Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
88206

يہودى اور نصرانى كا ذبح كردہ گوشت كھانے ميں شروط

مجھے علم ہے كہ جانور ذبح كرتے وقت بسم اللہ پڑھنى ضرورى ہے، اور جس پر بسم اللہ نہ پڑھى گئى ہو اسے كھانا جائز نہيں، ليكن اوقات مسلمان شخص كو غير مسلم ملك كى جانب سفر كرنے اور وہاں تعليم يا ملازمت كے ليے كئى برس تك رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، تو كيا وہ اس مدت ميں بالكل گوشت نہ كھائے، يا كہ وہ اس حالت ميں مضطر اور مجبور شمار ہو كر يہ گوشت كھا سكتا ہے، يا پھر كھانے كے وقت بسم اللہ كفائت كر جائيگى ؟

الحمد للہ:

اول:

ذبيحہ حلال ہونے كے ليے بسم اللہ پڑھنى شرط ہے، نہ تو يہ غلطى اور بھولنے كى حالت ميں ساقط ہو سكتى ہے اور نہ ہى جہالت ميں، اہل علم كا راجح قول يہى ہے، مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 85669 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

كتابى ( يعنى يہودى اور نصرانى ) كا ذبحيہ دو شرطوں كے ساتھ حلال ہے:

پہلى شرط:

كتابى اس طرح ذبح كرے جس طرح مسلمان ذبح كرتا ہے، چنانچہ وہ حلقوم اور رگيں كاٹے اور خون بہائے، ليكن اگر وہ گلا گھونٹ كر يا اليكٹرك شاك لگا كر يا پانى ميں ڈبو كر جانور كو قتل كرے تو اس كا ذبيح حلال نہيں اور اگر مسلمان شخص بھى ايسا كرے تو بھى حلال نہيں ہو گا.

دوسرى شرط:

وہ اس جانور پر غير اللہ كا نام ذكر نہ كرے، مثلا مسيح يا كسى اور كا نام مت لے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم اسے مت كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہ ليا گيا ہو }الانعام ( 121 ).

اور حرام كردہ اشياء كے متعلق اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم پر حرام كيا گيا ہے مردار اور خون اور خنزير كا گوشت اور جس پر اللہ كے سوا دوسرے كا نام پكارا گيا ہو } البقرۃ ( 173 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہاں وہ مراد ہے جس پر ذبح كرتے وقت غير اللہ كا نام ليا جائے مثلا مسيح كے نام سے، يا محمد كے نام سے، يا جبريل كے نام سے، يا لات وغيرہ كے نام سے " انتہى تفسير سورۃ البقرۃ.

اور حرمت ميں وہ بھى داخل ہو گا جو وہ مسيح يا زہرہ كے تقرب كے ليے ذبح كريں، چاہے اس پر انہوں نے غير اللہ كا نام نہ بھى ليا ہو تو يہ بھى حرام ہے.

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور جو اہل كتاب اپنے تہواروں كے ليے ذبح كريں اور جس سے وہ غير اللہ كا تقرب حاصل كريں يہ بالكل اسى طرح ہے جس طرح مسلمان اپنى قربانى اللہ كے قرب كے ليے ذبح كرتے ہيں، اور يہ اسى طرح ہے جس وہ مسح اور زہرہ كے ليے ذبح كريں، تو امام احمد سے اس كے متعلق دو روايتيں ہيں، ان ميں مشہور يہ ہے كہ اس كا كھانا مباح نہيں چاہے اس پر غير اللہ كا نام نہ بھى ليا گيا ہو، اور عائشہ اور عبد ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم..... سے بھى نہى منقول ہے " انتہى

ماخوذ از: افتضاء الصراط المستقيم ( 1 / 251 ).

سوم:

جب مسلمان يا كتابى كوئى جانور ذبح كرے اور معلوم نہ ہو كہ آيا اس نے بسم اللہ پڑھى ہے يا نہيں تو اسے كھانا جائز ہے، اور جو اسے كھائے تو وہ اس پر بسم اللہ پڑھ لے، كيونكہ بخارى شريف ميں حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے وہ بيان كرتى ہيں:

" كچھ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور عرض كرنے لگے: كچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہيں اور ہميں يہ علم نہيں كہ آيا اس پر بسم اللہ پڑھى گئى ہے يا نہيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم بسم اللہ پڑھ كا كھا لو "

ميں نے عرض كيا: وہ كفر چھوڑ كر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، يعنى اب تك وہ اسلام ميں نئے ہيں اور انہيں علم نہيں كيا آيا وہ ( ذبح كرتے وقت ) بسم اللہ پڑھتے يا نہيں.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم بسم اللہ پڑھ كر كھا ليا كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2057 ).

جو مسلمان يا كتابى نے ذبح كيا ہو اس كے متعلق سوال كرنا لازم نہيں كہ اس نے كس طرح ذبح كيا ہے اور آيا اس پر بسم اللہ پڑھى ہے يا نہيں، بلكہ ايسا كرنا ہى نہيں چاہيے، كيونكہ يہ دين ميں زيادتى اور غلو ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہوديوں كا ذبح كردہ كھايا اور ان سے اس كے متعلق سوال نہيں كيا، صحيح بخارى وغيرہ ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے كہ" كچھ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور عرض كرنے لگے: كچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہيں اور ہميں يہ علم نہيں كہ آيا اس پر بسم اللہ پڑھى گئى ہے يا نہيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم بسم اللہ پڑھ كا كھا لو "

وہ بيان كرتى ہيں: وہ كفر چھوڑ كر نئے نئے مسلمان ہوئے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں حكم ديا كہ وہ بغير سوال كيے ہى اسے كھا ليں، حالانكہ آنے والوں پر اسلام كے احكام مخفى بھى ہو سكتے تھے، كيونكہ وہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے " انتہى.

ماخوذ از: رسالۃ فى احكام الاضحيۃ و الذكاۃ

چہارم:

اوپر كى سطور ميں جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا پر جو شخص بھى كسى غير مسلم ملك جائے اور وہاں اغلب طور پر ذبح كرنے والے يہودى اور عيسائى ہوں تو اس كے ليے ان كے ذبح كردہ گوشت كھانا حلال ہے، ليكن يہ ہے كہ اگر اسے علم ہو جائے كہ وہ ذبيحہ كو بےہوش كرتے ہيں يا پھر وہ اس پر غير اللہ كا نام ليتے ہيں تو پھر مت كھائے جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.

اور اگر ذبح كرنے والا شخص بت پرست يا كيمونسٹ ہو تو اس كا ذبح كردہ حلال نہيں.

اور جب ذبيحہ حرام ہو تو مجبور اور مضطر كى حجت اور دليل سے حرام كھانا جائز نہيں، جب انسان كو ايسى اشياء ملتى جاتى ہوں جن سے زندہ رہ سكتا ہے، مثلا وہ مچھلى كھا لے يا سبزياں اور داليں وغيرہ.

شيخ عبد الرحمن البراك حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" كفار ممالك ميں جو گوشت پيش كيا جاتا ہے اس كى كئى قسميں ہيں:

مچھلى تو ہر حال ميں حلال ہے، كيونكہ اس كى حلت ذبح اور بسم اللہ پرموقوف نہيں.

ليكن باقى اقسام كے متعلق گزارش ہے كہ اگر تو وہ عيسائى يا يہودى كمپنى اور افراد كا پيش كردہ گوشت ہو اور ان كے طريقہ كے متعلق معلوم نہ ہو كہ آيا وہ اليكٹرك شاك كے ذريعہ جانور قتل كرتے ہيں يا گلا گھونٹ كر يا سر پر ضرب لگا كر جيسا كہ يورپ ميں معروف ہے تو يہ گوشت حلال ہو گا.

جيسا كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ سب پاكيزہ اشياء آج تمہارے ليے حلال كى گئيں اور اہل كتاب كا كھانا ( ذبيحہ ) تمہارے ليے حلال ہے، اور تمہارا كھانا ( ذبيحہ ) ان كے ليے حلال ہے }المآئدۃ ( 5 ).

اور اگر يہ معلوم ہو جائے كہ وہ ان طريقوں ميں سے كسى ايك طريقہ سے جانور ہلاك كرتے ہيں تو پھر يہ گوشت حرام ہے، كيونكہ يہ منخقہ اور موقوذۃ ميں شامل ہو گا.

اور اگر يہ گوشت تيار كرنے والے يہودى اور عيسائيوں كے علاوہ كوئى اور ہو تو يہ گوشت حرام ہے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور تم اسے نہ كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہيں ليا گيا يہ فسق ہے .

اس ليے مسلمان شخص كو واضح حرام سے اجتناب كرنے كى كوشش كرنى چاہيے، اور اسے مشتبہات سے دور رہنے كى جدوجہد كرنى چاہيے تا كہ اپنا دين سلامت ركھ سكے، اور اپنے بدن كو بھى حرام خوراك سے محفوظ ركھتے" انتہى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments