Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
89704

استخارہ كے بعد نكاح كيا ليكن اس نے طلاق دے دى

كچھ مدت قبل ميرے ليے ايك نوجوان كا رشتہ آيا ميں اور والدہ نے كئى بار استخارہ كيا اور ميرا عقد نكاح كر ديا گيا ليكن چھ ماہ بعد نامعلوم اسباب كى بنا پر اس كى جانب سے نكاح فسخ كر ديا گيا، وہ كہتا ہے كہ: وہ اپنے جذبات اور احساسات ميں گرمجوشى محسوس نہيں كرتا.
حالانكہ وہ مجھ سے بہت زيادہ محبت كرتا تھا، جس كى بنا پر ميں نوجوانوں كو ناپسند كرنے لگى ہوں جنہيں صرف اپنى زندگى اہم ہے كسى اور كى پرواہ نہيں، ميں اب دوبارہ رشتہ نہيں كرنا چاہتى، كيونكہ پہلى بار سب كچھ صحيح تھا اور پھر شادى بھى استخارہ كے بعد ہوئى تھى.
نوٹ: وہ نوجوان بنك ميں ملازمت كرتا ہے، تو كيا يہ ممكن ہے كہ ميں نے بنك ملازم كے ساتھ شادى پر رضامندى كا اظہار كيا تو اللہ نے مجھ يہ سزا دى ہو، ليكن ميں نے كئى بار استخارہ بھى كيا تھا ؟

الحمد للہ:

اول:

اس معاملہ ميں ہم آپ كے احساسات كى قدر كرتے ہيں كہ آپ كو اس سے بہت تكليف اور تنگى ہوئى، ليكن ہو سكتا ہے اللہ كى جانب سے اس ميں آپ كے ليے خير و بھلائى ہو ان شاء اللہ جس كا ادراك آپ كو بعد ميں ہو جائے.

اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مومن كا معاملہ تو بہت عجيب ہے، اس كا سارا معاملہ ہى خير و بھلائى پر مشتمل ہے، اور يہ مومن كے علاوہ كسى دوسرے كو حاصل نہيں، اگر اسے خوشى حاصل ہوتى ہے تو وہ اللہ كا شكر بجا لاتا ہے تو يہ اس كے ليے بہتر ہے، اور اگر اسے كوئى تكليف ہو تو صبر كرے يہ اس كے ليے بہتر اور خير ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2999 ).

لہذا مومن عورت اللہ كى تقدير اور قضاء پر راضى رہتى ہے، اور يہ جانتى ہے كہ اس سے بھى زيادہ اس پر اللہ تعالى مہربان ہے، اور آزمائش اور تكليف تو مومن كا اجروثواب اور مقام و مرتبہ زيادہ كرتى ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ اس پر صبر كيا جائے اور اجروثواب كى نيت ركھى جائے.

دوم:

جس سے آپ كا رشتہ طے ہوا وہ نوجوان جب سودى بنك ميں ملازم تھا تو آپ اللہ كا شكر ادا كريں كہ اللہ نے اسے آپ سے دور كر ديا اور آپ اس كى زوجيت ميں نہيں گئيں وگرنہ آپ اس كا حرام مال كھاتيں، اور استخارہ كا نتيجہ يہى ہے كہ اللہ نے آپ سے اسے دور كر ديا، كيونكہ استخارے كا نتيجہ كبھى تو فورا نكل آتا ہے اور اس معاملہ ميں طرفين طے كر ليتے ہيں.

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى كسى ايك كو يا دونوں كو ہى اس كام كے پورا كرنے سے دور كر ديتے اور وہ كام مكمل نہيں ہوتا، اس ليے آپ اللہ تعالى پر مكمل بھروسہ ركھيں كہ اس نے دونوں ميں سے جو بہتر كام تھا آپ كے ليے اسے اختيار كيا اور عقد نكاح مكمل ہونے كے بعد طلاق ہونا اللہ كى جانب سے آزمائش تھى جو كہ مفيد اور نافع و فائدہ مند ہے چاہے اس سے تكليف و اذيت بھى ہوئى ہے.

بلاشك و شبہ آپ نے يہ رشتہ قبول كر كے غلطى كى كيونكہ آپ كو چاہيے تھا كہ آپ دين و اخلاق والا رشتہ تلاش كرتيں، جو شخص سودى معاملات كرتا ہے چاہے كتابت ہو يا گواہى وغيرہ وہ عادل نہيں رہتا، اور اپنے آپ كو لعنت كا باعث اور اللہ كى رحمت سے دور كرنے كا باعث بنتا ہے، تو پھر ايك مومنہ عورت كيسے اسے خاوند اور اپنى اولاد كا باپ بنانے پر راضى ہو سكتى ہے.

لہذا آپ اللہ كى اس نعمت پر شكر ادا كريں اور اس سے سبق و عبرت حاصل كريں، كيونكہ انسان ايك بار محفوظ رہے تو يہ ضرورى نہيں كہ وہ ہر بار محفوظ رہے گا.

اس بندے كى حالت پر تعجب ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اس پر اپنى رحمت و احسان كرتے ہوئے شر سے محفوظ ركھا، اور وہ بندہ اس شر كے دور ہو جانے پر اذيت و تكليف محسوس كرتا پھرے!

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

" يقينا بندہ تجارت و غيرہ دوسرے كام كا عزم كرتا ہے حتى كہ وہ اس كے ليے آسان كر ديا جاتا ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى اسے ديكھ كر فرشتوں سے فرماتا ہے: اسے اس سے دور كر دو، كيونكہ اگر اس كے ليے اسے آسان كر ديا گيا تو يہ اسے آگ ميں لے جائيگا، تو اللہ سبحانہ و تعالى اسے اس سے دور لے كر ديتا ہے، اور وہ بندہ اس سے بدفالى ليتا ہوا كہنے لگتا ہے:

فلاں مجھ سے آگے نكل گيا، اور فلاں نے ميرے توہين كى، حالانكہ يہ تو اللہ سبحانہ و تعالى كا فضل و كرم تھا "

سوم:

رہا يہ كہ اب آپ كا اس كام سے دل گھبراتا ہے اور دوبارہ ايسا نہ كرنے كا عزم كر رہى ہو، اس سلسلہ ميں بہتر يہى ہے كہ آپ اس سوچ كو چھوڑ ديں اور اس ميں تبديلى پيدا كريں ايك دفعہ اگر انسان ناكام ہو جائے تو اس كا يہ معنى نہيں كہ وہ ہر بار ہى ناكام ہوگا.

بلكہ جو كچھ ہوا آپ اس سے تجربہ سيكھيں اور فائدہ حاصل كريں، تا كہ آئندہ جب آپ رشتہ اختيار كرنے لگيں تو اس ميں بہترى پيدا ہو اور اس اختيار ميں اساسى چيز دين و اخلاق ہونا چاہيے.

اللہ سبحانہ و تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كےايمان و تقوى كو اور زيادہ فرمائے، اور آپ كو نيك و صالح خاوند اور اولاد نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments