8994: لڑکے کا اپنی منگیتر سے استمتاع اورخوش طبعی کرنا


شادی سے قبل جب میری اپنے خاوند سے منگنی ہوئی تھی تو منگنی کے دوران ہماری عادت تھی کہ ہم ایک دوسرے سے ملتے اورایک دوسرے کا بوسہ بھی لیتے رہے – اورکچھ دوسرے افعال بھی کرتے رہے – لیکن ہم نے جماع نہیں کیا پھرہم نے شادی کرلی ۔
شادی کےبعدمیں نے سورۃ النور میں پڑھا کہ زانی ایک دوسرے سے شادی نہیں کرسکتے تواب میری شادی کا حکم کیا ہے جبکہ شادی کو آٹھ برس بیت چکے ہیں ؟
ایک اورنقطہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہاں پاکستان میں بعض لوگ شادی کے کچھ عرصہ بعد بغیر کسی شرعی سبب اورمطلب کے تجدید نکاح کرتےہیں ، توکیا جب عقدنکاح صحیح اورچل رہا ہو تونکاح کی تجدید مباح اورجائز ہے ؟

الحمدللہ

صحیح عقد نکاح کی صرف وہم اورشک کی بنا پر تجدید کرنا مشروع نہیں ، لیکن سوال کے شروع میں جو منگنی کے عرصہ میں منگیتر کا آپس میں ایک دوسرے کے بوسہ لینے کے بارہ میں ذکر ہے اس کے بارہ میں یہ ہے کہ :

اگر تو یہ عقد نکاح سے قبل ہو توایسا کرنا حرام ہے اوراسی طرح اس کےہاتھ سے مشت زنی یا خوش طبعی وغیرہ کرنا بھی حرام ہے ، اوراگر یہ عقد نکاح کے بعد ہو تو بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

اوررہا مسئلہ زانی کا ایک دوسرے سے شادی کرنا تو اس میں یہ ہے کہ دونوں کی زنا سے توبہ کرنے اورلڑکی کی عدت پوری ہونے کے بعد شادی میں کوئی حرج نہیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اورپاکباز عورتیں پاکباز مردوں کےلیے ہیں } ۔

زنا سے توبہ کرنا تو ایک حتمی چيز ہےکہ وہ دونوں اس سے توبہ کریں ، لیکن عقد زواج تو صرف عدت پوری ہونے کے بعد ہی ہوسکتا ہے تا کہ اس کے رحم کی بارہ میں یہ ثابت ہوسکے کہ کہیں اسے زنا کا حمل تو نہیں ، اگر اس کا یقین ہوجائے کہ حمل نہیں تو پھر ایک دوسرے سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہيں ۔

سوال میں آپ نے جو اپنی حالت بیان کی ہے اس میں تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن آپ دونوں پر لازم ہے کہ آپ نے جوکچھ منگنی کی حالت میں عقد نکاح سے قبل حرام افعال وخوش طبعی کی ہے اس سے توبہ کریں ۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments