95077: بيوى نماز كى پابندى نہيں كرتى


ميں نے ايك ديندار عورت سے تقريبا چھ برس قبل شادى كى، ميرے اس سے ايك بيٹا اور بيٹى بھى ہيں، شادى سے قبل مجھے اس كے بارہ ميں بتايا گيا كہ وہ دين پر عمل كرنے والى لڑكى ہے، ليكن شادى كے بعد واضح ہوا كہ وہ تو نماز كى پابندى نہيں كرتى.
جب ميں اس سے دريافت كرتا ہوں كہ نماز ادا كى ہے يا نہيں، تو جواب ديتى ہے كہ نماز ادا كر چكى ہوں، حالانكہ مجھے يقين ہوتا ہے كہ اس نے نماز ادا نہيں كى ( يعنى ميں دو نمازوں كے مابين اس كا خيال ركھتا ہوں ).
ميں نے اسے بہت وعظ و نصيحت كى ہے اور بعض اوقات تو صراحتا بھى بات چيت كى اور بعض اوقات اشارہ كنايہ ميں بھى ليكن ميں اس سے ايك كام نہيں كر سكا، يعنى اپنے بستر سے عليحدہ نہيں كر سكا، كيونكہ ميں عورتوں سے صبر نہيں كر سكتا.
بلكہ ميں نے ايك بار تو اسے طلاق بھى دے دى تھى اور پھر اپنى اولاد كے خوف سے رجوع كر ليا كہ خاندان نہ بكھر جائے، ميں اس كے ليے اللہ سے دعا بھى بہت كرتا ہوں كہ اللہ اسے ہدايت نصيب فرمائے، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟
كيا ميں اس پر اسى حالت ميں صبر سے كام لوں ( يہ علم ميں رہے كہ ميں اس كے علاوہ اس ميں كوئى اورغلط بات نہيں ديكھتا ) پھر اگر ميں اس پر صبر بھى كر لوں تو مجھ پر كيا واجب ہوتا ہے، كيا ميرا اس كے ساتھ رہنا گناہ تو نہيں، اور مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

خاوند پر واجب ہے كہ وہ اپنى بيوى كو نيكى كا حكم دے اور برائى سے روكے، اور اسے خير و بھلائى كى دعوت دے اور اسے شر و برائى سے بچا كر ركھے، تا كہ وہ اس ذمہ دارى سے سبكدوش ہو سكے جو اللہ سبحانہ و تعالى نے اس پر ڈالى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو اپنے آپ اور اپنے اہل و عيال كو جہنم كى اس آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں }التحريم ( 6 ).

اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى اپنے اہل و عيال كا ذمہ دار ہے، اور اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں باز پرس كى جائيگى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 893 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 182 ).

سب سے بڑى اور عظيم نيكى نماز كى بروقت ادائيگى ہے جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے حكم ديا ہے، اور سب سے عظيم اور بڑى برائى نماز ميں سستى اور كوتاہى كرتے ہوئے نماز ترك كرنا يا پھر بروقت نماز ادا نہ كرنا ہے.

اس كى مذمت ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اس كے بعد ايسے ناخلف پيدا ہوئے جنہوں نے نماز ضائع كر دى، اور شہوات كے پيچھے لگ گئے، عنقريب ان كا نقصان ان كے سامنے آئيگا }مريم ( 59 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى اور شرك و كفر كے مابين نماز ترك كرنا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 82 ).

اورايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان اس طرح ہے:

" جس نے بھى عصر كى نماز ترك كى تو اس كے سب اعمال ضائع ہو گئے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 553 ).

اس ليے اگر آپ كى بيوى بالكل نماز ادا نہيں كرتى تو اس مسئلہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے احاديث ميں وارد ہے كہ نماز ترك كرنا كفر ہے، لہذا آپ كے ليے اسے اپنے گھر ميں ركھنا جائز نہيں، كيونكہ وہ مسلمان نہيں.

اس وقت آپ كو چاہيے كہ آپ اسے پورى وضاحت كے ساتھ كہيں كہ اگر وہ ترك نماز پر مصر رہتى ہے تو اس كا معنى يہ ہوا كہ وہ آپ كى بيوى نہيں، يا تو وہ توبہ كر كے نماز پابندى كے ساتھ ادا كرنا شروع كر دے، يا پھر آپ اسے چھوڑ ديں.

ليكن اگر وہ كبھى كبھى نماز ضائع كرتى اور كبھى ادا بھى كرتى ہے اور آپ كے سوال سے تو يہى ظاہر ہوتا ہے، تو اس سے وہ دين اسلام سے خارج نہيں ہو گى ليكن آپ اسے نماز پابندى سے ادا كرنے كى نصيحت كريں، اور آپ نماز ميں كوتاہى كرنے كے ا سباب تلاش كر كے ان كا علاج كريں.

ليكن آپ اسے سمجھانے ميں نرمى و شقت والا رويہ اور طريقہ اختيار كريں، اور اس كے سامنے نماز كى اہميت اور عظمت واضح كريں، اور نماز ميں كوتاہى كرنے كا گناہ بھى واضح كريں، اور اسے خير و بھلائى كے كاموں كى ترغيب دلا كر اس كے ايمان و يقين ميں تقويت پيدا كريں.

اور اس سلسلہ ميں آپ اسے نفع مند كيسٹيں اور كتابيں ديں جو اس ميں خير و بھلائى كى محبت پيدا كرے، اور نيكى و بھلائى كو مزين و خوبصورت بنائے، اور اس كے ساتھ ساتھ اس سے نماز كے بارہ ميں دريافت كرتے رہيں.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كو خير و بھلائى كى طرف راہنمائى عطا فرمائے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 12828 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments