Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
90124

تنگ دست لڑكى كو شادى كے ليے زكاۃ دينے كا حكم

كيا تنگ دست لڑكى كى شادى كے ليے زكاۃ دينى جائز ہے يہ علم ميں رہے كہ ان كى حالت جتنى بھى پتلى ہو وہ شادى ميں بہت مطالبات كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ عورت كے ليے رہائش اور گھر كا سامان كرنا لازم نہيں، بلكہ يہ خاوند كى ذمہ دارى ہے، اور يہ بيوى كے من جملہ اخراجات ميں شامل ہوتا ہے جو خاوند كے ذمہ واجب ہيں، اور بيوى كو ديا جانے والا مہر بيوى كى ملكيت ہے اس ميں خاوند كا كوئى حق نہيں، بيوى كو اختيار ہے كہ وہ اس مہر ميں سے جو كچھ چاہے اپنے ليے خريدے.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" بيوى كو تيار كرنا اور بيوى كا سامان و جہيز: جمہور فقھاء كہتے ہيں كہ بيوى پر واجب اور ضرورى نہيں كہ وہ اپنے مہر ميں سے اپنے آپ كو تيار كرے يا اس سے كچھ خريدے، بلكہ خاوند كے ذمہ ہے كہ وہ بيوى كے ليے گھر تيار كرے اور اس ميں گھريلو ضرورت كى ہر چيز مہيا كرے تا كہ وہ ان دونوں كے ليے شرعى رہائش بن سكے " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 16 / 166 ).

دوم:

اگر اس لڑكى كا كوئى قريبى رشتہ دار يا باپ وغيرہ جو اس كا خرچ برداشت كر رہا ہے وہ موجود ہے تو اسے چاہيے كہ وہ اس لڑكى كو خاوند كے ليے تيار كر كے خاوند كے سپرد كرے، اور اگر وہ ايسا نہيں كرتا تو پھر خاوند پر اس كو لازم كيا جائيگا اور اسے وہ مہر ميں شمار كرے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 12506 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

سوم:

اور اگر عرف عام ميں لوگوں كى عادت ميں شامل ہو كہ عورت بھى گھر كى تيارى ميں شريك ہوتى ہے؛ وہ اس طرح كہ اس كے بغير لڑكى كى شادى ہى نہيں ہوتى ـ جيسا كہ اس وقت بعض ممالك اور معاشروں ميں پايا جاتا ہے ـ اور عورت كا والى يہ اخراجات نہيں اٹھاتا يا پھر وہ ان اخراجات سے عاجز ہو، اور عورت كے پاس بھى اتنا مال نہ ہو كہ وہ اپنے آپ كو شادى كے ليے تيار كر سكتى ہو تو ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اس حالت ميں اسے زكاۃ دينى جائز ہے؛ كيونكہ شادى كى ضرورت ايك معتبر ضرورت شمار ہوتى ہے، اور بعض اوقات تو شادى كى ضرورت بالكل اس طرح ہوتى ہے جس طرح كھانے پينے اور رہائش كى ضرورت ہوتى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر ہم كسى ايسے شخص كو پائيں جو كھانے پينے اور رہائش كے ليے تو اس كے پاس آمدنى ہے ليكن وہ شادى كا ضرورتمند ہے اور اس كے پاس شادى كرنے كے ليے اخراجات نہيں تو كيا ہم زكاۃ كے مال سے اس كى شادى كر سكتے ہيں ؟

جواب:

جى ہاں، ہمارے ليے اس كى شادى زكاۃ سے كرنى جائز ہے، اور پورا مہر ديا جائيگا.

اور اگر يہ كہا جائے كہ: فقير كى زكاۃ سے شادى كرنے كى كيا وجہ ہے اگرچہ اسے جو ديا جا رہا ہے وہ بہت زيادہ ہے ؟

ہم يہ كہينگے: اس ليے كہ انسان كو شادى كى بہت شديد ضرورت ہے، اور بعض اوقات تو ہو سكتا ہے اس كى يہ ضرورت كھانے پينے كى طرح ہو، اس ليے اہل علم كا كہنا ہے:

جس پر كسى كا نفقہ اوراخراجات لازم ہوں اس كے ليے لازم ہے كہ اگر اس كے پاس اتنى وسعت ہے تو وہ اس كى شادى بھى كرے اس ليے باپ پر واجب ہے كہ اگر بيٹا شادى كا محتاج ہے اور بيٹے كے پاس شادى كے ليے رقم نہيں تو باپ  اس كى شادى كرے.

ليكن ميں نے سنا ہے كہ بعض ايسے باپ بھى ہيں جو اپنى جوانى كى حالت بھول جاتے ہيں جب ان كا بيٹا ان سے شادى كا مطالبہ كرتا ہے تو وہ جواب ديتے ہيں: اپنے پسينہ كى كمائى سے شادى كرو، ايسا كرنا جائز نہيں اور اگر وہ بيٹے كى شادى كرنے پر قادر ہے تو اس كے ليے اس كى شادى نہ كرنا حرام ہے، اگر وہ طاقت و قدرت ہونے كے باوجود بيٹے كى شادى نہيں كرتا تو روز قيامت اس كا بيٹا شادى نہ كرانے ميں باپ سے جھگڑا كريگا " انتہى

ماخوذ از: فتاوى اركان الاسلام ( 440 - 441 ).

اس بنا پر اس لڑكى كو زكاۃ دينے ميں كوئى حرج نہيں تا كہ وہ شادى كے اخراجات ميں استعمال كر سكے، اور اگر آپ كو يہ خدشہ ہو كہ وہ مال كسى ايسى جگہ خرچ كيا جائيگا جس كى ضرورت نہيں، تو آپ كے ليے ممكن ہے كہ آپ رقم ديتے وقت اسے بتائيں كہ ميرے پاس اتنى رقم ہے آپ كيا خريدنا چاہتى ہيں ميں آپ كو وہ خريد ديتا ہوں، اور آپ اس كو ضرورت كى اشياء خريد كر دے ديں.

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments