Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
88269

ماں رشت دينے پر راضى ہوئى ليكن بعد ميں انكار كر ديا اگر بيٹى اس شخص سے شادى كر لے تو كيا گنہگار ہو گى ؟

ميں نے ايك بااخلاق اور دين اور حسب و نسب والى لڑكى سے شادى كى جس كے والدين كى آپس ميں طلاق ہو چكى ہے، ميں نے اس لڑكى كا رشتہ اس كے ولى سے مانگا اور ولى نے يہ رشتہ قبول كر ليا اسى طرح لڑكى كى والدہ نے بھى يہ رشتہ قبول كيا.
ليكن اس لڑكى كے دل ميں ميرے متعلق كچھ بغض سا پايا جاتا ہے كيونكہ ميں نے يہ رشتہ اسے طلاق دينے والے شخص كے ذريعہ حاصل كيا ہے ـ جو كہ لڑكى كا ولى ہے ـ اور ميں نے يہ بھى نوٹ كيا ہے كہ لڑكى كى ماں نفسياتى طور پر ايك استقرار والى عورت نہيں، اس عورت كو طلاق دينے والے شوہر نے بھى يہى بتايا ہے، اور اسى طرح لڑكى بھى يہى كہتى ہے.
عقد نكاح كے بعد اور رخصتى كے عرصہ كے دوران ميرى ساس ميرى بيوى كو تنگ كرتى اور اسے گالياں نكالتى تھى اس ليے ہم نے فيصلہ كيا كہ رخصتى جلد كر لى جائے، ميں نے لڑكى كے ولى سے رخصتى جلد كرنے كى اجازت مانگى تو اس نے رخصتى جلد كرنے كى اجازت دے دى اور اس كے ليے وقت بھى مقرر كر ديا.
ليكن يہ وقت ان دنوں كے مطابق ہو گيا جس ميں لڑكى كى والدہ سفر پر جا رہى تھى، اور ہميں يہ تو علم تھا كہ اس نے باہر جانا ہے، اس ليے ہم نے كئى بار اس سے دريافت كيا كہ وہ كب جا رہى ہے اور اس كے ليے كوئى تاريخ مقرر كر دے اور ہميں بتائے، ليكن ميرى ساس نے تاريخ نہيں بتائى، حالانكہ اسے جانے اور واپس آنے كى تاريخ كا علم تھا ليكن اس كے باوجود اس نے ہميں نہيں بتايا.
ميرى بيوى نے مجھ سے كہا كہ ہميں والدہ كے آنے تك رخصتى ميں تاخير كر لينى چاہيے، ليكن ميں نے بھى اور اس كے والد نے بھى انكار كر ديا، كيونكہ رخصتى ميں جتنى تاخير ہو گى مشكلات اتنى ہى زيادہ ہونگى، مجھ پر واضح ہوا كہ ميرى بيوى كى والدہ اپنى بيٹى كى مجھ سے طلاق حاصل كرنے كى كوشش كرتى رہى ہے. بہر حال رخصتى ہوگئى جس ميں نہ تو ميرى بيوى كى والدہ تھى اور نہ ہى اس كى كئى بہنيں اور ايك بھائى بھى نہيں تھا، بعد ميں ہميں علم ہوا كہ اس كى والدہ اور بڑى بہن دونوں ہى ميرى بيوى كے بہن بھائيوں كو رخصتى كى تقريب ميں نہ آنے كى ترغيب دلاتى رہى ہيں.
اس طرح ميرى بيوى كے بہن بھائي دو گروہوں ميں بٹ گئے، كچھ نے تو اس ترغيب كى طرف كوئى دھيان نہيں ديا اور كچھ نے اسے قبول كرتے ہوئے رخصتى كى تقريب ميں شركت نہيں كى.
رخصتى كے بعد ميرى بيوى اور اس كى ماں اور بہنوں كے مابين قطع تعلقى ہوگئى انہوں نے الزام يہ لگايا كہ ميرى بيوى نے ماں كى بات نہيں مانى اور مجھ پر الزام لگايا كہ ميں نے بيوى كو اپنى ماں كى نافرمانى كرنے پر ابھارا ہے.
ميرا سوال يہ ہے كہ: اگر ہم فرض كر ليں كہ ميرى ساس نے اپنى بيوى كى شادى ميرے ساتھ كرنے سے انكار بھى كر ديا ہو اور لڑكى كا ولى اس رشتہ كو قبول كرے اور بيٹى كو بھى يہ رشتہ قبول كرنے پر ابھارا تو كيا ميرى بيوى كا اپنى ماں كى بات نہ ماننا قطع رحمى اور نافرمانى كہلائيگا ؟
اور اگر ميں اپنى ساس كے ساتھ اختلاف كروں اور ميرى بيوى اپنے دل ميں كچھ محسوس كرے تو وہ ہم دونوں ميں سے كسى كى اطاعت كريگى ؟ آيا خاوند كى اطاعت كرے يا پھر اپنى والدہ كى بات مانے ؟

الحمد للہ:

اول:

ہمارى دعا ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى آپ كے ليے بركت كا باعث بنائے، اور آپ كو بركت سے نوازے، اور آپ دونوں كو خير و بھلائى پر جمع ركھے، اور آپ دونوں كو نيك و صالح اولاد نصيب كرے.

دوم:

اگر تو معاملہ ايسا ہى ہے جيسا آپ نے بيان كيا ہے كہ آپ كى ساس نفسياتى مشكلات سے دوچار ہے، اور ابتدا ميں آپ كے ساتھ اپنى بيٹى كا رشتہ كرنے پر راضى تھى، تو پھر اس كى بيٹى كے ليے اس كى مخالفت كرنے ميں كوئى حرج نہيں كہ جب لڑكى كا ولى اس شادى پر راضى ہے تو لڑكى آپ سے شادى كرنا قبول كر لے.

بيٹى كو چاہيے كہ وہ اپنى والدہ سے نيكى و حسن سلوك كا برتاؤ كرے، اور ماں كے ساتھ صلہ رحمى كرنے كى كوشش كرے، اور اپنى بہن بھائيوں كے ساتھ بھى اچھا برتاؤ كرے، چاہے وہ اس كے ساتھ برا سلوك ہى كرتے ہوں.

كيونكہ صلہ رحمى كى شان بہت عظيم ہے، يہ صلہ رحمى نہيں كہ جو رشتہ دار صلہ رحمى كرے اس كے ساتھ ہى صلہ رحمى كى جائے، بلكہ صلہ رحمى كرنے والا شخص تو وہ ہے جو قطع رحمى كرنے والے كے ساتھ صلہ رحمى كرتا ہے، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان بھى ہے.

سوم:

اور اگر والدين اور خاوند كى اطاعت ميں تعارض پيش آ جائے تو پھر خاوند كى اطاعت مقدم ہوگى، كيونكہ خاوند كا اپنى بيوى پر عظيم حق ہے، حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہاں تك فرمايا:

" اگر ميں كسى كو حكمد ديتا كہ وہ كسى دوسرے كو سجدہ كرے تو ميں عورتوں كو حكم ديتا كہ وہ اپنے خاوندوں كو سجدہ كريں، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ان پر ان كے حق ركھے ہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2140 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1159 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1853 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور امام احمد اور امام حاكم رحمہما اللہ نے حصين بن محصن سے روايت كيا ہے كہ:

" ان كى ايك پھوپھى كسى كام كى بنا پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس گئى اور جب اپنے كام سے فارغ ہوگئى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان سے دريافت كيا:

كيا تم شادى شدہ ہو ؟ تو وہ عرض كرنے لگى:

جى ہاں.

چناچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

تم اس كے ليے كيسى ہو ؟

تو وہ عرض كرنے لگى: ميں اس كى كسى حق ميں كوتاہى نہيں كرتى الا يہ كہ ميں عاجز ہو جاؤں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" خيال كرنا تم اس كے ليے كيسى ہو كيونكہ وہ يا تمہارى جنت ہے يا پھر جہنم "

ما آلوہ كا معنى ہے كہ ميں اس كے حق كى ادائيگى ميں كوتاہى نہيں كرتى.

مسند احمد حديث نمبر ( 19025 ) علامہ الباني رحمہ اللہ نے صحيح الترغيب و الترھيب حديث نمبر ( 1933 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

امام احمد رحمہ اللہ نے ايك ايسى عورت كے بارہ ميں فرمايا جس كا خاوند بھى تھا اور اس عورت كى والدہ بيمار تھى تو انہوں نے كہا:

اس عورت پر اپنى ماں كى بجائے اپنے خاوند كى اطاعت كرنا زيادہ واجب ہے، الا يہ كہ خاوند اسے اجازت دے دے "

ديكھيں: شرح منتھى الارادات ( 3 / 47 ).

ليكن آپ كے خاوند كو چاہيے كہ وہ آپ كى والدہ يعنى اپنى ساس كے ساتھ بقدر استطاعت حسن سلوك كرے، اور آپ كو بھى اس سلسلہ ميں خاوند كى ممد و معاون بننا چاہيے.

 

 واللہ اعلم.

الاسلام سوال وجواب
Create Comments