Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
93018

اعتكاف كے ليے مانع حيض گولياں استعمال كرنا

ميں اعتكاف بيٹھنا چاہتى ہوں، اور ميرا يہ تيسرى بار اعتكاف ہے، اور ماہوارى كے ايام رمضان المبارك كے آخرى عشرہ ميں آنے ہيں، اس وقت ماركيٹ ميں ماہوارى روكنے كے ليے گولياں ملتى ہيں، پہلى بار اعتكاف كرتے وقت بھى ميں نے يہ گولياں استعمال كى تھيں، ليكن اس بار ميں استعمال كرنے سے ڈرتى ہوں، كيونكہ مجھے سرطان كى بيمارى ہے اور ميں نے كيمائى علاج بھى كروا ركھا ہے.
جب ميرى بيمارى كى بطور سرطان تشخيص ہوئى تھى تو ميں نے نيت كى كہ اگر اللہ تعالى نے مجھے عافيت سے نوازا تو ميں اعتكاف بيٹھوں گى، اب مجھے كيا كرنا چاہيے ؟
كيا مجھے ماہوارى روكنے والى گولياں استعمال كرنے سے قبل ڈاكٹر سے مشورہ كرنا چاہيے، ياكہ بغير مشورہ كيے ہى اعتكاف بيٹھ جاؤں ؟

الحمد للہ:

اول:

سب سے پہلے تو ہم اللہ تعالى سے دعاگو ہيں كہ وہ آپ كو شفا و عافيت سے نوازے، اور دينا و دنيا ميں ہميشہ كے ليے عافيت دے.

دوم:

اعتكاف، حج اور عمرہ وغيرہ جيسى عبادات كى ادائيگى كے ليے ماہوارى روكنے والى گولياں استعمال كرنى جائز ہيں، ليكن اس ميں شرط يہ ہے كہ يہ گولياں بدن كے ليے نقصاندہ نہ ہوں، اس بنا پر كہ آپ جس بيمارى كا شكار ہيں، اس كے ليے گولياں استعمال كرنے سے قبل ڈاكٹر سے مشورہ كرنا ضرورى ہے، تا كہ يہ يقين ہو جائے كہ يہ آپ كے علاج ميں نقصان نہيں دينگى، اور اس سے آپ كے علاج ميں خلل نہيں ہوگا، اور مسلمان شخص كو اپنے بدن كى حفاظت كا حكم ديا گيا ہے كہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور اپنے آپ كو قتل نہ كرو، يقينا اللہ تعالى تم نہايت مہربان ہے }النساء ( 29 ).

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى اس طرح ہے:

{ اور اپنے ہاتھوں ہلاكت ميں مت پڑو }البقرۃ ( 195 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" نہ توخود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہى كسى دوسرے كو نقصان دو " اسے امام احمد نے روايت كيا ہے، اور سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2341 ) ميں اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور " الآداب الشرعيۃ " ميں لكھتے ہيں:

" ہر نقصاندہ اور مضر چيز سے علاج كرنا حرام ہے " انتہى.

ديكھيں: الآداب الشرعيۃ ( 2 / 463 ).

اس بنا پر اگر تو يہ گولياں نقصان اور ضرر ديں تو آپ كے ليے ان كا استعمال كرنا جائز نہيں، بلكہ آپ كے ليے اعتكاف كرنا ممكن ہے، اورجب ماہوارى كے ايام شروع ہوں اور حيض كا خون آئے تو آپ مسجد سے نكل جائيں اور اعتكاف توڑ ديں، كيونكہ اعتكاف توڑنے كے ليے آپ كا يہ عذر ہے، بلكہ يہ تو واجب ہے، كيونكہ حائضہ عورت كے ليے مسجد ميں باقى رہنا جائز نہيں.

ليكن اگر يہ گولياں آپ كے نقصاندہ نہيں تو پھر انہيں استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments