Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
97015

غصہ كى حالت ميں تين طلاق كى قسم اٹھائى

ميرى بيوى زيرتعليم ہے، ہمارے درميان اختلاف پيدا ہو گيا تو ميں نے تين طلاق كى قسم اٹھا لى كہ اگر وہ سكول گئى تو اسے تين طلاق، ميں نے يہ قسم حقيقى اٹھائى تھى اور ميرى نيت طلاق كى ہى تھى ليكن ميں شديد غصہ كى حالت ميں تھا كچھ ايام كے بعد ميں نے اپنى قسم سے رجوع كر ليا اور وہ اب تك سكول نہيں گئى برائے مہربانى مجھے اس سلسلہ ميں فتوى ديں كہ:
آيا بيوى كے سكول جانے كى صورت ميں اسے طلاق ہو جائيگى يا نہيں ؟
اور يہ بتائيں كہ قسم كا كفارہ لازم آتا ہے يا نہيں، ميں چاہتا ہوں كہ وہ اپنى تعليم مكمل كر لے ؟

الحمد للہ:

اول:

طلاق جيسے الفاظ ميں آدمى كى سستى اور تساہل بہت بڑى غلطى ہے، بعض اوقات خاوند كے نہ چاہتے ہوئے بھى يہ چيز خاندان كى تباہى كا سبب بن جاتى ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے طلاق اس ليے مشروع نہيں كى كہ اسے كھيل بنايا جائے يا پھر عورت كے جذبات سے كھيلا جائے.

بلكہ اللہ تعالى نے تو طلاق اس ليے مشروع كى ہے كہ آدمى اسے اس وقت استعمال كرے جب وہ كسى سبب كى بنا پر نكاح قائم نہ ركھ سكتا ہے تو نكاح كا يہ تعلق ختم كر سكے.

اس ليے مرد كے ليے ضرورى ہے كہ وہ اپنى زبان كى حفاظت كرے، اور اپنے آپ كو طلاق كے الفاظ سے دور ركھے، اور ايسى جگہ طلاق كے الفاظ استعمال نہ كرے جہاں استعمال كرنے كا حق نہيں، تا كہ اسے ايسے وقت ندامت نہ اٹھانى پڑے جب ندامت كا كوئى فائدہ نہ ہو.

دوم:

غصہ كى حالت ميں دى گئى طلاق واقع بھى ہوتى ہے نہيں بھى واقع ہوتى، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 45174 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے جس كا حاصل يہ ہے كہ:

وہ غصہ جو انسان كو اس كے شعور اور احساس سے باہر نكال دے اور اسے ادراك ہى نہ ہو كہ وہ كيا كہہ رہا ہے اس سے طلاق واقع نہيں ہوتى، اور اسى طرح وہ غصہ جس ميں انسان اپنے آپ پر كنٹرول نہ كر سكتا ہو، يعنى لمبے اختلاف اور لڑائى يا گالى گلوچ كى بنا پر.

سوم:

ايك ہى كلمہ اور مجلس ميں تين طلاق ايك ہى شمار ہوتى ہے مثلا: تجھے تين طلاق، يا مجھ پر تين طلاق اس سے ايك ہى طلاق واقع ہوگى اكثر اہل علم كے ہاں يہى اختيار كردہ ہے.

اس ليے جب غصہ اس حالت تك نہ پہنچے جس كى بنا پر طلاق ساقط ہو جاتى ہے، تو اس مسئلہ ميں ـ بيوى كے سكول جانے كى صورت ميں ـ ايك طلاق واقع ہو جائيگى، اور آپ كو عدت كے اندر اندر رجوع كرنے كا حق حاصل ہوگا.

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 36580 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments