8797: برائيوں كى موجودگى كے باوجود فوج ميں ملازمت كرنا


مجھے فوج ميں ملازمت كرنے والے شخص كا حكم بتائيں، اس شخص كا ذريعہ آمدن صرف يہى ہے، اور فوج كا نظام اور قانون يہ ہے كہ داڑھى منڈوائى جائے اور آپس ميں عجميوں كى طرح ايك دوسرے كى تعظيم كى جائے، اور سلام اس طرح كى جائے جو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم نہيں ديا، اور جھنڈے كى تعظيم كريں، اور آپس ميں فيصلے اللہ تعالى كى شريعت كے علاوہ دوسرے قوانين ( فوجى قوانين ) كے مطابق كريں، اور اگر ميں وطن كے دفاع ميں لڑوں، ليكن يہ لڑائى لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ كے جھنڈے تلے نہيں ( صرف وطن كے دفاع كے ليے ) اور اللہ كے حكم ميں مارا جاؤں تو قرآن و سنت كے مطابق ميرا كيا حكم ہو گا ؟
اور كيا يہ ممكن ہے كہ ميں فوج ميں ہوتے ہوئے بھى فوج كى نيت كے خلاف لڑ سكوں؟
اور اگر اذيت دور كرنے كے ليے ميں وہ سب كچھ كروں جس كا بيان گزر چكا ہے، تو كيا ميں اس طرح گنہگار ہونگا؟
اور كيا كسى مسلمان شخص كو صرف فنون اور جنگى مہارت حاصل كرنے كے ليے فوج ميں ملازمت كرنى جائز ہے، كيونكہ موجودہ حالات ميں عسكرى مہارت حاصل كرنا مشكل ہے؟
مجھے اس سلسلے ميں بتائيں كہ اگر والدين كے ساتھ نظريات كا اختلاف ہو جائے تو ان كى اطاعت كا حكم بتائيں، اس حالت ميں كہ والدين قرآن و سنت كے مطابق فيصلہ نہ كريں، بلكہ وہ معاشرے كے رسم و رواج اور لوگوں كى عادات كے مطابق فيصلے كريں، اور صرف نماز، روزہ، كو ہى دين سمجھيں، اور اس كے علاوہ باقى كو حد اعتدال سے بڑھ جانا شمار كرتے ہوں، اللہ تعالى آپ كو اپنى رضا و خوشنودى كے كام كرنے كى توفيق عطا فرمائے، اور تمہارى خطاؤں كى تصحيح كرے، اور آپ كى حفاظت فرمائے ؟

الحمد للہ :

اول:

داڑھى منڈاونا حرام ہے، اور بڑھانا فرض ہے.

دوم:

جھنڈے كو سلام كرنا جائز نہيں ہے.

سوم:

شريعت اسلامى كے مطابق چلنا اور اس كے مطابق فيصلے كروانا فرض ہيں، اور كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ بڑے لوگوں اور سرداروں اور آفيسروں كو عجميوں كى طرح سلام كرے، كيونكہ عجميوں سے مشابھت اختيار كرنے كى ممانعت وارد ہے، اور اس ليے بھى كہ ايسا كرنے ميں ان كى تعظيم كرنے ميں غلو پايا جاتا ہے.

چہارم:

جو شخص بھى اللہ تعالى كا كلمہ بلند كرنے كے ليے، اور مسلمانوں كا دفاع اور دشمنوں سے مسلمان ممالك كى حفاظت كرنے كے ليے لڑائى كرتا ہے، وہ فى سبيل اللہ يعنى اللہ تعالى كے راستے ميں ہے، اور اگر وہ قتل كر ديا جائے تو ( ان شاء اللہ ) وہ شہيد ہے؛ كيونكہ مقاصد اور غرض و غايت كا اعتبار كيا جاتا ہے، اور يہ ممكن ہے كہ آپ فوج كى نيت كے خلاف نيت كريں؛ مثلا يہ كہ آپ اپنے جھاد كرنے ميں اللہ تعالى كا كلمہ بلند كرنے كى نيت كريں ( جب تك دوسرا فريق جس سے آپ لڑائى كر رہے ہيں اس سے شرعا لڑائى كرنا جائز ہو ) اگرچہ آپ كے علاوہ باقى سب اس كے خلاف بھى نيت كر ليں، مثلا وطنى جھاد يا وطن كے دفاع كى نيت.

پنجم:

اللہ تعالى كى معصيت كے علاوہ باقى ہر كام ميں والدين كى اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے، كيونكہ خالق ومالك كى نافرمانى اور معصيت ميں مخلوق كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں كى جاسكتى.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 12 / 22 ).
Create Comments