Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
87962

اگر مال فرضى حج يا ہجرت كے كافى ہو تو كيا چيز مقدم ہو گى ؟

اگر ميرے پاس اتنا مال ہو جو فرضى حج يا پھر كفريہ ملك اور عظيم بےپردگى ..... سے اسلامى ملك كى طرف ہجرت كرنے كے ليے كافى ہو تو ميں كيا چيز اختيار كروں، يہ علم ميں رہے كہ ميرے والدين اب اس كفريہ ملك ميں رہائش پذير ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق حج فى الفور فرض ہو جاتا ہے، اس كا معنى يہ ہوا كہ: اگر حج كرنا ممكن ہو جائے تو اس پر حج كى ادائيگى فرض ہو جاتى ہے، اور اس ميں بغير كسى شرعى عذر تاخير كرنى جائز نہيں، مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 41702 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

انسان كى حالت كے مطابق كفريہ ممالك سے ہجرت كرنى واجب يا مستحب ہوگى، اور اگر تو وہ اس ملك ميں اپنا دين ظاہر كرنے، اور اپنے آپ كو فتنہ سے بچانے كى قدرت و استطاعت ركھتا ہو تو اس پر وہاں سے ہجرت كرنى واجب نہيں، اور اگر وہ اپنے دين كو ظاہر كرنے كى استطاعت نہ ركھے، يا پھر وہ اپنے آپ كے ليے فتنہ كا خدشہ محسوس كرے تو وہاں سے ہجرت كرنى واجب ہو جاتى ہے.

اور جب ہجرت واجب ہو جائے اور انسان كے پاس اتنا مال نہ ہو كہ وہ ہجرت كر كے حج بھى كر سكے تو يہاں ہجرت مقدم ہوگى، كيونكہ تو اس وقت فرض ہوتا ہے جب اس كى اساسى اور بينادى ضروريات سے زيادہ مال ہو، اور واجب ہجرت اس كى اساسى ضروريات ميں شامل ہوتى ہے، چنانچہ يہ حج پر مقدم ہوگى.

اور يہ بھى كہ ہجرت واجب ہونے كے بعد اس ميں تاخير كرنے سے مسلمان كے دين كے ليے نقصان دہ ہے، ليكن كسى عذر كى بنا پر حج ميں تاخير كرنا جائز ہے، اس ميں كوئى ضرر اور نقصان نہيں.

يہ كلام تو اس وقت تصور كى جا سكتى ہے جب ہجرت حج كے وقت ميں واجب ہو، ليكن اگر حج سے قبل ہجرت واجب ہو تو پھر ہجرت كرنى متعين ہو جاتى ہے، اور پھر جب حج آئے اور اس كے پاس مال متوفر ہو تو حج فرض ہوگا، اور اگر اس كے پاس مال نہيں تو حج فرض نہيں ہوگا.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو اپنى حفاظت ميں ركھے، اور آپ كو اپنى اطاعت و فرمانبردارى پر ثابت قدم ركھے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments