89595: كسى معاملہ پر طلاق معلق كى اور اس سے كچھ استثناء كى نيت كر لى


ميں ايك عرب ملك ميں رہائش پذير ہوں، ليكن ميرى بيوى اور دو بيٹياں اپنے خاندان كے ساتھ اپنے ملك ميں رہتى ہيں جہاں ميرے والد صاحب ان كى ديكھ بھال اور خيال كرتے ہيں، ميں نے ٹيلى فون پر غصہ كى حالت ميں اپنے والد صاحب سے كہا كہ ( ميرى بيوى كو يہ بات پہنچا ديں كہ اگر اس نے اس وقت تك يہ كام نہ كيا تو اسے طلاق ہو جائيگى ) اس سے دھمكانا مراد نہ تھا بلكہ طلاق كى نيت تھى.
كچھ عرصہ بعد ميں نے ٹيلى فون كر كے دريافت كيا كہ آيا اس نے ايسا كيا ہے تو والد صاحب نے جواب ديا " نہيں " كيونكہ ميں نے اسے وہ كام نہ كرنے كا كہا اس ليے كہ بيٹيوں اور ميرى والدہ كے ليے نقصاندہ تھا، تو ميں نے انہيں كہا ابو جان آپ نے تو ميرى قسم توڑ دى.
يہ علم ميں رہے كہ ميں نے جو كچھ كہا تھا كہ اس فعل سے طلاق ہو جائيگى، اور اس سے عمومى طور پر نيت ميں يہ استثناء كيا تھا كہ ( جو اللہ اور رسول صلى اللہ عليہ وسلم كو ناراض كرے اور قانون كے مخالف ہو اور اس پر والدين اعتراض كرتے ہوں ) ليكن زبان سے ميں نے يہ نہيں كہا تھا.
اور سائل سے دريافت كيا گيا كہ: آيا اس نے والدين كے اعتراض والى چيز كا بالفعل استثناء كرنے كى نيت كى تھى ؟
تو سائل نے بتايا كہ وہ اپنے والد كے ساتھ حسن سلوك كرتا اور اس كى اطاعت كرتا ہے، اور اگر اس كے والد نے اس كلام پر اعتراض كيا ہوتا تو وہ اپنے والد كى بات تسليم كر ليتا، ليكن اس كا والد اس پر موافق تھا پھر بعد ميں اس نے اپنى رائے تبديل كر لى، اس كا حكم كيا ہو گا ؟

الحمد للہ:

اول:

آپ كا اپنى بيوى كے متعلق يہ كہنا كہ: " اگر اس نے ايسا نہ كيا تو اسے طلاق " يہ معلق طلاق كہلاتى ہے جمہور فقھاء كے ہاں جب شرط پائى جائے تو اسے طلاق ہو جائيگى.

ليكن بعض اہل علم كہتے ہيں كہ اگر اس سے طلاق كى نيت ہو تو پھر طلاق ہوگى، اور اگر اس سے دھمكانا مراد ہو يا پھر كسى كام كى ترغيب دلانا يا كسى كام سے روكنا مراد ہو تو يہ قسم كہلاتى ہے، اس ميں قسم كا كفارہ لازم آئيگا، اور اس ليے كہ آپ نے طلاق كى نيت كى تھى دھمكانے كى نہيں تو سب كے ہاں طلاق واقع ہو جائيگى.

دوم:

اس باب ميں نيت كا اعتبار كرتے ہوئے عام لفظ خاص كيا جائيگا، اور مطلق كو مقيد، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ الفاظ كے ساتھ ہو، چنانچہ اگر آپ نے اپنى بيوى سے كہا: اگر وہ ايسا نہ كرے تو اسے طلاق، اور آپ كى نيت يہ تھى كہ اگر اسے والد صاحب منع كريں تو پھر طلاق، اور والد نے اسے منع كيا، اس ليے اس نے نہ كيا تو اسے طلاق نہيں ہوگى.

يہ تو انسان اور اس كے رب كے درميان ہے، رہا قضاء ميں يعنى عدالتى فيصلہ ميں كہ آيا اس كا يہ قول قبول كيا جائيگا يا نہيں تو اس ميں فقھاء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ذكر كيا ہے كہ: عام لفظ كى نيت كے ساتھ تخصيص كرنا جائز اور مقبول ہے، جيسا كہ اگر كسى نے كہا ميرى عورتوں كو طلاق وہ اس سے كچھ بيويوں كو طلاق كى نيت ركھتا ہو تو يہ صحيح ہے، اور اس كى نيت سے الفاظ كو اس كے ارادہ پر محمول كيا جائيگا اور جس كا وہ ارادہ نہ ركھتا ہو وہ قبول كيا جائيگا.

اس كى شرط يہ ہے كہ نيت الفاظ كے ساتھ ہى ملى ہوئى ہو ( يعنى جب الفاظ بولے جائيں تو نيت بھى اسى وقت ہو ) ليكن اگر الفاظ كے بعد تاخير سے نيت كى جائے اور وہ كہے: ميرى عورتوں كو طلاق پھر فارغ ہونے كے بعد اپنے دل ميں كہے كچھ كو تو اس كى يہ نيت فائدہ مند نہيں ہوگى اور سب كو طلاق ہو جائيگى...

اور اسى طرح يہ بھى ہے كہ جب كسى نے كسى وقت يا حالت كى تخصيص كى نيت كى ہو مثلا وہ كہے: تجھے طلاق اور نيت يہ ہو كہ اگر تم گھر داخل ہوئى، يا پھر ايك ماہ بعد تو بھى اس كے قول كو قبول كيا جائيگا اور الفاظ كو نيت كے ساتھ خاص كيا جائيگا "

ديكھيں: المغنى ( 7 / 319 ).

آپ كے سوال اور پھر آپ سے دريافت كرنے پر ہميں تو يہى ظاہر ہوا ہے كہ آپ نے اپنے والدين كو ناراض كرنے والے عمل كا استثناء نہيں كيا، بلكہ آپ نے تو يہ كہا كہ اگر ميرے والد صاحب نے مجھ پر اعتراض كيا ہوتا تو ميں ان كى موافقت كرتا، اور اس طرح كى چيز استثناء نہيں ہوتى، ابن قدامہ كى كلام ميں بيان ہو چكا ہے كہ جب كلام سے استثناء متاخر ہو تو وہ صحيح نہيں ہوگا.

اس بنا پر يہ طلاق واقع ہو چكى ہے اگر تو يہ پہلى يا دوسرى طلاق تھى تو آپ جتنى جلدى ہو سكتے عدت ختم ہونے سے قبل رجوع كر ليں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہمارے اور سب مسلمانوں كے حالات كى اصلاح فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments