Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
93109

رمضان ميں دن كے وقت بيوى سے جماع كر ليا اور كفارہ كے روزے ركھنا مشكل ہيں

ميرا ايك سوال ہے جس كے دو حصے ہيں:
پہلا حصہ يہ ہے كہ: ميں نے پچھلے رمضان المبارك ميں دن كے وقت اپنى بيوى سے جماع كر ليا، اور ہم اپنے اس فعل پر نادم ہوئے اور توبہ كر لى ليكن ہم اس دن كا كفارہ ادا كرنا چاہتے ہيں، مجھے علماء كرام كے فتاوى جات سے علم ہوا كہ اس ميں ايك غلام آزاد كرنا ہے، اور اگر نہ ملے تو دو ماہ كے روزے ہيں، اور اگر اس كى استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلانا ہو گا، اور ميرى بيوى اس پر راضى تھى تو اس كے ذمہ بھى اسى طرح كفارہ ادا كرنا ہو گا.
ليكن ميرے اور بيوى كے ليے مسلسل دو ماہ كے روزے ركھنا مشكل ہيں، تو كيا اس يوم كے بدلہ ميں اورميرى بيوى كے ليے ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلانا جائز ہے ؟
اور سوال كى دوسرى شق يہ ہے كہ:
كيا يہ ممكن ہے كہ گاڑيوں ميں روزہ دار مسافروں كو اذان سے قبل كھانا دينا ممكن ہے، يا كہ كھانا مساكين اور فقراء كو بالفعل پہنچانا واجب ہے، كيونكہ مجھے يہ پتہ نہيں چل رہا كہ ايك سو بيس مسكين كيسے ملينگے، تا كہ ميں انہيں كھانا كھلاؤں ؟

الحمد للہ:

رمضان المبارك ميں دن كے وقت بيوى سے جماع كرنے والے كے ليے واجب ہے كہ وہ ايك مومن غلام آزاد كرنا واجب ہے، اور اگر وہ اس كى استطاعت نہ ركھے تو وہ مسلسل دو ماہ كے روزے ركھے، اور اگر اس سے بھى عاجز ہو تو پھر ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلانا واجب ہے، اور يہ كفارہ اسى ترتيب سے ہے اسميں كوئى تبديلى نہيں ہو سكتى، اگر ايك چيز سے عاجز ہو تو ترتيب ميں اسكے بعد والى چيز پر عمل كرنا ہو گا، جمہور اہل علم نے يہى ترتيب قرار دى ہے، اس ليے روزے ركھنے كى استطاعت ہونے كے باوجود مسكينوں كو كھانا نہيں كھلايا جا سكتا.

تواگر آپ دونوں روزے ركھ سكتے ہيں تو پھر آپ پر روزے ركھنا واجب ہيں.

اور اگر آپ دونوں روزے ركھنے سے عاجز ہوں اور استطاعت نہ ہو تو پھر آپ دونوں كو اپنى اپنى جانب سے ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلانا ہوگا.

اور جسے كھانا كھلايا جائے ا سكا مسكين ہونا ضرورى ہے.

اس بنا پر آپ كے ليے اس طريقہ پر مسافروں كو كھانا كھلانا جائز نہيں جو آپ نے سوال ميں بيان كيا ہے، كيونكہ آپ كو علم نہيں كہ وہ سب مسكين ہيں، يا نہيں ؟

ليكن جس شخص كى حالت سے ظاہر ہو رہا كہ وہ فقير اور محتاج ہے تو آپ اس كو ديں تو اسميں كوئى حرج نہيں، ليكن آپ كا كسى بھى مسافر كو دينا جائز نہيں ہو گا.

اور اگر آپ كا مسكينوں تك پہنچنا مشكل ہو تو پھر آپ كسى باعتماد خيراتى ادارہ، يا امام مسجد كو اپنا وكيل بنا سكتے ہيں، كہ آپ كى جانب سے مسكينوں كو كھانا كھلا دے، يا پھر اپنے دوست و احباب سے دريافت كر سكتے ہيں انہيں مسكينوں كا علم ہو.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كى توبہ قبول فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments