Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
90073

ہائی وے پر گاڑی خراب ہونے کی صورت میں گاڑی کو منتقل کرنے کیلئے انشورنس

میں اسکالر شپ پر بیرون ملک یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہوں، میرے پاس ایک پرانی گاڑی ہے جو کبھی بھی خراب ہوسکتی ہے، بتاتا چلوں کہ یہ ایسا ملک ہے اگر کہیں آپکی گاڑی خراب ہوگئی تو کوئی بھی آپکی مدد کیلئے نہیں رُکے گا، خاص طور ہائی وے پر، یہ صورتِ حال میرے اور میرے اہلِ خانہ کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اس ملک میں کچھ کمپنیاں ہیں جو تقریباً دو سو ریال کے بدلے میں ایک سال تک کیلئے ایسے حالات میں خدمات فراہم کرتی ہیں، اس عقد میں کمپنی اس بات کا عہد کرتی ہے کہ جب بھی انہیں فون کیا جائے گا وہ حاضر ہوکر تھوڑی بہت خرابی کی صورت میں گاڑی ٹھیک کردیں گے ورنہ قریب ترین متعلقہ اصلاح کار تک پہنچا دیں گے، چاہے آپکی کی گاڑی جتنی مرضی بار خراب ہو جائے، اور اگر پورے سال میں آپکی گاڑی خراب نہیں ہوتی تو آپکو کسی بھی رقم کا مطالبہ کرنے کا حق نہ ہوگا، اس کا کیا حکم ہے، اسے انشورنس یا BREAKDOWN COVER کہا جاتا ہے۔

الحمد للہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں

انشورنس کا یہ عقد دھوکے پر مبنی ہے، جوکہ حرام ہے، اس میں دھوکے کی صورت یہ ہے کہ انسان 200 ریال جمع کرواتا ہے، اور پھر گاڑی خراب ہونے کی صورت میں اسے منتقل کرنے کی سہولت سے ایک سے زائد مرتبہ فائدہ اٹھاتا ہے، اور اگر اسکی گاڑی خراب ہی نہ ہوتو اسے کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا، کیونکہ گاڑی خراب ہی نہیں ہوئی۔

اہل علم کے فتاوی جات اس قسم کی تجارتی انشورنس کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔

لیکن آپکی بیان کردہ مجبوری کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم کہیں گے کہ اگر کسی ایسی کمپنی سے عقد ممکن ہو جن کی خدمات معلوم ہوں جیسے آئل چینج، سفر کے متعلق راہنمائی، راستے، اور سلسلہ وار گاڑی کی چیکنگ، اور ضرورت پڑنے پر گاڑی کو منتقل کردیں تو اس میں امید ہے کہ کوئی حرج نہیں ہوگا۔اور اس طرح سے آپ اپنی بیان کردہ مشکل سے بھی باآسانی سے نکل جائیں گے۔

ہم اللہ تعالی سے اپنےلئے اور آپ کیلئے توفیق اور سیدھے راستے کا سوال کرتےہیں.

اسلام سوال و جواب
Create Comments