Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
9561

كام كى مشقت كى بنا پر نمازيں ادا كرنا مشكل ہے

كيا آپ كى رائے ميں روزانہ ايك يا دو نمازيں ترك كرنے والا شخص كافر ہے ؟
عام لوگوں كے ليے روزانہ نماز پنجگانہ ادا كرنا مشكل ہے، جيسا كہ معراج والى حديث ميں بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے كہ ميرى امت كے ليے اسے پورا كرنا مشكل ہو گا، ليكن اس كے باوجود انہوں نے ہميں اپنى امت قرار ديا، ہم ايمان كے اصولوں كا اعتقاد ركھتے ہيں، ليكن ہميں ان نمازوں كى كوئى تنخواہ تو نہيں ملتى جس طرح علماء كرام اور نماز پڑھانے والے اماموں كو ملتى ہے، كيونكہ وہ علماء ہيں اور اسلامى مسائل تلاش كرنے كى تنخواہ حاصل كرتے ہيں.
ہمارے بيوى بچے ہيں اور ہميں ان كا خيال ركھنا پڑتا ہے، اور روزى كمانے كے ليے ہميں روزانہ بارہ گھنٹے كام كرنا پڑتا ہے، اس بنا پر ہمارے ليے سارى نمازيں ادا كرنا مشكل ہيں.
چنانچہ كيا آپ پھر بھى ہميں كافر ہى شمار كرتے ہيں، اس كے باوجود كہ ہم بعض نمازيں ادا كرتے ہيں اور زكاۃ بھى ادا كرتے اور رمضان المبارك كے روزے بھى ركھتے ہيں، اور اس كے ساتھ ساتھ ايمان كے اصولوں كے بھى معتقد ہيں، ميرے ليے تو يہ معاملہ بہت اہميت كا حامل ہے ؟

الحمد للہ:

اما بعد: .....

اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنے بندوں پر دن اور رات ميں پانچ نمازيں فرض كى اور انہيں پابندى كے ساتھ ادا كرنے كا حكم ديا ہے، اور اس كى پابندى كرنے والوں كى تعريف كى ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور نماز قائم كيا كرو اور زكاۃ ادا كرو اور ركوع كرنے والوں كے ساتھ ركوع كرو ﴾.

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

﴿ نمازوں كى پابندى كرو، اور خاص كر درميانى نماز كى، اور اللہ تعالى كے ليے باادب كھڑے رہا كرو ﴾.

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى اس طرح ہے:

﴿ يقينا مومن كامياب و كامران ہوئے جو اپنى نمازوں ميں خشوع و خضوع اختيار كرتے ہيں ﴾.

اللہ تعالى كے اس فرمان تك:

﴿ اور وہ لوگ جو اپنى نمازوں كى پابندى كرتے ہيں ﴾.

ميرے عزيز بھائى آپ نماز كى پابندى اور اس كا اہتمام كريں، اور نماز ميں خشوع و خضوع اختيار كرتے ہوئے اس كے ممد و معاون اسباب پر عمل كر كے كامياب و كامران افراد ميں شامل ہوں، اور اپنے آپ كو ايك يا دو نمازيں ترك كرنے والے پر كافر كا حكم لگانے كے معاملہ مشغول مت كريں، كہ آيا وہ كافر ہے يا نہيں.

كيونكہ جو شخص جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كرےگا وہ اپنے آپ كو اللہ تعالى كے عذاب سے دوچار كر رہا ہے، اور مومن شخص ايسا كام كرنے كى كوشش نہيں كرتا جس كے متعلق اسے علم ہو كہ يہ سزا كا سبب بنے گا چاہے اسے وہ كفر نہ بھى ہو.

اور پھر نماز پنجگانہ اور باقى اطاعت كے كام اور حرام كاموں سے اجتناب اس وقت نہيں ہو سكتا جب تك كہ صبر نہ كيا جائے، اور پھر طبعى طور پر ناپسنديدہ ہيں، كيونكہ يہ انسان اور اس كى شہوات و خواہشات كے مابين حائل ہو جاتى ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جنت كو ناپسنديدہ اشياء كے ساتھ گھيرا گيا ہے "

اور پھر دين اسلام ميں نماز كا معاملہ بہت ہى زيادہ عظيم اسى ليے مكلف شخص جب تك زندہ اور عقلمند ہے اس سے نماز ساقط نہيں ہوتى، ليكن اللہ سبحانہ وتعالى نے اس نماز كى فرضيت ميں اپنے بندوں پر بہت آسانى پيدا فرمائى ہے، چنانچہ بندوں كے ليے سفر ميں نمازيں جمع اور قصر كرنى مشروع كى اور مشقت اور حرج كى صورت ميں حضر ميں نمازيں جمع كرنا مباح كيا.

اور مريض كے ليے مباح كيا كہ وہ اپنى حالت اور استطاعت كے مطابق بيٹھ كر يا كھڑے ہو كر يا پھر پہلو كے بل نماز ادا كرے، اس سے علم ہوا كہ روزى كمانا نماز ترك كرنے كے ليے عذر نہيں، ليكن عام عادت سے ہٹ كر مشقت ہو تو ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء كى نماز جمع تاخير يا تقديم كر كے ادا كرنى مباح ہے.

اور پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے تو نماز جمعہ كے ليے تجارت اور خريد و فروخت ترك كرنے كا حكم ديا، اور جن لوگوں كو تجارت اور خريدوفروخت اللہ تعالى كے ذكر سے غافل نہيں كرتى ان كى تعريف كى ہے.

ہمارے عزيز بھائى آپ بھى نماز پنجگانہ بروقت اور باجماعت ادا كرنے كى كوشش كريں اور اس كى حرص ركھيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" باجماعت نماز ادا كرنا انفرادى نماز سے ستائيس درجہ بہتر ہے "

اور آپ كو علم ہونا چاہيے كہ اللہ تعالى كى رحمت اور اس كى خوشنودى اور جنت كے حصول كے ليے نماز پنجگانہ سب سے بہترين اور عظيم سبب ہے، اور مطلب اعلى بھى يہى ہے، اس كے ساتھ ساتھ يہ رزق ميں آسانى كا باعث بھى ہے.

جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اپنے اہل و عيال كو نماز كا حكم ديں اور اس پر قائم رہيں، ہم آپ سے روزى طلب نہيں كرتے بلكہ تجھے روزى ديتے ہيں، اور اچھا و بہترين انجام متقي لوگوں كے ليے ہى ہے ﴾.

لہذا مسلمان شخص لوگوں سے اپنے رب كى عبادت كى كوئى اجرت نہيں ليتا، بلكہ وہ تو نماز اللہ تعالى كے ليے ادا كرتا ہے، اور روزہ اللہ كے ليے ركھتا ہے، اور حج اللہ كے ليے كرتا اور اللہ تعالى سے ثواب كى اميد ركھتا ہے.

اس ليے آپ كا يہ كہنا كہ: " جس طرح امام كو تنخواہ اور اجرت حاصل ہوتى ہے اس طرح ہميں نماز ادا كرنے كى اجرت نہيں ملتى "

يہ آپ كے تصور كى غلطى اور قول غلط ہے، كيونكہ امام كے ليے نماز كى ادائيگى پر اجرت لينى جائز نہيں، امام يا مؤذن حضرات اس ڈيوٹى كى اجرت ليتے ہيں جس كى بنا پر انہيں ہر وقت حاضر ہونا پڑتا ہے ( تا كہ وہ امامت و خطابت اور فتوى اور قضاء وغيرہ كے ليے فارغ ہو سكيں ) مسلمان كے ليے افضل اور بہتر يہ ہے كہ وہ امامت يا مؤذن كى ڈيوٹى بغير كسى اجرت كے دے اور اللہ تعالى سے اس كا اجروثواب حاصل كرے.

عزيز بھائى آپ كا يہ كہنا كہ: " ہمارے بيوى بچے اور خاندان ہيں .... " يہ بھى نماز ترك كرنے كا عذر نہيں بن سكتا، كيونكہ آپ كو نماز كى ادائيگى كے ليے كچھ نہ كچھ وقت ضرور نكالنا ہو گا، اور يہ وقت بالكل قليل ہے، چنانچہ ہر نماز كى ادائيگى اور اس كى تيارى كے ليے پندرہ منٹ سے زيادہ صرف نہيں ہوتے، اور اگر آپ روزى كمانے كى خاطر اگر كوئى نماز چھوڑ ديں تو ہم يقينى طور پر آپ كو كافر تو نہيں كہتے، ليكن اتنا ہے كہ ہم يہ يقين كے ساتھ كہتے ہيں كہ آپ كبيرہ گناہ كے مرتكب ہيں.

جواب كے شروع ميں بيان ہو چكا ہے كہ عام حالت سے ہٹ كر حاصل ہونے والى مشقت كى بنا پر ظہر اور عصر كى نماز جمع تقديم يا جمع تاخير كر سكتے ہيں، جيسا كہ ہم يہ بھى بيان كرتے ہيں كہ نماز فجر اس كے وقت ميں ادا كرنا ضرورى ہے، نماز فجر كا وقت طلوع فجر سے ليكر طلوع شمس تك ہے.

اللہ تعالى اپنى اطاعت و فرمانبردارى ميں ہمارى مدد ومعاونت فرمائے.

فضيلۃ الشيخ عبد الرحمن البراك
Create Comments