Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
89982

بيوى سے كہا كہ اگر تم نے زنا كيا تو تمہيں طلاق

مجھے بيوى پر شك ہوا تو ميں نے اسے كہا: اگر تم نے زنا كيا ہے تو تمہيں طلاق، ميں نے يہ بات كئى مواقع پر كئى بار كہى ہے، كيا اس سے طلاق واقع ہو گئى ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

كسى ايسے معاملہ پر طلاق معلق كرنا جو غائب ہو اور اس كے بارہ ميں علم نہ ہو كہ آيا وہ جھوٹ ہے يا سچ يہ بہت بڑى غطلى ہے؛ كيونكہ اس كا معنى يہ ہے كہ خاوند اور بيوى آپس ميں اكٹھے رہيں اور انہيں علم ہى نہ ہو كہ آيا بيوى اس كے ليے حلال ہے يا نہيں، اس ليے بعض فقھاء كرام كا كہنا ہے كہ اسے شرعى طور پر طلاق دينے كا حكم ديا جائيگا.

ليكن قضاء و فيصلہ كے اعتبار سے يا پھر ظاہر حكم كے اعتبار سے جب بيوى زنا سے انكار كرتى ہے تو يہ طلاق واقع نہيں ہوگى.

شرح الخرشى على خليل ميں لكھا ہے:

" جب كسى غائب معاملہ پر طلاق معلق كى گئى ہو جس كے بارہ ميں علم نہ ہو كہ وہ سچ ہے يا جھوٹ تو عليحدگى كا حكم ديا جائيگا، ايك قول ہے كہ يہ حكم مندوب ہے، اور دوسرا قول يہ كہ ايسا واجب ہے ليكن شارع كى جانب سے اس پر جبر نہيں.

مثلا كسى شخص كا يہ كہنا كہ: اگر تم مجھے ناپسند كرتى اور مجھ سے بغض ركھتى ہو تو تمہيں طلاق، يا پھر اگر تم گھر ميں داخل ہوئى تو تمہيں طلاق، تو بيوى نے كہا: ميں تمہيں ناپسند نہيں كرتى، يا ميں داخل نہيں ہونگى، اور اس كى سچائى يا جھوٹا ہونے كا علم نہ ہو " انتہى مختصرا

ديكھيں: شرح الخرشى على خليل ( 4 / 64 ).

اور يہ معاملہ جس پر طلاق معلق كى گئى ہے ـ اگر اس كے كوئى گواہ نہيں ہيں ـ اور اس كا علم بھى عورت كے علاوہ كہيں اور سے نہيں ہو سكتا تو وہى اس كى مسؤل ہے، اگر تو وہ ايسى ہے جيسا كہ اس كے خاوند نے كہا تو اسے طلاق ہو جائيگى، اور اس عورت كا اپنے خاوند كے ساتھ رہنا حلال نہيں.

دوم:

خاوند نے اس پر طلاق معلق كر كے بہت بڑى غلطى كى ہے اور يہ ظاہرى غلطى ہے، اسے چاہيے تھا كہ وہ اس طريقہ كے علاوہ كسى اور طرح اس معاملہ كى چھان بين اور تحقيق كرتا، اور پھر اس طرح كى حالت ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے لعان كرنا مشروع كيا ہے، اور يہ بھى اس وقت جب اس كے قول كے پختہ قرائن ہوں اور اگر وہ لعان نہ كرنا چاہے تو پھر اس كى عفت ميں شك ركھتے ہوئے اس عورت كے ساتھ رہنے كى بجائے اسے طلاق دے دے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن طلاق كو اس پر معلق كرنا جيسا كہ خاوند نے كيا ہے يہ بہت حرج والى بات ہے، اگر تو بيوى نے اس زنا كا ارتكاب كيا ہے اور وہ بول كر اپنے آپ كو ذليل ورسوا كرنے كا باعث بنے گى، اور اگر اس پر خاموش رہتى ہے تو وہ ايك عظيم معاملہ پر خاموشى اختيار كر رہى ہے اور اس كا خاوند كے ساتھ رہنا حرام ہوگا.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب مسلمانوں كے حالات كى اصلاح فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments