Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
96644

كيا حاجى كے ليے قربانى كرنا مشروع ہے

كيا حج ميں ہم دونوں مياں اور بيوى ايك قربانى كريں يا كہ دو، اور كيا ہميں اپنےملك ميں بھى قربانى كرنا ہو گى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر آپ دونوں حج تمتع يا حج قران كر رہے ہيں تو پھر ہر ايك پر مستقل قربانى ہوگى، اور ايك بكرا ذبح كرنا كافى نہيں ہوگا؛ كيونكہ حج تمتع اور حج قران ميں قربانى واجب ہے اور دو شخص قربانى كرنےكى استطاعت نہ ركھتا ہو وہ دس روزے ركھےگا، تين روزے حج ميں اور سات اپنے گھر آ كر.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جو كوئى حج تمتع كرے، تو جو قربانى ميسر ہو اور جو قربانى نہ پائے تو وہ حج ميں تين روزے ركھے، اور سات روزے جب تم واپس آ كر ركھو، يہ پورے دس ہيں }البقرۃ ( 196 ).

ليكن اگر آپ نے حج افراد كيا ہے تو پھر آپ پر قربانى لازم نہيں، ليكن اگر آپ نفلى قربانى كرنا چاہيں تو كوئى حرج نہيں ايك يا اس سے زائد قربانى كر سكتے ہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے حج ميں ايك سو اونٹ قربان كيے تھے.

دوم:

رہا مسئلہ عيد قربان كے موقع پر كى جانے والى قربانى تو حاجى كے ليے يہ مشروع نہيں، بلكہ حاجى كے ليے تو حج كى قربانى جسے ہدى كہا جاتا ہے كرنا مشروع ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

حج اور عيد قربان كى قربانى كو كيسے جمع كيا جا سكتا ہے، اور كيا ايسا كرنا مشروع ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" حاجى عيد قربانى والى قربانى نہيں كريگا، بلكہ وہ تو ہدى دےگا، اسى ليے حجۃ الوداع كے موقع پر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عيد قربانى والى قربانى نہيں كى، بلكہ آپ نے ہدى دى.

ليكن اگر فرض كريں كہ كسى شخص نے اكيلے حج كيا اور اس كے بيوى بچے اپنے ملك ميں ہيں تو يہاں وہ اپنے گھر والوں كے ليے مبلغ چھوڑ جائے كہ وہ قربانى كا جانور خريد كر ذبح كريں، اور حاجى خود ہدى دے، اور اس كےگھر والے عيد قربان پى كى جانے والى قربانى كرليں.

كيونكہ عيد قربان پر كى جانے والى قربانى دوسرے علاقوں ميں كى جاتى ہے، اور مكہ ميں ہدى ہوگى " انتہى

ماخوذ از: اللقھاء الشھرى.

مزيد فائدہ كے حصول كے ليے آپ سوال نمبر ( 82027 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments