8961: جہاد كا حكم


كيا اس وقت ہم پر جہاد فرض عين ہے، كيونكہ ہر طرف سے دشمن اسلام نے يلغار كر ركھى ہے، اور مسلمانوں كے حقوق محفوظ نہيں رہے ؟
اور جو لوگ بيٹھ رہے ہيں وہ حيلہ كى استطاعت نہيں ركھتے ان كا حكم كيا ہے، ليكن يہ ہے كہ اگر امام المسلمين انہيں جہاد ميں نكلنے كا كہے تو وہ اس كى بات تسليم كرتے ہوئے جہاد فى سبيل اللہ كرنے لگيں گے، انہيں ان حالات نے روك ركھا ہے جو امت مسلمہ كو درپيش ہيں كہ ان ميں غير اللہ كے قوانين كا نفاذ كيا جا رہا ہے ، دلائل كے ساتھ واضح كريں ؟

الحمد للہ:

اعلاء كلمۃ اللہ، اور دين اسلام كى حمايت، اور دين اسلام كى نشر و تبليغ كو ممكن بنانے، اور دين اسلام كى حرمت كى حفاظت كرنا ہر مسلمان شخص پر فرض ہے جو اس كى طاقت و استطاعت اور قدرت ركھتا ہو، ليكن كوئى ايسا شخص ہونا چاہيے جو لشكر روانہ كرے، اور انہيں منظم كر كے ركھے؛ تا كہ بدنظمى نہ پھيلے اور ايسى چيز پيدا ہونے كا خدشہ نہ رہے جس كا انجام اچھا نہيں؛ اسى ليے اس كى ابتداء اور اس ميں داخل ہونے كے ليے مسلمان حكمران اور ولى الامر كا بہت بڑا دخل ہے.

اس ليے علماء كرام كو اس كام كے ليے اٹھ كھڑے ہونا چاہيے، تو جب يہ شروع ہو اور مسلمانوں كو اس جہاد ميں نكلنے كے ليے كہا جائے تو جو شخص بھى اس ميں شامل ہونے كى طاقت و استطاعت ركھتا ہو اسے اللہ كے ليے اخلاص كے ساتھ، اور حق كى مدد و نصرت كى اميد ركھتے ہوئے، اور دين اسلام كى حفاظت و حمايت كے ليے اس دعوت كو قبول كرنا چاہيے، اور ضرورت ہونے اور كسى عذر كے نہ ہونے كے باوجود جو شخص جہاد سے پيچھے رہے وہ گنہگار ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 12 / 12 ).
Create Comments