8981: بچي كم عمري ميں زنا كر لےتوكيا اس پرحد لاگوہوگي


بلوغت سےقبل لڑكي زنا كرلے تواس كي سزا كيا ہے ، لڑكي ابھي تك چھوٹي ہے ؟

الحمد للہ :

زناكاري كبيرہ گناہوں ميں شمار ہوتي ہے اور اللہ تعالي كےہاں اس كا بہت بڑا گناہ ہے بلكہ اللہ تعالي نےتوذكر كرتےہوئےاسے كفر، شرك اور كسي جان كوقتل كرنےكےساتھ ملا كرذكر كيا ہے فرمان باري تعالي ہے:

{اور وہ لوگ جو اللہ تعالي كےساتھ كسي دوسرے كوالہ نہيں بناتے اور نہ ہي وہ كسي ايسي جان كوقتل كرتےہيں جسےاللہ تعالي نےحرام قرار ديا ہے ليكن اسےحق كےساتھ قتل كرتےہيں ، اور نہ ہي وہ زناكاري كےمرتكب ہوتے ہيں اور جو كوئي بھي ايسا كام كرےگا وہ اپنےاوپر سخت وبال لائےگا اسے قيامت كےروز دوہرا عذاب ديا جائےگا اور وہ ذلت وخواري كےساتھ ہميشہ اسي ميں رہےگا} الفرقان ( 69 )

امام قرطبي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

سب اھل ملل ودين كااس كےحرام ہونےپراجماع ہے بلكہ كسي بھي دين ميں زنا كبھي حلال نہيں رہا، اور اسي ليےاس كي حد بھي سب حدود سےسخت ہے كيونكہ يہ عزت ونسب كي پامالي كا جرم ہے ، جو كہ پانچ كليات ميں شامل ہے جويہ ہيں: نفس ، دين، نسب، عقل اور مال كي حفاظت ميں شامل ہے .

ديكھيں: تفسير قرطبي ( 24 / 20 - 21 )

1 - لھذا جب عورت شادي شدہ ہويعني اس كےساتھ شرعي نكاح كي بنا پر دخول ہوچكا ہو تواس كي سزا رجم يعني موت تك پتھر مارناہے .

عمر بن خطاب رضي اللہ تعالي عنہ منبر رسول صلي اللہ عليہ وسلم پر تشريف فرما تھے فرمانےلگے:

يقينا محمد صلي اللہ عليہ وسلم حق كےساتھ مبعوث ہوئے اور ان پر كتاب نازل كي گئي اور رجم كي آيت بھي انہيں آيات ميں شامل تھي جوان پر نازل ہوئي تھيں، ہم نےاسے پڑھا اور حفظ كيا اور سمجھا ، لھذا رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےرجم كيا اور ان كےبعد ہم نےبھي رجم كيا، مجھےخدشہ ہےكہ لوگوں پر ايك لمبا وقت گزرے تو كوئي كہنےوالا يہ كہنےلگے ہميں توكتاب اللہ ميں رجم نہيں ملتا تواللہ تعالي كےاس نازل كردہ فريضےكوترك كركے گمراہ ہو جائيں، اور بلاشبہ مرد و عورت ميں سے جوشادي شدہ بھي زنا كرےاور اس كےخلاف دليل قائم ہوجائے يا پھر حمل ہو يا اعتراف كرلے توكتاب اللہ ميں يقينا اس كي سزا رجم ہے .

صحيح بخاري ( 2462 ) صحيح مسلم ( 1691 )

2 - اور اگر عورت كنواري ہويعني اس نےابھي شادي نہيں كي يا اس كا نكاح تو ہوچكا ہے ليكن رخصتي نہيں ہوئي تواس كي سزا سوكوڑے اور ايك برس جلاوطني ہے ، جيسا كہ عبادہ بن صامت رضي اللہ تعالي عنہ كي حديث ميں ہے:

عبادہ بن صامت رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: ( مجھ سے لے لو اللہ تعالي نےان عورتوں كےليے راہ نكال دي ہے كنوارہ كنواري كےساتھ ( زنا كرے ) توسوكوڑے اور ايك برس جلاوطني ہوگي ...... ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1690 )

اوراگر زنا كرنےوالا لڑكا يا لڑكي سن بلوغت تك نہيں پہنچے بلكہ ابھي كم عمر كےہوں تو سب علماء كےہاں اس پر حد نہيں ہوگي .

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

حد واجب ہونے ميں عقل اور بلوغت معتبر ہوگي اس ميں كوئي اختلاف نہيں . ديكھيں المغني لان قدامۃ ( 8 / 134 )

اس كي دليل رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( تين قسم كےاشخاص مرفوع القلم ہيں ، سويا ہوئے شخص حتي كہ بيدار ہوجائے، اور بچہ حتي كہ بڑا ہوجائے، اور مجنون حتي كہ عقل مند ہوجائے ) سنن نسائي حديث نمبر ( 3432 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نےاس حديث كو صحيح نسائي ( 3210 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

ليكن چھوٹے بچےيا بچي كوتعزير لگاني ضروري ہے جو حد سے كم ہو اور ايسي سزا دي جائے جواسے اس فعل سے باز ركھے، اور اگر بچے كے ولي كا قصور ہو تو اسے بھي تعزير لگاني ضروري ہے مثلا بچي كے سرابرہ نے بچي كو لڑكوں سے ميل جول ركھنے كي اجازت دے ركھي ہو يا اس طرح كےمعاملہ ميں سستي و كاہلي كا مظاہرہ كيا ہو.

اورلڑكي پر واجب اور ضروري ہے كہ وہ اپنےآپ پر پردہ ڈالے اوراس كے ولي كو بھي چاہيے كہ اس پر پردہ پوشي كرے كيونكہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( ان گندي اشياء سے اجتناب كرو جن سے اللہ تعالي نےمنع كيا ہے، اور جو كوئي بھي اس ميں پڑ جائے اسے چاہيے كہ وہ اللہ تعالي كي پردہ پوشي كےساتھ اپنے آپ پر پردہ ڈالے اور اس فعل سے توبہ كرے ) اس حديث كو امام حاكم نے روايت كيا ہے اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح الجامع ( 149 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

يہ معلوم ہونےكےبعد يہ بھي علم ميں ركھيں كہ بلوغت كي كچھ علامات ہيں اگر بچہ يا بچي ميں وہ علامات پائي جائيں تو اس علامت كي موجودگي ميں بچہ يا بچي مكلف ہونگے، ان علامات كو ديكھنےكےليے آپ سوال نمبر ( 21246 ) اور ( 13262 ) كےجوابات كا مطالعہ كريں .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments