Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
87998

اپنے آپ پر نكاح حرام كرنے والے كا حكم

اگر كوئى شخص اپنے اوپر عورتوں كو حرام كر لے اور شادى كرنا حرام كر لے تو اس كے متعلق شرعى حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

كسى بھى شخص كے ليے اللہ كى حلال كردہ اشياء كو حرام كرنا جائز نہيں چاہے وہ عورت ہو يا كھانا وغيرہ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو! تم ان پاكيزہ اشياء كو حرام مت كرو جو اللہ تعالى نے تمہارے ليے حلال كى ہيں، اور حد سے تجاوز مت كرو يقينا اللہ تعالى حد سے تجاوز كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا ﴾المآئدۃ ( 87 ).

كچھ صحابہ كرام نے عورتوں سے عليحدہ رہنا اور رہبانيت اختيار كرنى چاہى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں ايسا كرنے سے منع فرمايا اور اس كے متعلق اللہ سبحانہ و تعالى نے آيت نازل فرما دى.

ابن جرير رحمہ اللہ اپنى سند كے ساتھ بيان كرتے ہيں كہ مجاہد رحمہ اللہ كا بيان ہے:

" كچھ افراد نے جن ميں عثمان بن مظعون اور عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہم بھى شامل ہيں اپنے آپ كو خصى كرنا چاہا اور تبتل اختيار كرنا چاہا تو اللہ تعالى نے يہ آيت نازل فرمائى.

اور بخارى و مسلم نے سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضى اللہ تعالى عنہ كى دنيا اور عورتوں سے عليحدگى اختيار كرنے كو رد كر ديا، اگر آپ انہيں اجازت ديتے تو ہم خصى ہو جاتے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5074 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1402 ).

چنانچہ تبتل اور خصى ہونا اور عورتوں كو حرام كر لينا يہ سب حرام ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طريقہ اور سنت سے منہ پھيرنا اور بےرغبتى كرنا ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شادى بھى كى اور شادى كى رغبت دلائى اور اس پر ابھارا اور ترغيب دلائى.

اور بخارى و مسلم كى ايك حديث ميں ہے انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

" تين شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے گھر ازواج مطہرات كے پاس آئے اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى عبادت كے متعلق دريافت كيا، جب انہيں بتايا گيا تو گويا انہوں نے اپنى عبادت كو كم سمجھا اور كہنے لگے:

كہاں ہم اور كہاں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم! نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے تو اللہ تعالى نے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف كر ديے ہيں!

ان ميں سے ايك كہنے لگا: ميں ہميشہ سارى رات نماز ہى ادا كرتا رہوں گا، اور دوسرا كہنے لگا: ميں سارا زمانہ روزہ ہى ركھوں گا اور افطار نہيں كرونگا، اور تيسرا كہنے لگا: ميں عورتوں سے عليحدگى اختيار كرونگا اور كبھى شادى نہيں كرونگا.

چنانچہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے پاس آئے اور انہيں فرمايا: كيا تم نے ہى ايسى ايسى باتيں كى ہيں، اللہ كى قسم ميں تم ميں سب سے زيادہ اللہ كا ڈر ركھنے والا ہوں اور سب سے زيادہ متقى ہوں، ليكن ميں روزہ بھى ركھتا ہوں، اور افطار بھى كرتا ہوں، اور نماز بھى ادا كرتا ہوں اور سوتا بھى ہوں، اور ميں نے عورتوں سے شادى بھى كى ہے، لہذا جس نے بھى ميرے طريقے اور سنت سے بےرغبتى كى تو وہ مجھ سے نہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5063 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1401 ).

اس سے يہ پتہ چلا كہ كسى شخص كے ليے بھى جائز نہيں كہ وہ اپنے آپ پر عورتوں كو حرام قرار دے.

سوم:

جس نے بھى ايسا كيا اس پر واجب ہے كہ وہ اللہ كے سامنے اس سے توبہ كرے، اور اس پر قسم كا كفارہ ہوگا كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) آپ وہ چيز كيوں حرام كر رہے ہيں جسے اللہ تعالى نے آپ كے ليے حلال كيا ہے، كيا آپ اپنى بيويوں كى رضامندى حاصل كرنا چاہتے ہيں، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے، يقينا اللہ تعالى نے تمہارے ليے قسموں كو كھول ڈالنا مقرر كر ديا ہے، اور اللہ تمہارا كارساز ہے اور وہى علم و حكمت والا ہے ﴾التحريم ( 1 - 2 ).

چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى نے حلال كو حرام كرنا قسم قرار ديا ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 10 / 475 ).

قسم كا كفارہ يہ ہے كہ ايك غلام آزاد كيا جائے يا پھر دس مساكين كو درميانے قسم كا كھانا كھلايا جائے جو اپنے گھر والوں كو كھلايا جاتا ہے يا پھر دس مسكينوں كو لباس ديا جائے اور جو اس كى طاقت نہ ركھتا ہو تو وہ تين دن كے روزے ركھے.

اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 45676 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

چہارم:

نكاح كا حكم انسان كى مالى اور بدنى قدرت و استطاعت اور اس كى ضرورت مختلف ہونے كى بنا پر مختلف ہوتا ہے، بعض اوقات نكاح كرنا مستحب ہے اور بعض حالات ميں مكروہ اور بعض اوقات واجب و فرض ہوتا ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 36486 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments