Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
9605

عورت كا امن وامان اور سيكورٹى ميں كام كرنا

كيا عورت مردوں كے ساتھ جھاد ميں شريك ہو سكتى ہے؟
اور عورتوں كے ليے سيكورٹى و امن امان كے معاملات ميں كام كرنے كا حكم كيا ہے ؟

تلوار اور اسلحہ كے ساتھ جھاد عورت پر فرض نہيں ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

ام المومنين عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كى اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا عورتوں پر بھى جھاد ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جى ہاں، ان پر ايسا جھاد ہے جس ميں قتال اور لڑائى نہيں، وہ حج اور عمرہ ہے"

اسے امام احمد نے مسند احمد حديث نمبر ( 24794 ) ميں روايت كيا ہے.

اور اس ليے بھى كہ عورتوں كا دفاع مردوں كے ذمہ ہے، لہذا مردوں كى طرح فوج ميں عورتوں كا ملازمت كرنا، اور عورتوں كى فوج تيار كرنا جائز نہيں، كيونكہ اس كے نتيجہ ميں كئى قسم كے ممنوعہ كام مرتب ہوتے ہيں، اور اس كا انجام اچھا نہيں ہوتا، جن ممالك نے اس كى اجازت دے ركھى ہے اس ميں يہ ممنوعہ كام بہت واضح اور واقعات موجود ہيں.

ليكن اگر فوج كو مرہم پٹى اور علاج معالجہ كى ضرورت ہو تو شرعى اصول اور ضوابط اور اسلامى آداب كو سامنے ركھتے ہوئے اگر عورتوں ميں اس كى مہارت ہو تو وہ ايسا كام كر سكتى ہيں.

اور اسى طرح پوليس اور امن و امان كے دوسرے محكمہ جات جن كا مردوں كے ساتھ تعلق ہو اس ميں عورت كى ملازمت بھى جائز نہيں، ليكن اگر عورتوں كے متعلقہ ہو مثلا عورتوں كى نگرانى، اور جيل ميں عورتوں سے تفتيش اور ائرپورٹ پر عورتوں سے پوچھ گچھ كے ليے ليڈيز پوليس قائم كرنا جائز ہے.

بلكہ بعض اوقات تو اس كى ضرورت ہوتى ہے، تو اس حالت ميں عورتوں كو ملازمت دينا واجب ہوتى ہے، تا كہ عورتوں كو مردوں كے ساتھ اختلاط پر مجبور نہ ہونا پڑے، اور وہ مردوں كے سامنے بے پرد نہ ہوں .

كتاب ولايۃ المراۃ فى الفقہ الاسلامى صفحہ نمبر ( 688 ).
Create Comments