسم كے پرفتن اعضاء كو چھپا كر ركھتا ہے، اور يہ بھى بتائيں كہ پينٹ كى حرمت كا حكم كب ختم ہوتا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

غير محرم اور اجنبى مردوں كے سامنے عورت كا پينٹ پہن كر آنا حرام ہے؛ كيونكہ يہ شرعى طور پر مطلوب ستر كو نہيں چھپاتا، بلكہ عورت كے پرفتن اعضاء كو ظاہر كرتى ہے، اور پھر اس كے ساتھ ساتھ اس ميں مردوں اور كافر عورتوں كے ساتھ مشابہت بھى ہوتى ہے اور يہ سب كچھ حرام ہے جس كا علم ہر ايك كو ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ميرى رائے تو يہ ہے كہ مسلمانوں كواس لباس كے پيچھے نہيں بھاگنا چاہيے جو ادھر ادھر سے مسلمانوں ميں آ رہے ہيں؛ اور ان لباسوں ميں بہت سے تو اسلامى لباس كے شايان شان نہيں، اسلامى لباس مكمل ساتر ہے، اور يہ لباس چھوٹے ہوتے ہيں، يا پھر تنگ يا ہلكے اور بہت زيادہ باريك، اس ميں پتلون اور پينٹ وغيرہ بھى شامل ہے، كيونكہ يہ عورت كى ٹانگوں كا مكمل حجم ظاہر كرتى ہے، اور اسى طرح ا سكا پيٹ اور پہلو اور چھاتى وغيرہ بھى واضح ہوتى ہے.

اور يہ پينٹ شرٹ پہننے والى عورت اس حديث كے تحت ان دو قسموں ميں شامل ہوتى ہے جس كا ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے درج ذيل حديث ميں كيا ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا، ايك وہ قوم جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ لباس پہننے والى ننگى عورتيں جو خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں كى طرح ہونگے، وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگى اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو اتنى اتنى مسافت سے پائى جاتى ہے " انتہى.

اس حديث كو امام مسلم رحمہ اللہ نے حديث نمبر ( 2128 ) ميں روايت كيا ہے.

اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" ميں تو پينٹ اور پتلون كو عورت كے ليے حرام سمجھتا ہوں، كيونكہ يہ مردوں كى مشابہت ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مردوں كے ساتھ مشابہت كرنے والى عورتوں پر لعنت كى ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ عورت سے شرم و حياء ختم كر ديتى ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ جہنميوں كے لباس كا دروازہ كھولتى ہے.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا "

اور ان ميں سے ايك قسم كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا:

" وہ عورتيں جنہوں نے لباس تو پہنا ہوگا ليكن ہونگى ننگى، اور وہ خود مائل ہونے والى ہونگى، اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں جيسے ہونگے، وہ جنت ميں داخل نہيں ہونگى، اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى حاصل كرينگے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين.

اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

" عورت كے ليے پينٹ پہننى جائز نہيں؛ كيونكہ اس ميں عورتوں كى مردوں سے مشابہت ہوتى ہے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 17 / 102 ).

دوم:

پينٹ پہننے كى حرمت اس وقت زائل اور ختم ہو جائيگى جب پينٹ كپڑوں كے نيچے پہنى جائے، اور اوپر دوسرے كپڑے ہوں جس سے پينٹ نظر نہ آئے، ليكن بلوزہ كے نيچے پينٹ پہننا چاہے بلوزہ گھٹنوں تك ہى ہو ( يعنى اور كوٹ كى طرح كا لباس ) تو بھى پينٹ پہننى جائز نہيں؛ كيونكہ تحريم كى علت باقى ہے.

شيخ عبد الرزاق العفيفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب عورت پينٹ پہنے اور اس كے اوپر مكمل اور پاؤں تك كپڑے پہنے تو اس ميں مردوں سے مشابہت نہيں ہوتى جب كہ اس نے پينٹ نيچے پہن ركھى ہو ( اور نظر نہ آئے ) " انتہى.

ماخوذ از: فتاوى الشيخ عبد الرزاق عفيفى صفحہ ( 573 ).

اور ہم اللہ كا شكر بجا لاتے ہيں كہ اس نے آپ كو حلال كى تلاش اور اس كے متعلق دريافت كرنے كى توفيق نصيب فرمائى، ہمارى اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے تقوى و ہدايت ميں اور اضافہ فرمائے، اور آپ كو ہر قسم كےظاہرى اور باطنى فتنوں سے محفوظ ركھے، اور مسلمان عورتوں كو ہر قسم كے شر و برائى اور آزمائش سے بچائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments