8926: كفار يا شيطان كے كردار كى اداكارى كرنے كا حكم


بہت سارے دينى ڈراموں كا ہم مشاہدہ كرتے ہيں كہ اس ميں مشركين كا كردار پيش كيا جاتا ہے، اور ان كى زبان بولى جاتى ہے، تو مشركوں كى زبان بولنے والے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

كسى بھى حال ميں جائز نہيں، اور نہ ہى كسى مسلمان شخص كے جائز ہے كہ وہ اللہ تعالى اور اس كے رسول اور دين اسلام كے دشمن كافر يا مشرك ميں سے كسى كى مشابہت كرے، اور نہ ہى اس كے لائق ہے كہ وہ اپنے آپ كو شيطان يا ابليس كى مشابہت دے جو كہ پورى انسانيت كا دشمن ہے.

تو كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ اس طرح كا فعل سرانجام دے، اور وہ ابو جہل يا عتبہ يا ربيعہ وغيرہ بن كر كفريہ كلام كرے، يا اس طرح كا كوئى اور كردار.

اللہ تعالى ہى زيادہ علم ركھنے والا ہے.

ديكھيں: فتاوى الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ ( 20 ).
Create Comments