Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
93577

مختلف اذانوں ميں سے كس اذان پر افطارى كى جائے

اگر ايك ہى محلہ ميں دو مسجدوں ميں مغرب كى اذان كے وقت ميں فرق ہو تو كس اذان پر افطارى كى جائے ؟

الحمد للہ:

افطارى كا انحصار اور دارومدار تو صرف غروب شمس پر ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب اس طرف سے رات آ جائے، اور اس جانب سے دن چلا جائے، اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار كا روزہ افطار ہو گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1954 ) صحيح بخارى حديث نمبر ( 1100 ).

غروب شمس سے مراد يہ ہے كہ سورج كى ٹكيا افق ميں جا كر چھپ جائے، اور افق ميں گہرى رنگ كى سرخى كا موجود ہونا معتبر نہيں، جب پورى ٹكيا غائب ہو جائے تو افطارى كا وقت ہو جاتا ہے.

اور آج كل اكثر مؤذن تو كلينڈروں پر اعتماد كر كے اذان كہتے ہيں، جس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن ان ميں سے كچھ ايسے ہيں جو اپنى گھڑياں صحيح طرح نہيں ملاتے.

اور جب مؤذن اذان دينے ميں اختلاف كريں اور ايك مؤذن دوسرے كى اذان كے بعد كہے تو پھر آپ يا تو اس مؤذن كى اذان پر اعتماد كريں جو وقت كا پورا خيال ركھتا ہے، كہ وقت ہوتے ہى اذان كہے، نہ تو وقت سے پہلے اور نہ ہى وقت كے بعد، تو آپ اس كى اذان پر اعتماد كريں كسى اور كى اذان پر نہيں.

يا پھر آپ خود كلينڈر پر كو ديكھ كر افطارى كر ليں، ليكن اپنى گھڑى كو اچھى طرح ملا كر ركھيں، اور وقت ہونے پر افطارى كر ليں چاہے مؤذن اذان نہ بھى دے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments