93877: وضوء كے بعد پيشاب كے قطرے خارج ہونا


اس ويب سائٹ پر لباس پر پيشاب كے قطرے پڑ جانے كے متعلق سوال و جواب كا مطالعہ كرنے كے باوجود ميں ايك سوال كرنا چاہتى ہوں يہ كہ جب ميں اپنے گھر مثلا بازار يا آفس ميں ہوں تو پيشاب كے قطرات ختم اور خشك ہونے كا انتظار نہيں كرسكتى، جو كہ غالبا وضوء كے دوران پاؤں دھونے كے ليے پاؤں اٹھاتے وقت خارج ہوتے ہيں، اور نہ ہى ميں اپنے ساتھ انڈر وئير ركھ سكتى ہوں كہ جہاں جاؤں پہن لوں اس حالت ميں ميرى نماز كا حكم كيا ہو گا، اللہ آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

الحمد للہ:

اگر آپ كو پيشاب كے قطرے خارج ہونے كا يقين ہو تو آپ كے ليے جہاں پيشاب لگا ہو اسے دھو كر وضوء دوبارہ كرنا ہوگا، اور اگر آپ كو يہ علم نہ ہو سكے كہ قطرے كہاں لگے ہيں تو آپ غالب ظن كے مطابق جہاں قطرے لگے ہوں اس جگہ كو دھوئيں حتى كہ آپ كو نجاست زائل ہونے كا يقين ہو جائے.

زاد المستقنع ميں ہے:

" اور اگر نجاست والى جگہ كا علم نہ ہو اور وہ اس پر مخفى رہے تو وہ اسے نجاست زائل ہونے كا يقين ہونے تك دھوئے "

يعنى: جب كسى چيز كو نجاست لگے اور جگہ كا علم نہ ہو تو اس نجاست لگى چيز كو دھونا واجب ہے حتى كہ نجاست زائل ہونے كا يقين ہو جائے، آپ يہ بات علم ميں ركھيں كہ جس چيز كو نجاست لگ جائے وہ دو باتوں سے خالى نہيں: يا تو وہ تنگ ہو گى يا كھلى اور وسيع، اگر تو وہ چيز وسيع اور كھلى ہو تو وہ تلاش كرے، اور جہاں غالب گمان ہو كہ يہاں نجاست لگى ہے وہاں سے دھوئے؛ كيونكہ كھلى اور مكمل اور سارى وسيع اور كھلى جگہ دھونے ميں صعوبت اور مشقت ہے، اور اگر وہ تنگ ہو اس كى نجاست زائل ہونے تك دھونا واجب ہے " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 435 ).

اور جب آپ كو يہ علم ہے كہ پيشاب كے قطرے دوران وضوء پاؤں دھونے كے ليے پاؤں اٹھاتے وقت خارج ہوتے ہيں تو آپ ايسا نہ كريں، بلكہ اپنے پاؤں زمين پر ہى ركھ كر دھو ليں اور ان پر پانى بہا ليں، اور اگر آپ كو شك ہو كہ آيا كوئى چيز خارج ہوئى ہے يا نہيں تو اس حالت ميں آپ كے ليے تلاش كرنا لازم نہيں، بلكہ آپ اس شك سے اعراض كريں اور اس كى طرف دھيان مت ديں، اور آپ كا وضوء صحيح اور آپ كا لباس پاك اور طاہر ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

جب ميں وضوء كر كے نماز كے ليے جاؤں تو مجھے محسوس ہوتا ہے كہ پيشاب كے كچھ قطرے خارج ہوئے ہيں، مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس سے اعراض كرنا چاہيے اور اس كى طرف دھيان نہيں دينا چاہيے جيسا كہ مسلمان آئمہ كرام نے ايسا كرنے كا حكم ديا ہے، اور اس چيز كى طرف التفات بھى نہ كريں، اور اسے اپنے عضو تناسل كو نہيں ديكھنا چاہيے كہ آيا اس ميں سے كچھ خارج ہوا ہے يا نہيں ؟

جب وہ اعوذ باللہ من الشيطن الرجيم پڑھ كر شيطان مردود سے اللہ كى پناہ ميں آئے گا اور اس شك كو ترك كرے گا تو اللہ كے حكم سے يہ احساس اور شك زائل ہو كر رہےگا، ليكن اگر اسے سورج كى طرح يقين ہو كہ كوئى چيز خارج ہوئى ہے تو جہاں پيشاب لگا ہو اسے دھو كر وضوء دوبارہ كرنا ہوگا.

كيونكہ بعض لوگ جب عضو تناسل كے سرے پر ٹھنڈك محسوس كرتے ہيں تو يہ خيال كرتے ہيں كہ كچھ خارج ہوا ہے، اس ليے اگر تو اس كا يقين ہو تو جيسے ميں نے آپ سے كہا ہے اس پر عمل كريں، اور جو چيز آپ كہہ رہے ہيں يہ مسلسل پيشاب كى بيمارى نہيں؛ كيونكہ وہ تو ركتا ہى نہيں، بلكہ انسان كو مسلسل پيشاب آتا رہتا ہے.

ليكن يہ تو حركت كے بعد كوئى ايك يا دو قطرے خارج ہوتے ہيں اور يہ مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں شامل نہيں ہوتا؛ اس ليے جب دو قطرے نكليں اور پھر پيشاب رك جائے تو اسے دھو كر دوبارہ وضوء كيا جائيگا، اور ہميشہ وہ اسى طرح كرے، اوراسے اس پر صبر كرتے ہوئے اجروثواب كى نيت كرنى چاہيے " انتہى.

ماخوذ از: لقاء الباب المفتوح ( 15 / 184 ).

اور يہ ممكن ہے كہ آپ انڈر ويئر ميں كوئى كپڑا يا ٹيشو پيپر ركھ ليں تا كہ پيشاب كے قطرے لباس كو نہ لگيں، تو اس طرح آپ كو كپڑے نہيں دھونا پڑينگے، بلكہ آپ كے ليے صرف ٹيشو پيپر وغيرہ پھينك دينا ہى كافى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments